جاسوسی افسانہ۔۔۔ بارش میں لنچ

0 19

از:قلم۔۔۔۔ نورین خان پشاور

برسات کا مہینہ عاشقوں کے لئے تو بہت ہی پرکیف ہوتا ہے۔مگر تجارت پیشہ اور کاروباری لوگوں کے لئے بہت ہی مندا اور بےکار ہوتا ہے۔اب تم اس شہر کے اس بڑے ریسٹورنٹ پیزا جٹ کو ہی دیکھ لو۔منیجر تو منیجر یہاں کے ورکر بھی بارش سے پریشان ہیں۔
کیوں ٹھیک کہا نا میں نے مہدی میرے دوست۔
ہاں بالکل عباس! اور شاعر حضرات کے لئے تو اور بھی برا کیونکہ مشاعرے بارش کے دنوں میں بند ہو جاتے ہیں۔ہر ہفتے بس اور ریل کا سفر ایک جگہ سے دوسری جگہ مشاعرے کے لئے جانا،جگمگاتے ہوئے پنڈالوں میں اپنی شاعری اور غزلیں سنانا،نئے لوگوں سے ملنا،تعلقات بنانا،پلاو اور زردے اور بریانی سے پیٹ بھرنا اور حسین عورتوں کی تعریف کرنا ان سب سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔
یار شاھد! جلدی کرو اب کولڈ ڈرنک لے ہی آو۔
یہ لو عباس تمھارے لئے فانٹا،اور مہدی کے لئے ایپل جوس۔۔۔اب پیو ۔۔۔
تمھیں یاد ہے عباس یہ شاھد کیسے ہماری ٹیم میں آیا تھا؟
ہاں ہاں سب جانتا ہوں ورنہ اس اسرائیلی ایجنٹ نے تو اسکو اوپر پہنچا ہی دینا تھا۔یہ تو ابدالی صاحب کا شکریہ ادا کرو کہ وقت پے اس نمونے کو بچا لیا۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔ہاہاہاہا تینوں دوست ایک ساتھ ہسنے لگے۔
یار پیزا جٹ کا پیزا بہت ہی لذیذ ہے واہ! عباس بھائی مزا آگیا۔
شاھد خاموش نگاہوں سے مہدی کو اشارہ کرتا ہے کہ عباس کیطرف دیکھو مسلسل سامنے دیکھ رہا ہے۔مہدی نے موڑ کر دیکھا تو ٹیبل پر ایک کالے گہرے رنگ کا آدمی پینٹ کوٹ میں بیٹھا ہوا تھا۔اور اسکے ٹیبل پر دس بیس ڈشز پڑی ہوئی تھی۔اور ساتھ ایک سفید گورے چٹی سنہری بالوں والی لڑکی بےتکلفی سے ہنس ہنس کے باتیں کر رہی تھی۔
یار شاھد! یہ عباس اپنے عادت سے باز نہیں آئے گا دیکھ لو اس وقت بھی یہ شک کر رہا ہے۔
کہ یہ خوبصورت لڑکی اسکی بیوی ہے؟ یا دوست؟
چھپ کرو احمقوں عباس بولا۔۔
عباس نے جیب سے بلیک چشمہ نکالا اور پہن لیا اور گانا گنگنانے لگا۔
دیکھا نا تھا کبھی ہم نے یہ سماں،ایسا نشہ تیرے پیار میں ہوا،
اور تینوں ریسٹورنٹ سے باہر نکلے۔عباس بولا کیا میں تم دونوں کو گدھا لگتا ہوں؟
نہیں میرے بھائی! یہ ہم نے کب کہا کہ تمھارے سر پر سینگ ہے وہ بھی دو نہیں بلکہ تین،تین۔
بکو مت۔۔۔ تمھیں کیا لگتا ہے اس کالے سانڈ،موٹے،بدشکل آدمی سے وہ گوری پیار کرتی ہوگی؟ مجھے جواب دو۔
نہیں ایسا ممکن نہیں ۔
بالکل شاھد ایسا ہی ہے۔بات کچھ اور ہے۔چلو چلتے ہیں دوستوں۔کہاں؟ شاھد پوچھنے لگا۔
زیرک منزل اور کہا جانب؟
یعنی میرے گھر مہدی خوش ہوتے ہوئے۔
یار مہدی! ویسے تمھارا گھر پانچویں منزل پر ہے۔کیا یہ بیسویں منزل پر اور اوپر نہیں ہو سکتا تھا؟ یا تم نے ہماری ٹانگوں کا امتحان لینا ہے؟
