حکومت گراو مہم کی اصل کہانی

0 177

تحریر۔مہرمحمدحسنین ہراج
لاہورجلسے میں ناکامی کے بعدتحریک پی ڈی ایم کی مایوسی میں اب اضافہ ہوتادکھائی دے رہاہے۔اس جلسے میں ایک جم غفیراورعوام کی متوقع آمدنہ ہونے کیوجہ سے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے محموداچکزئی نے حکومت کی بجا? الٹازندہ دلان لاہورکوہی تنقیدکانشانہ بناڈالامریم نوازصاحبہ نے ایک میٹنگ میں اپنے پارٹی رہنماو ¿ں پرغم وغصہ نکالاتودوسری طرف عمران خان صاحب نے فروری میں سینٹ کے الیکشن کاعندیادے کرپی ڈی ایم کومزیدجھٹکادے ڈالا۔مگراس کے باوجودپی ڈی ایم نے اپنی پالیسیوں پرنظرثانی کرتے ہوئے دوسرے مرحلہ کی تیاری کیلئے منظم ہونے کی کوششیں تیزترکردیں ہیں جلسوں کے بعدلانگ مارچ بھی ہوگاشائددھرنابھی ہوگااستعفے بھی ہونگے جوپارٹی سربراہان کوجمع کروانے کاسلسلہ شروع بھی ہوگیاہے پھراستعفوں کے تمام بنڈلز مولاناصاحب کی جھولی میں ڈال دیے جائیں گئے جنہیں پیش کرنے کافریضہ مولانافضل والرحمان صاحب ہی اداکریں گے یہ ہے تحریک پی ڈی ایم کی کل کہانی جس کے رائٹراورہدایت کارمیاں نوازشریف اورکچھ معاونت آصف علی زرداری صاحب کی بھی ہے۔مولاناصاحب مریم نوازصاحبہ اوربلاول بھٹوزرداری صاحب اس کہانی میں مرکزی رول اداکررہے ہیں۔حکومت گرانے کی اس پہلی ڈرامائی سیریل کالاہورجلسے میں ناکامی کے ساتھ ہی اختتام ہوچکاہے۔ میرے مطابق نوازشریف کی طرف سے لکھی گئی اس کہانی پرمکمل عمل نہی ہوگاکیونکہ استعفوں کی سیاست پرآصف علی زرداری اورشہبازشریف یقین نہی رکھتے شہبازشریف اوربلاول بھٹوزردای کی دوطرفہ ملاقات میں انکشاف ہواہے کہ شہبازشریف نے نہ صرف استعفوں کی سیاست کومسترد کردیاہے بلکہ پی ڈی ایم کے بیانیے کی بعض شقوں سے بھی اختلاف کیاہے۔ معتبرذرائع سے پیپلزپارٹی کی اندرونی کہانی کی جواطلاع ملی ہے وہ یہ ہے کہ آصف علی زرداری نے استعفوں کی سیاست سے علیحدگی اختیارکرتے ہوئے مارچ میں منعقدہونے والے سینٹ الیکشن کی تیاریاں بھی شروع کردی ہیں چھوٹی بڑی گیارہ جماعتوں کی سپانسرشپ سے چلنے والی اس کہانی کی بقایافلاپ عکس بندی عوام پرجلدہی منکشف ہونے والی ہے۔ تحریک پی ڈی ایم کے نام سے چلنے والی اس سیریل کامنطقی انجام جوہوگا سوہوگا مگراس سے پہلے جوغورطلب بات ہے وہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی بڑی اتحادی جماعت مسلم لیگ ن جس کے سربراہ نوازشریف جومسنداقتدارپرتین مرتبہ فائزرہ چکے ہیں۔دوسری طرف پیپلز پارٹی کے سرپرست اورچیف ایگز یکٹو آصف علی زرداری صاحب اورجے یوآئی کے سربراہ مولانافضل والرحمان صاحب یہ بھی کئی مرتبہ اقتدار کے میٹھے ذائقہ کامزہ لے چکے ہیں۔مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ان دونوں بڑی جماعتوں کے سابقہ حکمران جوپچھلے چالیس پچاس سالوں سے پاکستانی سیاست و جمہوریت میں سیاہ وسپید کے مالک رہے ہیں۔اتنے طویل عرصہ بعدعوام نے حکومت کیلئے تیسری جماعت اورعمران خان کووزیراعظم منتخب کرنے کی جسارت کربھی لی ہے۔توکون سی پاکستان پرقیامت ٹوٹ پڑی ہے۔یاکون سابہت بڑاظلم ہوگیاہے جوسابقہ حکمرانوں کیلئے ناقابل برداشت بنتاجارہاہے۔یہاں پرایک بہت ہی اہم سوال جنم لیتاہے کہ جن لوگوں کی زندگیاں اقتدارکے ایوانوں میں گذرگئیں اوردولت کے بھی انبارلگالئے تواب وہ کونسی کمی رہ گئی ہے جونوازشریف آصف علی زرداری اورمولاناصاحب کیلئے پوری کرناآکسیجن کی طرح ضروری سمجھی جارہی ہے۔