کوئٹہ :حکومت مدارس کی مقدس اجتماعیت کو نئے بورڈز کے ذریعے تقسیم کرنا چاہتی ہے : مولانا عبد الرحمن

جس مدرسہ کی بنیاد سب سے پہلے پڑی تھی وہ رحم للعالمین کی زیر سرپرستی صفہ کے نام سے قائم ہوئی تھی،

0 0

کوئٹہ :حکومت مدارس کی مقدس اجتماعیت کو نئے بورڈز کے ذریعے تقسیم کرنا چاہتی ہے : مولانا عبد الرحمن

(ڈیلی صحافت کوئٹہ ویب ڈیسک )

جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبد الرحمن رفیق مولانا مفتی محمد روزی خان مولاناقاری مہر شیخ مولانا احمد جان نے مختلف مدارس کے سالانہ جلسہ دستاربندی کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مدارس کی مقدس اجتماعیت کو نئے بورڈز کے ذریعے تقسیم کرنا چاہتی ہے مغرب کی خوشنودی کیلئے ریاستی مشینری نے مدارس کے خلاف چیرہ دستیاں جاری رکھی ہوئی ہیں حالانکہ مدارس اسلامیہ پاکستان کی بقاء وسالمیت اور اسلامی شناخت کی ناگزیر قوت ہے اس سے انکار کرنے والے دراصل وطن عزیز کی اساس اور بنیاد کے انکاری ہیں ،

جس مدرسہ کی بنیاد سب سے پہلے پڑی تھی وہ رحم للعالمین کی زیر سرپرستی صفہ کے نام سے قائم ہوئی تھی،

ہر ڈکٹیٹر نے مدارس اسلامیہ کے خلاف سازشیں کیں آج عمران نیازی کو بھی مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے لایا گیا انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں جس مدرسہ کی بنیاد سب سے پہلے پڑی تھی وہ رحم للعالمین کی زیر سرپرستی صفہ کے نام سے قائم ہوئی تھی، رحم جس کا کام، سلامتی جس کا اعلان اور تحفظ جس کا نظام تھا، اسی روشنی سے جلاپانے والے ہزاروں مدارس دینیہ گزرے دور سے لے کر آج تک اسی اساس پر قائم ہیں برصغیر پاک وہند میں دینی مدارس بھی اسی نظام امن کے پیامبر اور محافظ ہیں،

دینی مدارس کی بنیاد ہی امن وسلامتی کے عنوان سے بنی ہے انہوں نےکہ اجتماعی اقدار کی تشکیل میں دینی مدارس کے بنیادی کردار سے انکار وہ لوگ کررہے ہیں کہ پوری دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں ان کی ایک یونیورسٹی بھی شامل ہے فواد چوہدری سمیت نیازی کی کابینہ کے وزراء دینی مدارس اور ان کے طلباء کو کمتر سمجھتے ہیں حالانکہ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے امین مدارس اور دینی طلباء ہیں جن بنیادوں پر ان کا قیام عمل میں آیا ہے

اس کا نتیجہ اور ہدف صالح اقدار کی تشکیل و تعمیر ہے، بہترین علماء، صاحب کردار فضلاء اور انسانیت کے علمبردار، حاملین اسلام کی پیداواری اور معاشرہ کی برائیوں، قباحتوں اور داخلی شورشوں کا انسداد ہے درحقیقت ان مدارس کا جو اساسی منثور اور بنیادی ہدف ہے وہ ہے عالمی ضرورتوں کی اسلامی تکمیل یہی وہ دائرہ ہے جس کے تحت سارے مدارس کا وجود عمل میں آیا ہے، گویا اپنے عمومی اور اساسی مفہوم میں مدارس دینیہ کی تاسیس عالمی ضرورتوں کی اسلامی تحصیل و تکمیل اورانسانی احتیاجوں کی بھرپائی ہے۔ یہی مدارس کا خاص ہدف ہے

اور عام ہدف بھی، ان سے گریز، یا دامن کشی، اپنی اساس سے اعراض ہوگا، اوراگرایسا ہے تو واقعی یہ المیہ ہے ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ، حقائق کا صحیح اور مناسب جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہمارے دینی مدارس اپنے اساسی منشور کی روشنی میں حریت اور آزادی کا درس دے رہے ہیں اس کے خلاف کسی قوت کی اوچھے ہتھکنڈے اور سازش کو قبول نہیں کیاجائے گا

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.