یار لفٹ ہے نا تمھیں کیوں اتنی فکر ہے ؟
گھر پہنچ کر مہدی نے کہا تم لوگ بیٹھو میں کپڑے تبدیل کرتا ہوں۔
نہیں کپڑے بدلنے کی ضرورت نہیں بلکہ تم ایسا کرو میرے لئے ایک کپ گرم گرم چائے بناو۔
شاھد لیپ ٹاپ کھول کر اس پر کام کرنے لگا۔
شاھد۔۔۔شاھد ٹرانسمیٹر پر حسین کی فریکوئنسی سیٹ کرو جلدی۔
ہیلو ہیلو عباس کالنگ’اوور؛ فریکوئنسی سیٹ ہوتے ہی عباس بولنے لگا۔۔۔ہیلو حسین کیا حسن دفتر میں موجود ہے؟
نہیں کیپٹن حسن دفتر میں موجود نہیں بلکہ وہ غوری صاحب کے ڈیپارٹمنٹ میں موجود ہے اور کسی فائل پر کام کر رہے ہیں۔
اوہ؛ اچھا یعنی کرنل غوری کے پاس ظاہر ہے حسن انکے ڈیپارٹمنٹ میں ہے تو اسکو فرصت کہاں ملی گی۔تم تو کرنل غوری کو جانتے ہو اچھی طرح۔
دوسری طرف قہقہے کی آواز۔۔۔جی جی۔
ہاں تو حسن میرا بلیک چشمہ تمھیں دو بندوں کی تصاویر بھیج رہا ہے۔مجھے اسکی معلومات چائیے ابھی یعنی دس منٹوں میں۔
جی سمجھ گیا عباس بھائی ابھی بھیجتا ہوں اور ٹرانسمیٹر کا بٹن آف کر دیتا ہے۔
شاھد تم نے تصاویر میل کردی حسین کو۔
جی عباس صاحب کردی۔
یہ لو گرم گرم چائے میرے دوست عباس کیا یاد کروگے کہ کس سخی سے پالا پڑا ہے۔
مہدی قریب پرانے غزلیں بھی لگا لیتا ہے۔
یار مہدی تمھاری یہ گانوں کی عادت مجھے سمجھ نہیں آتی اتنی افسردہ غزلیں سنتے ہو کہ دیکھو مجھے رونا تک آ گیا۔
عباس دوبارہ ٹرانسمیٹر سے کال ملاتا ہے۔
یہ کال اتنی دیر سے کیوں اٹھائی؟ ڈیٹا جمع کر رہا تھا معذرت۔
یہ آدمی جس کی تصویر ملی اسکا نام امتیاز صفدر ہے۔اور یہ ایک بیوروکریٹ ہے اسکا بھائی ایم این اے ہے اور انکی رسائی وزارت تعلیم تک بھی ہے۔
اور یہ خاتون مس روزی ہے جو ایک مہینہ پہلے ملک نصاریکہ سے آئی ہے عیسائی ہے۔اور اسی سیٹھ امتیاز سے اسکی دوستی ہے۔
اچھا ٹھیک ہے ابدالی صاحب اگر آئے تو کہنا مجھ سے رابطہ کر لیں۔اوور۔۔۔
کیا ہوا عباس ؟ کچھ پتہ چلا ۔۔۔
ہاں بہت کچھ۔۔شاھد۔۔۔شاھد
ذرا شہر کے موبائل ہیڈ کوارٹر کے دفتر کی فریکوئنسی سیٹ کرو۔۔
ہیلو ہیلو۔۔۔عباس از سپکینگ۔۔
جی کون۔۔دوسری طرف سے نسوانی آواز سنائی دی۔
اپنے منیجر سے بات کرائیں میں عباس بات کر رہا ہوں فرام سیکرٹ سروس انٹیلی جنس۔۔۔کیپٹن عباس۔۔
جی سر میں آپکی کال ٹرانسفر کرتی ہوں آپ بات کریں۔۔۔
ہیلو دوسری طرف سے مردانہ آواز سنائی دی۔جی سر کیا خدمت کر سکتے ہیں؟
منیجر صاحب یہ ایک موبائل نمبر ہے اسکی ساری ڈیٹل اور کن کن سے رابطہ ہوا ہے ابھی مجھے پانچ منٹ کے اندر چائیے کوئیک۔بالکل سر تھوڑا ویٹ کریں ۔
تھوڑی دیر بعد شاھد لیپ ٹاپ چیک کرتا ہے تو ساری ڈیٹل موجود ہوتی ہے۔عباس بھائی چیک کریں۔
اوہ: تو یہ بات ہے مس روزی نے چار لوگوں سے رابطہ کیا ہے۔