چلومان لیامہنگائی کاطوفان بھی ہے کیاسابقہ ادوارمیں ایسے طوفان نہی آ? چلومان لیابدامنی اورناانصافی بھی ہے کیاسابقہ ادوارمیں انصاف اورامن کسی کونصیب ہواچلومان لیاقتل وغارت گری چوری اورڈاکہ زنی بھی عام ہے کیاسابقہ ادوارمیں اسطرح کے عمل رونمانہی ہوئے چلویہ بھی مان لیتے ہیں کہ حکومتی جانب سے احتساب مقدمات اور پکڑدھکڑکاعمل جاری ہے کیاسابقہ ادوارمیں اس طرح کی کاروائیاں نہی ہوئیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوتی رہیں ہیں اگریہ سب کچھ سابقہ دورحکومتوں میں ہوتارہاہے۔توپھران تینوں بڑی جماعتوں کے درمیان وہ کونسے اہم ایشوزہیں جنہیں اپوزیشن جماعتوں نے زندگی اورموت کامسئلہ بنالیاہے۔ بڑے بڑے فلاسفر، دانشور، میڈیا اینکر زحتی کہ اپوزیشن جماعتیں اورحکومت کی طرف سے این آراوکافلسفہ بیان کیاجارہاہے۔یہ میری سمجھ میں نہی آرہامیں ڈنکے کی چوٹ پریہ بات کہوں گاکہ این آراوتوعمران خان صاحب ان جماعتوں کوکب کادے چکے ہیں۔ نوازشریف کوباہرلندن بھیج دیاہے۔ آصف علی زرداری کورہائی مل گئی ہے۔شہبازشریف نے خودگرفتاری دی ہوئی ہے باقی رہیں عدالتی تاریخیں تووہ باقی اڑھائی سالوں میں انہی بھگتناپڑیں گی توکون سی وہ سختی اورظلم ہے جس کیلئے اپوزیشن جماعتیں ہاتھ پاو ¿ں ماررہی ہیں مہنگائی اوربے روزگاری سے تنگ عوام کیلئے ہمدردی تویہ ہے نہی اس بات کوتواب ہربندہ سمجھ رہاہے۔توسن لومیری اس بات کوپوری قوم سمجھے اگران گزشتہ اڑھائی سالوں میں عمران خان نے انہیں کچھ نہی کہااورنہ ہی لوٹی ہوئی دولت واپس لی ہے توآئندہ اڑھائی سالوں میں بھی کچھ نہی کہے گااصل بات یہ ہے کہ عمران خان صاحب چائنااورترکی بلاک میں شامل ہوگیاہے۔جوکسی بھی صورت امریکہ اورسعودی عرب کوگوارانہی اسی لئے توبیرونی طاقتوں کاجھکاو ¿بھی اپوزیشن کیطرف ہے اوروہ ایک دن بھی عمران خان کی حکومت کوبرداشت کرنے کیلئے تیارنہی یہ توبیرونی طاقتوں کے مقاصدہوگئے دوسری بات یہ ہے کہ عمران خان انتخابی اصلاحات کیلئے الیکٹرول سسٹم کے زریعے متناسب نمائندگی کانظام اورکئی دیگراصلاحات لاناچاہتاہے۔جس کاوہ بلدیاتی انتخابات کیلئے تواعلان کربھی چکاہے مگرقومی اورصوبائی الیکشن کیلئے متناسب نمائندگی کانظام سابقہ حکمران جماعتوں کیلئے قیامت کے مترادف ہے انہیں خبرہے اس نظام کے تحت ہماری توچھٹی ہوہی جا? گی مگرہماری اگلی نسلوں کوسخت دشواری کاسامنا کرناپڑےگا وزیر داخلہ شیخ رشیدصاحب نے سینٹ الیکشن کے بعداس بہت بڑی تبدیلی کاعندیہ بھی دے دیاہے۔اب قابل غوریہ بات ہے کہ بیرونی طاقتوں اوراپوزیشن جماعتوں کامشترکہ ٹارگٹ عمران خان بن گیاہے۔اس لئے اندرونی اوربیرونی دھڑے مل کرعمران خان کی سیاست واقتدارسے ہمیشہ کیلئے چھٹی کرواناچاہتے ہیں اگرعمران خان صاحب اندرونی اوربیرونی دھڑوں میں سے کسی ایک کی بھی مان لیں توحکومت کیلئے آسانیاں پیداہوسکتیں ہیں۔ مگرعمران خان ایساہرگزنہی کرے گاتوپھرایسی صورت میں ممکن ہے عمران خان کوسخت دشواری کاسامناکرناپڑے حکومت گراو ¿مہم کی اصل کہانی یہی ہے کہ اندرونی اوربیرونی طاقتوں نے مل کر موجودہ فرسودہ نظام کوہرحال میں بچاناہے۔تاکہ دھن دھونس دھاندلی کے ذریعے من مرضی کی حکومت سازی ہوتی رہے۔اوراپنے مفادات کایقینی طورپردفاع بھی ہوتارہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.