ٹرانسجینڈر ایکٹ 2018 کے شیطانی وار

0 67

خالق کائنات نے دنیا کو وجود انسان سے مزین فرما کر ویرانیوں کو آباد کر دیا تاکہ نظام کائنات صحیح طور پہ استوار ہو سکے اور حقیقی معنوں میں رب کریم کی خالقیت کا تعین ہو سکے مخلوق خداوندی میں سے انسان کو اشرف المخلوقات کی اتھارٹی اسی بنیاد پہ عنایت فرما دی گئی کہ وہ خالق کائنات کی معرفت اور اسی کی تابعداری کو فروغ دے وگرنہ یہی انسان ابتر المخلوقات بھی ہو سکتا ہے باری تعالیٰ نے انسان کودو ہی جنسوں میں تقسیم کیا یعنی مرد و عورت اس حصار میں تیسری جنس کا کوئی وجود نہیں ہو سکتا البتہ اتنا ضرور ہے اندھا ،گونگا ،بہرا ،لنگڑا اور کسی بھی حادثے کی وجہ سے معذور انسان مجبور ضرور ہے مگر کسی تیسری جنس میں تقسیم نہیں کر سکتے الٰہی قوانین ہی ہماری اصل و منبع ہیں اسی طرح خواجہ سرا بھی رب کی مخلوق ہیں اب اگر ان میں کوئی معذوری رب کی ودیعت ہے تو بجائے ہم اس پہ کوئی کلام کریں ان کو تیسری جنس میں تقسیم کریں انکو الگ مخلوق گردانیں ، انکی تذلیل کریں ، انکو کم تر جانیں یا انکا استہزائ بنائیں یہ کسی بھی ذی شعور انسان کی شان نہیں خالق کی تخلیق پہ زبان سنبھال لیں شاعر لکھتا ہے اپنی ہی آستیں کے ہمیں ڈس رہے ہیں سانپانسان مٹ چکے ہیں یہاں بس رہے ہیں سانپانساں کے روپ میں ہیں کچھ حیوان یہاں پر?ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر?راجا نہیں رہا کوئی عزت کا تحفظ?محفوظ آدمی ہے نہ عصمت کا تحفظ?ہر حال کامیاب ہے شیطان یہاں پر?ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پرخواجہ سرا کو شرع نے بنیادی طور پہ جملہ حقوق دیئے ہیں اس کی تفصیل فقہ کی معتبر و مستند کتب میں درج ہے بودوباش سے لیکر تعلیم و وراثت بلکہ تجہیز و تکفین تک تمام امور فقہائ نے ذکر فرمائے وہ خواجہ سرا جس میں علامات عورت ہوں وہ عورت کے حکم میں ہے اور وہ خواجہ سرا جس میں علامات مرد ہوں وہ مرد کے حکم میں ہے اور ایسے خواجہ سرا جن کا معاملہ مشتبہ ہو یعنی مرد و عورت دونوں سبیلیں رکھتا ہو یا دونوں اصلا نہ ہوں اب اسکا کیا حکم ہے فقہائ بالخصوص امام اعظم نے فرمایا بول و براز جس سبیل سے پہلے ہو گا اسی کے حکم میں ہو گا اور اگر بول و براز بھی برابر آتا ہو تو امام نے فرمایا یہی مشتبہ ہے جبکہ صاحبین فرماتے ہیں بول و براز میں برابری کی صورت میں کثرت بول کا اعتبار ہو گا یعنی جس سبیل سے زیادہ بول ہو گا اسی کا حکم لگے گا اندازہ لگائے ائمہ احناف اس قدر اس معاملے کی گہرائی میں گئے ہیں شرع نے کس قدر خواجہ سراو¿ں کو حقوق دیئے مگر معاملہ یہ ہے کہ بے حس سماج نے انکو اذل الذلیل سمجھا اولین قصور وار آپنے قریبی لوگ ہیں والدین ،بہن ،بھائیوں نے دھتکار کر گرو کے حوالے کر دیا ذلت کی بنیاد رکھ ڈالی جو گناہوں کی چکی میں انکو پیستے رہتے ہیں پیشہ وارانہ بھیک اور رقص و سرور انکا مقدر بن جاتا ہے جن کا اوڑھنا بچھونا بے حیائی و فحاشی بن جاتی ہے سوال پھر وہیں لوٹ آتا ہے کہ پہلے انکو گھر والوں نے دھتکارا پھر پست سماج نے کمی و بیشی پوری کر دی خنثی مشکل کو جملہ حقوق ملنے چاہیں اس پہ تو تمام حلقے متفق ہیں اب سوال یہ ہے کہ ٹرانس جینڈر کی اصطلاح کیا ہے اور اس سے مراد کیا ہے اس میں کونسے کونسے لوگ شامل ہیں ٹرانس جینڈر کی اصطلاح ہمارے موجودہ قانون (جو اپرووڈ ہو چکا )کی رو سے تین طبقات کو شامل ہے اول وہ طبقہ جو حقیقی معنوں میں اس کے مستحق ہیں یعنی وہ لوگ جن کے جنسی اعضاءاصلا نہ ہوں یا مرد و عورت دونوں سبیلیں رکھتے ہوں دوسرا وہ طبقہ جو کسی حادثے میں یا مصنوعی طور پہ جن کے اعضائے جنسی ختم کر دیئے گئے ہوں خواجہ سرا کہلائے جا سکتے ہیں تیسرا طبقہ وہ اوریجنل مرد و عورت جن کی فیلنگ اور حرکات و سکنات برعکس جنس ہوں یعنی مرد اندرونی طور پہ فیلنگ عورت کی رکھتا ہو اور اندرونی خواہش رکھتا ہو کہ مجھے عورت ہونا چاہئے تھا اسی طرح عورت کا معاملہ جو مرد کی فیلنگ رکھتی ہو اور مرد بننا اور دکھنا چاہتی ہو اس قانون کے خلاف خواجہ سرا خود احتجاج کر رہے ہیں ایسا قانون جو انکو تحفظ دینے کے بجائے انکے حق پہ ڈاکہ ڈالنے کے لیئے بنایا گیا ہو اس مظلوم طبقے کو مزید دیوار سے لگانے کی ناکام کوشش کی گئی ہو مزید ان کی آڑ میں معاشرتی ،خاندانی نظام کا قلع و قمع مقصود ہو یہ ہے اصل مقصد اس کالے قانون کا جس میں نارمل مرد و عورت اپنی جنس تبدیل کرا سکتے ہیں وہ بھی بغیر کسی میڈیکل بورڈ اور کسی پلینگ اتھارٹی کے جس کا جی چاہے نادرا میں جا کر اپنی جنس سے برعکس ڈیکلیئر کرے اور نادرا اس شیطانی خواہش کا پابند ہو گا اس کالے قانون کی وسعت اس قدر ہے جہاں عقل سلیم دنگ رہ جائے اتنی خرابیاں ہیں جو قابل بیان
نہیں خلاصہ یہ ہے اخلاقی اقدار جو پہلے ہی ہم مصنوعی مسلمانوں سے نکل چکی ہیں مزید سونے پہ سہاگہ اس کالے قانون نامی بلنڈر نے تمام حدیں پار کر دیں اب مرد مرد سے اور عورت عورت سے بغیر کسی جھجک و ڈر کے شادی کر سکیں گے ہم جنس پرستی کے فروغ میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آئے گا جو اللہ و رسول کی تعلیمات کے خلاف اعلان جنگ ہے خوش آئند بات یہ ہے کہ مذھبی حلقوں اور عوام نے اس بل کے خلاف الارمنگ جاری کر دی ہے پر امید ہیں کہ بہت جلد اس بے ہودہ ایجنڈے کی تنسیخ ہو جائے گی یا کم از کم اس کو صرف خواجہ سرا کی حد تک محدود رکھا جائے گا

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.