شاھد ذرا حسین کی فریکوئنسی سیٹ کرنا۔
ہیلو ہیلو عباس از کالنگ۔۔۔ہیلو کیپٹن حسین۔
حسین کیا اپڈیٹ ہے بتاو۔۔میں سن رہا ہوں۔
عباس سر اس غیر ملکی عورت مس روزی کا چار بندوں سے رابطہ ہوا ہے۔
نمبر ایک عبادت خان جو خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھتا ہے اور حیات آباد میں رہتا ہے۔جیوگرافی میں ایم فل کیا ہے۔
دوسرا بندہ سجاول میر ہے جو حیدرآباد سندھ میں رہتا ہے اور پی ایچ ڈی اکنامکس ہے۔
تیسرا بندہ صداقت علی ہے جو لاہور سے ہے اور پی ایچ ڈی بزنس ہے۔
چوتھا شخص منیر طاہر ہے جو کوئٹہ میں رہتا ہے اور ماسٹر انگلش ہے۔
اوکے کیپٹن حسین بہت شکریہ۔اوور۔
فون ریسیور رکھنے کے بعد عباس سب سے کہتا ہے۔چلو تیار ہو جاو نکلتے ہیں کام کا وقت ہے۔
اسی دوران دروازے کی بیل بجتی ہے۔یہ اس وقت کون آگیا ہے۔
ضرور مہدی کی کام والی ماسی شبراتن ہوگی۔
شاھد جیسے ہی دروازہ کھولتا ہے دروازے پے ندیم ہوتا ہے۔
اوہ۔۔اچھا ہوا مسٹر ندیم تم آگئے ہم بس نکلنے والے تھے۔تم میرے گھر میں رہنا اور یہی آفس ورک کر لینا۔مہدی نے تاکید کی۔
بہت اچھا مہدی سر آخر آپ نے میری جان بچائی تھی اس اسرائیلی ایجنٹ تانیہ سے۔اگر مجھے وقت پے ہسپتال نا لے جاتے تو میں تو اوپر پہنچ چکا تھا۔
کوئی بات نہیں میری جگہ اگر عباس ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا۔
شاھد مسکراتے ہوئے اپنے جگری دوست ندیم کو دیکھ رہا تھا۔
سب اپنی گن اپنے پاس رکھیں اور لوڈ کر لیں کہی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اوکے باس چلو چلتے ہیں ندیم دروازہ لاک کر لینا۔خداحافظ۔۔۔
ایک تو یہ پشاور کے راستے اس قدر تنگ ہے کہ کیا بتاوں مہدی رکشے میں اچھل رہا تھا۔آرام سے بیٹھو یار میرے اوپر گر رہے ہو۔ہر جگہ بریکر بھلا اتنے بریکرو کی کیا ضرورت۔
یہاں رکشہ روک دیی۔
ہاں یہی ایڈریس ہے چلو شاھد کام پے لگ جاو۔
شاھد سامنے دوکان والے کے پاس جاتا ہے چچا جی یہ جو تصویر میں آدمی ہے کیا آپ اسے جانتے ہیں؟
ذرا قریب سے دیکھاو۔۔۔ارے ہاں ہاں کیوں نہیں یہ تو اپنا عبادت خان ہے ہمیشہ لاکھوں کا سودہ خریدتا ہے ہم سے۔
پورے محلے میں یہی وقت پے روپے دیتا ہے ورنہ یہاں تو سارے ہی ادھار پے چلتے ہیں۔
ویسے چچا یہ کرتا کیا ہے۔
یہ انڈسٹریل اریہ میں نوکری کرتا ہے۔اور پچھلے بیس سالوں سے تو یہاں مقیم ہے۔مگر بات کیا ہے جناب؟ آخر عبادت خان کی اتنی تفتیش؟
وہ چچا اصل میں رشتے کے سلسلے میں آپ تو جانتے ہیں بغیر جان پہچان کے رشتہ تھوڑی ہوتا ہے عباس جواب دیتے ہوئے۔
ہاں وہی تو۔۔دوکان دار میطمین ہو گیا۔
یار مہدی یہ کیا چکر ہے؟
چلو اب باچہ خان ایئرپورٹ چلو۔۔۔وہاں سے کراچی جانا ہے۔وقت کم ہے۔
