تحریک انصاف کے ڈی نوٹیفائی اراکین کی مجموعی تعداد122ہوگئی

0 18

تحریک انصاف کے ڈی نوٹیفائی اراکین کی مجموعی تعداد122ہوگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے مزید 43 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن پاکستان نے انہیں ڈی نوٹیفائی کردیا

 

ہے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے یہ استعفے منظور کرنے کی خبر گزشتہ روز ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب کہ 2 روز قبل ہی پاکستان تحریک انصاف کے تمام 45 اراکین قومی اسمبلی نے اپنے استعفے واپس لینے کی درخواست الیکشن کمیشن پاکستان میں جمع کرائی تھی.الیکشن کمیشن کی جانب

 

سے جن اراکین کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا ان میں ریاض فتیانہ، سردار طارق حسین، محمد یعقوب شیخ، پرنس نواز، راز محمد، مرتضیٰ اقبال، غزالہ سیفی شامل ہیں دیگر ممبران میں نوشین حامد، جواد حسین، صائمہ ندیم، تاشفین صفدر، ثوبیہ کمال خان، ظل ہما، رخسانہ نوید، حاجی امتیاز چوہدری، سردار محمد خان لغاری، لال چند، منزہ حسن اور طارق صادق شامل ہیں.پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر اور ریاض فتیانہ پر مشتمل 2

 

رکنی وفد کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ہم 45 اراکین قومی اسمبلی اپنی درخواست واپس لے رہے ہیں، اسپیکر اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو استعفی واپس

 

منظور کرتے ہیں تو ہمیں ڈی نوٹیفائی نہ کیا جائے یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب کہ 17 جنوری کو اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کے تین روز بعد 20 جنوری کو اس کے مزید 35 اراکین کے استعفے منظور کرلیے تھے جس کے بعد پی ٹی آئی کے مستعفیٰ اراکین کی تعداد 79 ہوگئی

 

تھی، آج ڈی نوٹیفائی اراکین کے ساتھ اس کے مستعفی قانون سازوں کی تعداد 122 ہوگئی ہے.پی ٹی آئی نے گزشتہ سال اپریل میں پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کی برطرفی کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سے اجتماعی استعفے دے دیے تھے، بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی نے صرف 11 ارکان کے استعفے منظور

 

کیے تھے اور کہا تھا کہ باقی ارکان اسمبلی کو تصدیق کے لیے انفرادی طور پر طلب کیا جائے گا جب کہ کراچی سے رکن اسمبلی شکور شاد نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تھا.پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے 11 اپریل 2022 کو پارلیمنٹ میں اعتماد کے ووٹ کے ذریعے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو وزیر

 

اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپنے استعفے جمع کرائے تھے اسمبلی سے بڑے پیمانے پر مستعفی ہونے کے فیصلے کا اعلان پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے 11 اپریل کو وزیر اعظم شہباز شریف کے انتخاب سے چند منٹ قبل اسمبلی کے فلور پر کیا تھا.قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اپنے خط میں کہا کہ اس نے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو 30 مئی کو طلب کیا اور انہیں 6 سے 10

 

جون تک ذاتی طور پر پیش ہونے اور استعفوں کی تصدیق کا وقت دیا تھا لیکن ان میں سے کوئی نہیں آیا اسپیکر نے جولائی میں پی ٹی آئی کے 11 اراکین کے استعفے قبول کرنے کی کوئی واضح وجہ بتائے بغیر ہی قومی اسمبلی کے استعفے منظور کر لیے تھے جن میں ڈاکٹر شیریں مزاری، علی محمد خان، فخر زمان خان اور فرخ حبیب بھی شامل تھے.اس کے بعد تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی مسلسل مزید ارکان کے

 

استعفوں کی منظوری کا مطالبہ کرتے رہے لیکن اسپیکر قومی اسمبلی اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ

تھا کہ قومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس 2007 کے رول 43 کے مطابق انہیں

پارٹی کے چیئرمین عمران خان سمیت 127 اراکین قومی اسمبلی سے انفرادی طور پر ملاقات کرنی تھی، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا انہوں نے استعفے آزادانہ اور کسی دباﺅ کے بغیر دیے ہیں یا نہیں.گزشتہ ماہ

 

قومی اسمبلی کے اسپیکر نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو خط لکھ کر ان سے کہا تھا کہ وہ پارٹی کے تمام اراکین قومی اسمبلی کو انفرادی طور پر استعفوں کی تصدیق کے لیے بھیجیں.

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.