ورلڈ پولیو ڈے کی مناسب سے کوئٹہ بوائے سکائوٹس ہیڈ کوارٹر میںتقریب کا انعقاد

0 17

کو ئٹہ:  ورلڈ پولیو ڈے منانے کا مقصد پولیور ورکرز کی خدمات کو سراہانا ہے ، پولیو ورکرز نے اپنی جانوں کو دائو پر لگا کر قوم کے مستقبل /بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں جو ہم سب کے لئے باعث افتخار ہے ، جن ورکرز کو دوران ڈیوٹی شہید کیا گیا ہے ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی ، پولیو کے خاتمے کا جو جنگ ہم نے شروع کیا ہے اسے ختم کرکے دم لیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو بلوچستان کے کوآرڈنیٹر راشد رزاق ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ثاقب کاکڑ ، ڈی ایچ او کوئٹہ ڈاکٹر سعید میروانی ، ٹیکنیکل فوکل پرسن برائے پولیو ڈاکٹر آفتاب کاکڑ ، معروف عالم دین انوارالحق حقانی ، یونیسف کے نمائندے ڈاکٹر عبدالعزیز اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر یحییٰ غفار و دیگر نے ورلڈ پولیو ڈے کی مناسب سے کوئٹہ بوائے سکائوٹس ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مقررین نے کہا کہ دن منانے کا مقصد پولیو ورکرز کے خدمات کو سراہانا ہے جو ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ہم نے پولیو وائرس کے خاتمے کا جو جنگ ہم نے شروع کی ہے اسے ختم کریں گے ۔ پولیو ورکرز کو جن چینلجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے سے ضرورت ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے کام کو جاری رکھ سکے ۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو بلوچستان کے کوآرڈنیٹر راشد رزاق نے کہا کہ پولیو ورکرز جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر قوم کے بچوں کیو صحت مند بنانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، آج کا دن منانے کا مقصد پولیو ورکرز کے خدمات کو سراہانا ہے جو ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ہم نے پولیو وائرس کے خاتمے کا جو جنگ ہم نے شروع کی ہے اسے ختم کریں گے ۔ پولیو ورکرز کو جن چینلجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے سے ضرورت ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے کام کو جاری رکھ سکے ۔ سردیوں کے موسم میں پولیو وائرس کمزور ہوتے ہیں اگر ہم اچھے کمپین چلائے تو پھر وائرس کو ایک جھٹکالگا سکتے ہیں ۔ آج کا دن عہد تجدید کا دن ہے جس دن ہم نے پولیو وائرس کے خاتمے کا عہد کیا تھا آج اس دن منانے کا مقصد لوگوں کو پولیو وائرس کے نقصانات سے آگاہی دینا ہے اور یہ عہد کرنا ہے کہ مزید بہتر طریقے سے کام کو وسعت دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب 24 اکتوبر کو ورلڈ پولیو ڈے کی بجائے پولیو فری ڈے کے طور پر منایا جایا گا ۔ پولیو کے خاتمے کے لئے معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت پولیو ورکرز کو ایک جذبہ کے تحت کام کرنا ہوگا ۔ پولیو قطرے پینے سے جو بچے رہ جاتے ہیں یا والدین انہیں پولیو سے بچائو کے قطرے نہیں پلانا چاہتے ان تک پہنچے اور انکاری والدین کو قائل کرنے کے لئے بہتر اسٹریٹیجی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگلے سال اسی دن کو ہماری پوزیشن آج سے بہتر ہونی چاہیے رواں سال ملک بھر میں 76پولیو کے کیسز رپورٹ ہیں جن میں بلوچستان کے 7کیسز شامل ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچستان میں کام کرنے والے پولیوورکرز ط بہتر طریقے سے کام کررہے ہیں تاہم اسے مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے اگر پولیو ورکرز ایمانداری سے کام کرے تو ہمیں یقین ہے کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دن ان پولیو ورکرز کو یاد کرنا ضروری ہے جنہیں دوران ڈیوٹی شہید کیا گیا ہے ہم انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچاکر ہی دم لیں گے ۔ پولیو ورکرز کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ ہر بچے تک اپنی پہنچ ممکن بنائے کیونکہ یہ بچے ہمارے ہی بچے ہیں ۔ ایک بچے کے معذور ہونے سے اس کا پورا خاندان متاثر ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز کی انتھک محنت اور بہترین کام کی وجہ سے رواں سال بلوچستان میں ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میںکم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بدقسمتی سے آج پاکستان اور افغانستان وہ ممالک ہیں جہاں ابھی تک پولیو وائرس موجود ہیں جو کہ باعث تشویش ہے ۔ تقریب کے دوران کوئٹہ کے مختلف سکولوں کے بچوں کے درمیان ورلڈ پولیو ڈے کے حوالے سے پینٹنگ کمپیٹیشن کروایا گیا جس میں مختلف سکولوں کے بچوں نے حصہ لیا ، پینٹنگ کمپیٹیشن میں گورنمنٹ پشتون آباد ہائی سکول کے طالب علم حضرت ولی نے پہلی ، گورنمنٹ خروٹ آباد ہائی سکول کے طالب علم سرفراز نے دوسری اور گورنمنٹ سیکنڈری گرلز ہائی سکول ریلوے کی طالبہ مومنہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔ اس موقع پر ججز نے پینٹنگ کمپیٹیشن میں حصہ لینے والے طلباء و طالبات اور ان کے اساتذہ میںسرٹیفکیٹس جبکہ پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء میں ٹرافیاں تقسیم کئے ۔ تقریب کے دوران کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے پولیو ورکرز میںاعزازی اسناد بھی تقسیم کئے گئے ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.