اب یہ کونسا علاقہ ہے؟ کہی سندھ کے ڈاکوؤں سے سامنا نا ہو جائے۔
ہاہاہاہا تو ہو جائے مہدی مسکرا کر بولا۔
ہاں یہی ایڈریس ہے۔سلام سائیں ۔۔۔
ادا سائیں تھوڑی تکلیف دونگا یہ تصویر میں جو آدمی ہے کیا انکا گھر یہاں پر ہے؟
راہ گیر اپنا چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے۔۔ارے ہاں یہ تو اپنا سجاول میر ہے اگلی گلی میں رہتا ہے۔مگر اس وقت گھر پر نہیں ہوگا۔یہ فیکٹری میں نوکری کرتا ہے۔اچھا کماتا ہے۔اور پچھلے چالیس سال سے تو میں اسکو جانتا ہوں۔جوانی کے زمانے سے۔۔۔
اچھا بہت شکریہ ادا سائیں۔۔
اسطرح باقی دو افراد کا بھی پتہ کرایا گیا۔
عباس،مہدی اور شاھد واپس آرام منزل گھر پر آتے ہیں۔اور یہ تمام تفصیلات درج کرتے ہیں۔
یار مہدی ذرا میرے پیر تو دباؤ بہت تھک گیا ہوں۔
ہاں ہاں کیوں نہیں نواب صاحب تمھارے لاڈ اٹھانے کو اب ہم ہی رہ گئے ہیں کیا؟
دروازے پر بیل بجتی ہے۔ندیم جاو دیکھو کون آیا ہے۔سلام شبراتن ماسی کسی ہے آپ؟
میں ٹھیک ہوں ندیم بھیا یہ بتاو کیا سارے صاحب لوگ موجود ہے؟ جی ہاں ماسی۔
ہائے اللہ اب میں صفائی کیسے کرونگی۔
ویسے مائینڈ مت کرتا مہدی صاحب یہ آپکے دوست لوگ روز روز منہ اٹھاکے گھر چلے آتے ہیں۔
اس لئے کہتی ہوں مہدی صاحب شادی کر لو جب بیگم صاحبہ گھر پے ہوگی پھر یہ صاحب لوگ گھر میں نہیں گھسے گے روج روج۔
ہاں یہ تو اچھا مشورہ ہے شبراتن ماسی مگر مجھے لڑکی دے گا کون؟
ارے ارے اتنے اچھے خاصے تو ہو لمبا 6 فٹ قد،خوبصورت گھنے بال،چوڑا سینہ،سبز بڑی بڑی آنکھیں اور سب سے بڑیا سرکاری اپسر (افسر)۔
شکریہ شکریہ مہدی بالوں میں سٹائل سے ہاتھ پھیرنے لگے۔
واہ ماسی واہ تمھیں مہدی کی تو فکر ہے مگر ہماری نہیں۔
ارے عباس صاحب آپ تو ناحق ناراج ( ناراض ) ہوتے ہیں۔آپ تو میرے آنکھوں کا تارہ ہے میرے گھر کا بجلی بل پھچلے مہینے آپ نے ہی جمع کروایا تھا۔میں تو روز آپ سب کو دعا دیتی ہوں۔اچھا میں آپ سب کے لئے چائے اور پکوڑے بناتی ہوں باہر بارش برسنی والی ہے۔آپ صاحب لوگ کمپووٹر پے کام کرو۔
یار شاھد پتہ نہیں کیوں میرا دل مطمئن نہیں۔کچھ تو ایسا ہے جو ہم سے پوشیدہ ہے۔
یار عباس تم نے خود دیکھ لیا ہم نے ملک کے کونے کونے میں تفتیش کی سب کچھ صاف نکلا ہے، چاروں آدمی اچھی نوکری کرتے ہیں،کوئی فساد کوئی تھانہ رپورٹ نہیں۔
یار مہدی تمھیں یاد ہے، حسین نے کل مجھے بتایا تھا، کہ یہ چاروں آدمی تو مختلف صوبوں میں مقیم ہے۔مگر ان چاروں میں ایک بات مشترکہ ہے، کہ چاروں اپنے اپنے صوبے میں ٹاپ سرکاری یونیورسٹیوں میں پروفیسر کی نوکری ڈھونڈ رہے ہیں۔اب تم ہی مجھے بتاؤ جب ان چاروں کی اچھی خاصی انکم والی نوکری ہے۔بینک بیلنس ہے تو یونیورسٹیوں میں نوکری کے لئے ادھر ادھر کیوں خاک چھان رہے ؟ کچھ تو ہے۔خیر میں پتہ کروا لوونگا۔شاھد جلدی سے میجر علی کی فریکوئنسی سیٹ کرو۔
