پاکستان کا بیڑہ غرق ہی ایمنسٹی نے کیا ہے، جسٹس فائز

0 33

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی کے خلاف کسٹمز کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایمنسٹی دینے کا اختیار پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کو حاصل ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لیکن آپ یہ جواب نہیں دیتے کہ گاڑی آئی کیسے؟ آپ کی استدعا یہ ہونی چاہیے کہ آپ اپنے ٹیکس وصول کریں لیکن آپ گاڑی کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کسٹمز وکیل سے کہا کہ آپ سو رہے ہیں یا اپنی پوسٹیں بیچ رہے ہیں، گاڑی کوئی جیب میں ڈال کر نہیں لاتا اور نہ ہی اڑ کر آتی ہے، جب گاڑی آ جاتی ہے تو اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، گاڑی آئی کیسے اس کا کوئی جواب نہیں، آپ ذرا چمن بارڈر پر جائیں اور دیکھیں گاڑی کیسے آتی ہے۔
کسٹمز کے وکیل نے کہا کہ اس حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے، اگر ایک گاڑی غیر قانونی طریقے سے آتی ہے تو وہ کسٹمز کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی کے خلاف کسٹمز کی اپیل کی سماعت کی۔

پاکستان کسٹمز نے 1998 ماڈل کا ہینو ٹرک 2018 میں پکڑا تھا۔ اپیلٹ ٹربیونل نے فیصلہ پاکستان کسٹمز کے خلاف دیا تھا، جسے کسٹمز نے چیلنج کیا تھا۔

دوران سماعت کسٹمز ایمنسٹی اسکیمز کا حوالے دینے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بیڑہ غرق ہی ایمنسٹی نے کیا ہے، ون ٹائم ایمنسٹی کوئی سو بار ہو چکی ہے، ہر ادارہ ایمنسٹی دے رہا ہے، ہم نالائق ہیں گاڑیاں روک نہیں سکتے اس لیے ایمنسٹی دے رہے ہیں، ہم ایف بی آر سے ڈیٹا منگوا لیتے ہیں آج تک کتنی ایمنسٹی دی ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سونا، چاندی کی اسمگلنگ کی تو سمجھ آتی ہے گاڑی کیسے اسمگل ہو سکتی ہے؟ ابھی اسلام آباد کی سڑکوں پر عجیب نمبر پلیٹ والی گاڑیاں چل رہی ہیں، یہ گاڑیوں والے شاید بہت طاقتور لوگ ہیں نہ کسٹمز والے چیک کرتے ہیں نہ پولیس، آپ نے قانون کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے، برطانوی وزیراعظم کا سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کیوجہ سے چالان ہو گیا، برطانوی وزیراعظم نے اپنے عمل پر معافی بھی مانگی، آپ اپنے وزیراعظم تو دور کسی ڈی سی یا سی ڈی اے افسر کا چالان کر کے دکھائیں۔

عدالت نے گاڑی ضبط کرنے کی پاکستان کسٹمز کی اپیل مسترد کردی۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.