صدرمملکت بھی سیاسی من مانیوں کی زدمیں

0 22

اسدنامی لڑکاتھاجس کی شادی اس کے والدین نے اپنی مرضی سے کردی مگرکچھدن بعدہی میاں بیوی میں توں تکرارہونے لگی اورکچھ ماہ بعداسکی بیوی اسے چھوڑ کرچلی گئی میں نے اس پرپوچھ گچھ کی توپتاچلاکہ ان میں ہم آہنگی نام کی چیز ہی نہیں تھی اگرہمارے ملک کی سیاسی پارٹیون کودیکھاجائے توان کا حال بھی اس سے کم نہیں حکومت کسی کے دم پربن توجاتی ہے مگرسیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے کبھی مدت پوری نہ کرپاتی ۔جب سے پاکستان معرض وجود میں آیاہے یہ سیاسی مفاد پرست اپناالوسیدھاکرنے کیلئے کسی بھی حدتک چلے جاتے ہیں یہ تک نہیں سوچتے پاکستان کوکتنانقصان ہو گاپاکستان میں اب بارویں الیکشن ہونے جارہے ہیںمگرآج تک کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہ
کرسکامگر2008میں پہلی مرتبہ ایک منتخب حکومت نے اپنی مدت پوری کی ورنہ جوبھی آیاکسی نہ کسی کی سیاسی من مانی کی بھینٹ چڑھادیاگیا31 مارچ 2022ئ:عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کے چند منٹ بعد 3 اپریل 2022ءکو صبح 11:30 بجے تک
ملتوی کر دیا گیا۔ 3 اپریل 2022ئ: قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو آئین کے آرٹیکل 5 کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کردیامگر9اپریل2022کوسپریم کورٹ کے احکاما ت پر پھر سے اسمبلی اجلاس ہوااورپاکستان کی قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی ہے اور اس تحریکِ کے حق میں 174 ارکان نے ووٹ دیے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔جس کے بعد وفاداریوں کاسیزن چل پڑااوراسپیکر اسد قیصر نے اپنے مستعفی ہونے کے اعلان کے ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس کی پروگرام کے مطابق باقی ماندہ کارروائی کی تکمیل کے لیے اسمبلی کے پینل آف چیئرمین کے رکن ایاز صادق کے حوالے کرتے ہیں۔ ایاز صادق نے پارلیمانی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپوزیشن رہنما شہباز شریف کی
طرف سے پیش کردہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے عمل کا آغاز کرتے ہیں۔ اس تحریک کے بعد جیسے کوئی زخمی شیراپنی دشمن پر پلٹ پروارکرتاہے اسی طرح تحریک انصاف کے محبین نے بھی اپنی من مانیاں شروع کردیں جیسے صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کون لیگ کے اہم رہنما احسن اقبال
نے نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کی حلف برداری کیلئے رابطہ کیا پہلے تو صدر مملکت نے حلف لینے کی حامی بھری بعد میں انہیں پارٹی قیادت نے روکا اور پھر شام کو انہوں نے حلف نہ لیا۔بات یہاں تک ختم نہ ہوئی بلکہ حمزہ شہباز کے وزیراعلی منتخب ہونے اورلاہور ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود گورنر پنجاب نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب15دن تک حمزہ شہباز سے حلف نہ لے سکے اور نہ ہی حلف لینے کے لیے کسی کو نمائندہ مقرر کیا۔حمزہ شہباز 16 اپریل کو وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تھے، تحریک انصاف اور (ق) لیگ نے منتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے حلف لینے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی ہے۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے پاس گورنر اور صدر کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں، سنگل بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔حلف نام کاہوتاہے شایداسی لیے حمزہ نے کام شروع کردیا۔حمزہ شہباز شریف نے دوسری مرتبہ وزیراعلٰی پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔سنیچر کو گورنر ہاو?س میں ہونے والی تقریب میں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے نو منتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف سے حلف لیا۔تقریب حلف برداری میں ارکان اسمبلی، اتحادی جماعتوں اور نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔حمزہ شہباز نے 30 اپریل کو بھی وزیراعلٰی کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔جمعے کو ن لیگ کے امیدوار حمزہ شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلٰی منتخب ہوئے تھے۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے پاکستان مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ مسترد کرتے ہوئے حمزہ شہباز کو وزیر اعلٰی برقرار رکھنے کی رولنگ دی تھی۔