ضمیروں کے سوداگر

0 48

مذمت کرتے ہیں بہت برا ہوا افسوسناک واقعہ تھا گرفتار کیا جائے اچھا نہیں ہوا انتظامیہ ناکام ہوگیا دور حاضر کے چند فقرے جو ہمیشہ بے اختیار زبان سے نکل جاتے ہیں اور لکھتے ہوئے بے اختیار قلم سے نکلتے ہیں مگر عمل کی فقدان ہیں انسانیت کے جنازہ کم ازکم اس سرزمین سے نکل گیا ہے انسانیت مرگئی ہے انسان انسان نہیں رہے ہے زندہ اور بے بس لاشوں اور لاپرواہوں کے سرزمین کو پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ہیں چند دن پہلے رات گئے چند جرائم پیشہ افراد نے ایک گھر پر حملہ کرکے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرکے عورتوں اور بچوں کو آنسو گیس نما اسپرے کی بزرگوں اور بچوں کو زدہ کوب کیا ایک انتہائی شریف اور معزز انسان کو اپنے ساتھ اغوا کرکے لے گئے ابھی تک پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں گیا اور کس حال میں ہیں اسکا کوئی ہتہ پتہ نہیں ہم مذمت کر کرکے تھک ہی گئے تھے ایک اور دل دہلا دینے والے واقعہ رونما ہوا کل صبح ایک بچہ غائب ہوا جو پیشے سے چروایا تھا دس سال کے لگ بھگ عمر کی بچہ تھی جو شام تک گھر نہیں پہنچا تو اسکے والدین نے محلہ والوں کو اطلاع دی کہ ہمارا بچہ غائب ہیں اہل علاقہ نے بچے کو رات بھر ڈھونڈتے رہے مگر نہیں ملا صبح جب دوبارہ بچے کی تلاش شروع ہوئی ملا تو ایسے ملا پورے انسانیت کو سوگوار کرگئی چند انسان نما ظالم اور درندوں نے بچے کو آغوا کرکے آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے انسانیت سوز طریقے سے سنگسار کرکے قتل کی تھی اور
بچے کی لاش بھاری پھتروں سے ڈھانپ دی تھی انتظامیہ حسب معمول اپنے کارکردگی کو ایک فارمیلٹی ثابت کرکے بچے کے لاش کو ہسپتال پہنچایا اور ایسے غائب ہوئے جیسے اسکے اس علاقہ انسانیت اور انسانوں سے کوئی واسطہ نہیں ہیں انہیں رب کریم تعالیٰ کو کوئی جواب دینا نہیں ہیں انہوں نے بچے کے غریب لواحقین کو دیکھ کر یہ اندازہ لگائے بیٹھ گئے کہ ہم نے ان غریبوں پر ایک احسان
کرکے لاش کو اپنے گاڑی میں ہسپتال پہنچایا کیونکہ شہید بچہ ایک انتہائی غریب اور بے بس خاندان سے تعلق رکھتا تھا شاہد اندازہ لگانے اور سوچنے والوں نے سوچا ہوگا کہ اس بچے کا ہم سے کوئی پوچھے گا نہیں ان غریبوں کا پہنچ اور دسترس ہر اہل اختیار کے گردن سے دور ہیں اس بات کا پتہ مجھے اس وقت چلا جب میں ہسپتال پہنچا وہاں اس وقت حالات کم ازکم میرے آنکھوں کے دیکھنے کی قابل نہیں تھے بچے کے والدین شدت غم سے نڈآل اور شرابور تھے انکی چیخیں آسمانوں کو چیر کر سننے اور دیکھنے والے تک پہنچ رہے تھے ہم نے انہیں صرف جھوٹے تسلیاں اور دلاسے دے سکتے تھیں ہم نے انکے دکھ کو کم نہ کرسکے کیونکہ مذمت کرنے والے اس وقت ہسپتال میں نہیں تھے انتظامیہ سونے چلا گیا تھا پوسٹ مارٹم کرنے کوئٹہ جانے اور تیل کیلئے انہیں اپنے آپ سے چندہ کرنا پڑا بالآخر وہ جیسے بھی کرکے بچے کے لاش اپنے ارمانوں کیساتھ کوئٹہ لے تو گئے مگر ہم مذمت کرنے اور یااللہ خیر استغفر اللہ اور جنت نصیب کرنے کی دعا کرنے والوں کے لیے کئی سوال چھوڑ گئے ہم کھبی 5000 روپے چوری کرنے والوں کے لیے کھوجی کتے اور پیروں کے نشان شناخت کرنے والے ایکسپرٹس کے خدمات حاصل کرنے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں یہاں ایک انسان کی انسانیت سوز قتل ہوئی تھی سوائے مذمت کے ہم ہیں کس کام کے کیا ہم میں واقعی انسانیت مرگئی ہیں کیا ہم صرف شہرت کے شکار ہیں کیا ہم نام کے پجاری تو نہیں ہیں نام کے تلاش میں ہم نے تو اپنا بسیمہ کھودی ہیں یہ بسیمہ میرے باپ دادا کا بسیمہ ہرگز نہیں ہیں اس وقت ہم نام کے پجاری نہیں تھے ہم انسان تھے
انسانیت تھا اب مذمت ہیں اور کچھ نہیں ایسے واقعات کا نوٹس عدالتیں وزرائ اعلیٰ وزیر اعظم اور صدر لیتے ہیں مگر ہم تو گونگے ہیں ہمیں سنے گا کون ہم پر انتظامیہ اور افیسران بھی ہمارئے طرح کی مسلط ہیں کیا بسیمہ کے انتظامیہ پیروں کے نشانات کا ٹیسٹ نہیں کروا سکتی تھی کیا کسی ایکسپرٹ کی خدمات حاصل نہیں کی جاسکتی تھی کھوجی کتے نہیں لایا جاسکتا تھا جیسے قاتلوں نے سوچا ہوگا ہمارئے انتظامیہ نے ایسے کارکردگی دکھائی معتبرین ویسے کام کے نہیں رہ گئے سیاسی پارٹیاں مفادات نام اور پہچان کے پجاری نکلے لکھنے والوں نے ضمیر کھودی اور ہم رہ گئے صرف مذمت کرنے والےسرور جان کے دردناک قتل کے مذمت کرتے ہیں بس چند دن کے بیانات کے ایجنڈا جو اس معصوم نے خود چل کر نام کے پجاریوں کو عطائ کردیئے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.