ہیلو ہیلو۔۔۔آواز آرہی ہے۔کیپٹن عباس از کالنگ۔۔
جی جی میں نے پہچان لیا۔عباس سر آج ہم غریبوں کی کیسی یاد آگئی۔
ہاہاہاہا۔۔۔یاد نہیں آئی بس کام پڑ گیا ہے۔
تمھاری یہی سادگی اور کام کی بات کرنا ہی مجھے پسند ہے عباس سر حکم کریں۔
علی بھائی۔۔یہ چار لوگ ہے انکی تفصیل میل کر دی ہے۔بس آگے اپکا کام ہے۔میں منتظر ہوں۔
اوہ! اچھا سمجھ گیا۔بےفکر رہو۔ایک گھنٹے تک ان چاروں کی جنم کنڈلی اور زائچہ آپکے ہاتھ میں ہوگا۔پھر بھلے ہی انکی اچھی مورت دیکھ کر رخصتی کر دینا۔
ہاہاہاہا۔۔۔اوور!
عباس نے ٹرانسمیٹر کا بٹن آف کر دیا۔
یہ کیپٹن علی بھی جگت بازی میں کچھ کم نہیں ماشاءاللہ بالکل مجھ پے گیا ہے۔
عباس صوفے پر بیٹھا مزے سے چپڑ چپڑ کرکے چپس کھا رہا تھا۔کہ اچانک اسکے موبائل کی گھنٹی بجی۔عباس نے موبائل کا بٹن آن کیا اور رابطہ قائم ہوتے ہی بولا جی فرمائیے ۔۔۔
دوسری طرف سے نسوانی آواز سنائی دی۔ہیلو عباس سر لائن پر موجود رہیں،کیپٹن علی آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
جی محترمہ میں سن رہا ہوں۔ملائیے کال۔۔۔
عباس کیپٹن علی از سپکینگ۔۔۔جی جی میں لائن پر ہوں۔۔یہ چار لوگ جنکی مجھے فائل ملی۔یہ چاروں پاکستان میں بیس پچیس سالوں سے مقیم ہیں۔مگر میں نے سارا ریکارڈ چھان مارا انکے رشتہ دار یا قریبی چالیس سال سے پہلے کوئی نام و نشان نہیں یعنی یہ لوگ غیر ملکی ہے۔اور پھر میں نے اپنے طریقے سے کام کیا تو پتہ چلا انکا تعلق پاکستان سے ہے ہی نہیں غالبا انکا کوئی خاص مقصد ہے۔
بہرحال آگے آپکا کام ہے عباس۔اوور اینڈ آل۔
عباس نے ٹرانسمیٹر کا بٹن آف کیا۔
کیا ہوا عباس صاحب؟ کیا علی بابو کا فون تھا؟ کیا وہ کھانے پے آرہا ہے زیرک منزل؟
ارے نہیں شبراتن ماسی یہ ہمارا سر درد ہے۔
ندیم کہاں ہے ماسی؟
وہ کمپووٹر پے کام کر رہا ہے صاحب جی۔
عباس نے اپنا جیکٹ پہنا اور دوسرے کمرے میں جاکر ندیم سے کہا چلو نکلتے ہیں۔
کہاں عباس بھائی؟
ان چار تعلیم یافتہ لوگوں کو پرستان کی سیر کرانے۔
دونوں زیرک منزل سے نکلے جو کہ مہدی کا گھر تھا۔اور عباس نے خفیہ دوسرا ٹرانسمیٹر آن کیا۔فریکوئنسی سیٹ کی۔
ہیلو ہیلو عباس از سپکینگ۔۔۔۔
جی سر سن رہی ہوں وزیر داخلہ کی سکریٹری سارا از آن لائن ۔۔ جی فرمائیے۔۔
مس سارا وزیر داخلہ اپنے آفس میں ہے؟
نہیں سر وہ ضروری میٹنگ کے لئے وزیر تعلیم کے پاس گئے ہیں۔انکے واپسی کی کوئی اطلاع نہیں۔
اچھا ٹھیک ہے خداحافظ۔۔۔
عباس نے دوسرا نمبر ملایا۔۔۔ہیلو ہیلو ۔۔۔عباس فرام سیکرٹ انٹیلی جنس۔۔۔۔ چیف سے بات کرائیے۔
سر آپ لائن پر رہے۔
ہاں عباس کیا مسلہ ہے۔
