مسجد نبویﷺ کی زمین ابوبکر صدیق ؓ نے کتنے میں خرید کر وقف کی(18)

0 32

نور حسین افضل
اسلامک اسکالر، مصنف، کالم نویس
صدر: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (مشرق وسطی)
آٹھ روز کے سفر کے بعد آنحضرتﷺ آٹھ ربیع الاول سنہ 14 نبوی کو دوپہر کے وقت قباء کے قریب پہنچے۔ قباء مدینہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے، اور وہ مدینہ کا ایک محلہ ہی سمجھا جاتا تھا۔ وہاں قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے لوگ بکثرت آباد تھے، اور روشنی اسلام سے منور ہو چکے تھے۔ جب نبی کریمﷺ قباء پہنچے، تو تمام قباء میں جوش و مسرت کا ایک شور مچ گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہ خیال فرماکر کہ لوگوں کو رسالت مآبﷺ کے پہنچانے میں شبہ نہ ہو، کہ رسول اللہﷺ کون سے ہیں۔ فوراً آپﷺ کے پیچھے آ کر چادر سے آپ کے اوپر سایہ کیا، جس سے آقا اور خادم کی پہچان بآسانی ہونے لگی۔
آپ قباء میں پیر کے دن داخل ہوئے، اور جمعہ تک یہیں مقیم رہے۔ رسالت مآبﷺ حضرت کلثوم بن ہدم ؓ کے مکان میں اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ حضرت حبیب بن اساف ؓ کے مکان میں فروکش ہوئے۔ حضرت سعد بن خثیمہ ؓ کے مکان میں نبی کریم مجلس فرماتے۔ یعنی لوگ حضرت سعد بن خثیمہ ؓ کے مکان میں آ کر نبی کریمﷺ کی زیارت کرتے، اور رسالت مآبﷺ کے گرد مجتمع رہتے۔ قباء میں آپﷺ نے چند دنوں میں ہی ایک مسجد کی بنیاد رکھی، اور یہ سب سے پہلی مسجد تھی، جو اسلام میں بنائی گئی۔ اس کے بعد 12ربیع الاول جمعہ کے روز آپ قباء سے روانہ ہو کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔
(تاریخ اسلام جلد اول از محمد اکبر شاہ نجیب آبادی صفحہ 125 تا 127)
وہ جگہ جہاں نبی کریمﷺ کی اونٹنی بیٹھی تھی، رافع بن عمر کے دو یتیم بیٹوں سہل اور سہیل کی مالکیت تھی، اور وہ دونوں اسعد بن زرارہ کے زیر کفالت تھے، اس جگہ کھجوریں فروخت کرتے تھے، آنحضرتﷺ کی تشریف آوری سے پہلے وہاں مسلمان نماز پڑھتے تھے، اور اسعد بن زراہ ان کی امامت کرتے تھے۔ آقائے دو جہاںﷺ نے پوچھا، یہ زمین کس کی ہے؟ لوگوں نے بتایا یہ سہل اور سہیل کی مالکیت ہے۔ اسعد اور اس کے زیر کفالت بچوں نے دل و جان سے وہ زمین بلا قیمت دے دی، لیکن آنحضرتﷺ نے اسے قبول نہیں فرمایا، بلکہ دس مثقال سونا کے عوض اسے خریدا، اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے حوالے کیا۔ انہوں نے وہ قیمت ادا کر دی۔
(معارج النبوۃ فی مدارج الفتوۃ جلد مصنف ملا معین واعظ الہروی مترجمین علامہ اقبال احمد فاروقی، حکیم اصغر احمد فاروقی سوم صفحہ 29)
حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے مال سے اس جگہ کی قیمت رسالت مآبﷺ نے ادا فرمائی۔
(سیرت مصطفٰی از علامہ عبد المصطفٰی اعظمی صفحہ 181)
رسالت مآبﷺ اپنے دست مبارک سے مسجد کی بنیاد ہیں۔ اس کی تعمیر میں نبی کریم ﷺ نے دیگر صحابہ کرام کے شانہ بشانہ کام کیا۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بھی مسجد کی تعمیر میں پیش پیش رہے، اور اپنی کمر پر پتھر رکھ کر لاتے تھے۔ ابتدا میں مسجد نبوی انتہائی سادہ بنائی گئی۔ دیواریں پتھر اور گارے سے بنائی گئیں، اور چھت کھجور کے پتوں کی بنائی گئی۔
(سیرت سیدنا ابو بکر صدیق از محمد حسیب قادری صفحہ 41)

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.