قارئین آپکویاددلاتاچلوں کہ پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے اپنے ارکان اسمبلی کو اپنی ہی جماعت کے رکن پرویز الٰہی کو ووٹ نہ دینے کی ہدایت کی تھی۔ پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں وزارت اعلٰی کے لیے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار تھے۔ حلف اٹھانے کے بعد نو منتخب وزیراعلٰی پنجاب سابق صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔صدرِ مملکت نے ایک بارپھرملک کے بجائے اپنی پارٹی اوراپنی سیاسی چال کے ساتھ اسلام آباد بلدیاتی بل بغیر دستخط کے واپس بھیج دیا۔ایوان صدر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں صدرِ مملکت نے وفاقی حکومت کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کی تاخیر کا ذمے دار قرار دے دیا۔صدر ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے جلد بازی میں اقدامات
سے بلدیاتی انتخابات 2 بار تاخیر کا شکار ہوئے۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی بدنیتی کے باعث اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے، یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے سے الیکشن مو?خر ہوئے۔ ایک اورجگہ یعنی 23دسمبر2022کی پریس ریلزمیں صادق سنجرانی نے کہا کہ سینیٹ کا اجلاس طلب کرنے کی سمری ایوان صدر کو بھیجی گئی تھی لیکن صدرمملکت عارف علوی نے سمری پردستخط نہیں کیے وزارت پارلیمانی امورنے اجلاس طلب کرنے کی سمری 22دسمبرایوان صدر کو ارسال کی تھی اور یہ سمری اجلاس 23دسمبردن 2 بجے بلائے جانے سےمتعلق تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدرمملکت عارف علوی پنجاب کی صورتحال سے نالاں ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صدر کے سمری پر دستخط نہ کرنے کے بعد سینیٹ اجلاس بلانے کیلئے حکومتی اراکین نے ریکوزیشن چیئرمین سینیٹ کو جمع کرائی جس پر 26 اراکین کے دستحط موجود تھے۔19جون2022کوصدر ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی گزشتہ حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور اوورسیز ووٹنگ سے متعلق متنازع ترامیم ختم کرنے کے ترمیمی بل کو بغیر دستخط کے واپس کردیا۔انتخابات ایکٹ 2017 کے سیکشن 94 کے تحت الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کے لیے پائلٹ پراجیکٹ کرے تاکہ ٹیکنیکل، رازداری، سیکیورٹی اور اس طرح کی ووٹنگ کے لیے اخراجات کا تعین کیا جائے اور نتائج سے حکومت کو آگاہ کرے اور رپورٹ موصول ہونے کے بعد 15 دن کے اندر ایوان کا اجلاس بلایا جائے اور اس کو دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کیا جائے۔محترم قارائین ویسے تواوربھی کئی سیاسی من مانیاں ہیں مگرآخری من مانی جناب عمران خان کی یادکراﺅ ںتو وہ کچھ ایسے ہے کہ عمران خان نے پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کا حکم دے دیا پاکستان کے صوبے پنجاب میں گزشتہ شب صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے کا عمل مکمل ہو گیا ہےگورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیرِاعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی طرف سے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط تو نہیں کیے تاہم انھوں نے اسمبلی کی تحلیل کے عمل کو روکنے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی واضح رہے کہ پاکستان کا آئین گورنر کو وزیراعلیٰ کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری کو روکنے کا اختیار نہیں دیتا۔یوں آئین کے مطابق اگر گورنر 48 گھنٹے کے اندر اس سمری پر دستخط نہ کریں تو اسمبلی کو تحلیل تصور کیا جاتا ہے۔جیسے کہ نگران وزیراعلیٰ حکومت واپوزیشن کی مشاورت سے منتخب ہوتاہے مگریہاں بھی ق لیگ کہہ رہی ہے کہ پی ‘ڈی ایم نے اپنی مرضی سے محسن نقوی کو نگران وزیراعلیٰ لگایاہے حالانکہ سنائی میں آیاہے کہ وہ چوہدری برادران کے قریب ترین رشتہ داروں میں سے ایک ہیں اب نگران وزیراعلیٰ صاحب نے آتے ہی انیل کپورکی طرح کام کرناشروع کردیا اورکئی تبادلے کرڈالے اب اس میں سیاسی من مانی ہے یاان کی اپنی حکمت عملی یہ تووقت بتائے گا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.