طالبان کا خوف، افغان نسلی اقلیتیں دفاع کے لیے ملیشیا تشکیل دینے لگیں

1 62

کابل(ویب ڈیسک)افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد مسلح ملیشیائوں کی تشکیل کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ملک میں نسلی اقلیتوں نے طالبان کے حملوں سے بچنے کے لیے اپنی اپنی عسکری ملیشیا اور مسلح گروپ بنانا شروع کر دئیے

۔امریکی اخبارکے مطابق طالبان کی جانب سے میدان جنگ میں تیزی سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے جلو میں افغانستان کی ہزارہ برادری نے ایران کی طرف سے شام کے لیے تشکیل کردہ فاطمیون ملیشیا پر انحصار کرنا شروع کیا ہے۔ فاطمیون ملیشیا کے کچھ ارکان کو ٹریننگ دینے کے بعد یمن بھی بھیجا گیا۔ اس طرح ایران کو افغان سر زمین پر قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے۔امریکی اخبار میں شائع مضمون میں کہا گیا کہ ہزارہ، افغانستان میں ایک مظلوم اقلیت ہے جسے طالبان

اور دوسرے شدت پسند گروپوں کی طرف سے مستقل خطرہ لاحق ہے۔ اپریل میں اس اقلیت نے عسکریت پسندوں کو متحرک کرنے اور انہیں ملیشیا میں ضم کرنا شروع کیا تھا تاکہ افغانستان میں طالبان اور داعش کے خلاف ہزارہ علاقوں کا دفاع کیا جا سکے۔اس ملیشیا کے کمانڈر نے بتایا کہ اب وہ “خود تحفظ گروپ” کے نام سے سات علاقوں میں 800 مسلح افراد کی کمان کرتے ہیں۔ کمانڈر نے مزید کہا کہ ہزاروں کو شہروں اور شاہراہوں پر مارا جا رہا ہے لیکن حکومت ان کی حفاظت نہیں کر سکتی ہمارے پاس اپنی حفاظت کے لیے بہت کچھ ہے۔

You might also like
1 Comment
  1. […] ڈیسک)طالبان نے افغانستان میں مبینہ طور پر قتل کیے جانے والے افغان […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.