دی ہوپ ہائیر سیکنڈری اسکول میرواہ گورچانی کے زیر اہتمام واک کا اہتمام

0 27

میرواہ گورچانی(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق یم عالمی خواندگی کے موقع پر سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام چلنے والے میرواہ گورچانی کے معروف تعلیمی ادارے دی ہوپ ہائیر سیکنڈری اسکول میرواہ گورچانی کے زیر اہتمام واک کا اہتمام کیا گیا۔واک میں اسکول کے طلباء و اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی-واک کے شرکاء دی ہوپ ہائیر سیکنڈری اسکول سے شجاع آباد پریس کلب میرواہ گورچانی پہنچے -طلباء نے ہاتھوں میں قطبے اٹھا رکھے جن پر تعلیم کی اہمیت کے متعلق نعرے درج تھے اس موقع پر واک کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اسکول کے پرنسپل غلام فرید اوٹھو نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 24 جنوری کو عالمی یوم خواندگی کے طور پر منانے کا اعلان کیا – ان کا مزید کہنا تھا کہ ناخواندگی کی شرح ملک کے مختلف حصوں میں مختلف ہے لیکن سب سے زیادہ ناخواندگی دیہات میں دیکھنے میں آتی ہے، جہاں اکثر خواتین لکھنا پڑھنا نہیں جانتیں۔ آج کل شہروں میں اگرچہ بیداری کی نئی لہر دوڑ چکی ہے لیکن ملک کا اہم حصہ یعنی دیہات اب بھی خواب غفلت میں محو ہیں۔اگر ہم تیزی سے ترقی کرتی قوموں کے حالات کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھا اور خود احتسابی کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے کبھی اپنی غلطیوں کو نہیں دوہرایا۔ ماہرین کے مطابق تعلیمی میدان میں ہماری ناکامیوں اور زوال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اساتذہ زیادہ تر غیر تدریسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، کبھی پولیو مہم، کبھی ڈینگی آگاہی مہم، کبھی امتحانات اور الیکشن میں ڈیوٹیاں یا پھر کوئی اور سرکاری کام، جس کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی بری طرح متاثر ہو تی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کو کسی بھی غیر تدریسی عمل میں شریک کرنے کے بجائے ان کاموں کے لیے الگ سے بھرتیاں کی جائیں تا کہ اساتذہ اپنے کام پر پوری توجہ دے سکیں، ورنہ ہمارا معیار تعلیم پست سے پست ہوتا چلا جائے گا-ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹی عمر کے ان تمام بچوں کو جو کسی وجہ سے اسکول نہیں جا رہے ہیں ، ان کا اسکول میں داخلہ یقینی بنانے کے ساتھ ایسے والدین جو بچوں کو اسکول نہیں بھیج رہے ہیں ان کی نشاندہی کر کے انہیں تعلیم کا شعور دیا جائے۔ میٹرک تک تعلیم نہ صرف بالکل مفت ہو بلکہ غریب بچوں کو وظائف، جوتے اورکپڑے وغیرہ بھی دیے جائیں۔ ساتھ ہی ساتھ بالغ افراد کی تعلیم کا خصوصی اہتمام کیا جائے تا کہ ایسے افراد جو بچپن میں کسی بھی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکے تعلیم کی بدولت کار آمد افراد بن سکیں۔ ماضی میں ہم نے تعلیم بالغاں کی طرف کچھ خاص توجہ نہیں دی۔ اگرچہ اس تعلیم کے لیے سفارشات تو بہت پیش کی گئیں ، لیکن ان سفارشات کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں خواندگی کی شرح کم ہی رہی۔ تعلیم بالغاں کے لیے جامع اور مکمل درسی مواد وسیع پیمانے پر ترتیب دینا اور تیار کرنا ضروری ہے۔ تعلیم بالغاں معاشرتی استحکام پیدا کرنے اور سیاسی شعور بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے اور ملک کے ان پڑھ باشندوں کو اس قابل بنا سکتی ہے کہ وہ پورے وثوق سے اپنی شہری ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہو سکیں

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.