چیف صاحب! مجھے ان چار آدمیوں کے وارنٹ چائیے ابھی ۔۔۔
لگتا ہے یہ ضروری ہے ۔۔ ٹھیک ہے میں کرنل ابدالی کے ہاتھ لیٹر بھیجتا ہوں۔مجھے آج ہی ریزلٹ چائیے۔
ندیم گاڑی کا رخ ابدالی سر کے آفس جانب موڑ دو۔
ندیم یہ مہم صرف ہم دونوں کرینگے۔
عباس نے گاڑی عبادت خان کے گھر کے پیچھے کھڑی کی۔اور چھت پر خاموشی سے چڑھ کر صحن میں کود گیا۔وہاں آہستہ آہستہ کھڑکیوں کی جانب بڑھنے لگا جو شیشے کی تھی اور اندر مکان سب نظر آرہا تھا۔خوش قسمتی سے ایک کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔عباس جیسے ہی کمرے میں داخل ہوتا ہے کوئی تیزی سے اسکے سر پر راڈ سے وار کرتا ہے جو خوش قسمتی سے اسکے کندھے پر لگی اور وار خطا گیا۔عباس کو اس قدر جلدی حملے کی توقع نا تھی۔عباس نے پیچھے سے ایک زور کی لات عبادت خان کے پیٹ میں مار دی۔جس سے وہ نیچے گر گیا۔اور عباس اسکے سینے پر چڑھ کے اسکے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنا چکا تھا۔
چل عبادت خان کے بچے آج تیری میں دعوت کرونگا۔
اسی طرح باقی تینوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔عباس چاروں کو زیرک منزل لے گیا۔ندیم چاروں کو کرسیوں پر رسی سے باندھ رکھا تھا۔
اسی دوران مہدی گھر آتا ہے۔اوہ اچھا عباس کے مہمان موجود ہیں۔
عباس نے عبادت خان سے کہا دیکھو مجھے جسمانی تشدد نہیں پسند۔سیدھے طریقے سے بتاو تم لوگ کون ہو؟ اور تم چاروں ہمارے ملک کے یونیورسٹیوں میں کیوں گھسنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہو؟
عبادت خان زور زور سے یسنے لگا یو نانسس پیپل ۔۔
مہدی نے جیسے اسکے بال پکڑے ۔۔۔ارے ارے یہ کیا بالوں کا پورا وگ اسکے ہاتھوں میں آگیا۔
ارے یہ سنہری بالوں والا ہے۔۔سالے یہ تو گورا نکلا۔
عباس نے اپنے پینٹ کے جیب سے ایک چھوٹی بوتل نکالی وہ آنا فانا اسکا سپرے عبادت خان کی آنکھوں پے کر دیا۔جس سے عبادت خان تڑپنے لگا اور چیخنے چلانے لگا کہ میری آنکھیں جل رہی ہے۔اور مچھلی کیطرح زمین پے تڑپنے لگا۔
میں اندھا ہو رہا ہوں،یہ جلن مجھے مار ڈالے گی۔اچھا سب کچھ بتاتا ہوں۔بتاتا ہوں۔
اب بنا نا انسان کا بچہ۔۔۔
عباس نے دوسری شیشی سے اسکی آنکھوں میں چند قطرے ڈالے۔جس سے فورا جلن ختم ہوگئی۔اور تڑپنا بند ہوا۔ندیم نے اسے پانی کا گلاس دیا یہ پیو اور بتاو کون ہو تم سب؟
میرا نام عبادت خان نہیں بلکہ مائیکل ہے۔اور میرا تعلق نصاریکہ کی خفیہ جاسوس ادارے بی آئی اے سے ہے۔
اوہ نصاریکہ یعنی دنیا پر راج کرنے ڈالر والا فتنہ باز نصاری لوگوں کا ملک۔ندیم بڑبڑایا۔۔
بی آئی اے۔۔۔ یعنی انتہائی بےغیرت ایجنسی۔۔۔
عباس بولا۔۔ ندیم اور مہدی ہسنے لگے۔
اچھا نصاری بھائی یعنی عیسائی ہو تم مائیکل ماشے جی۔
یو نانسس مسلم وٹ از ماشے۔۔۔
یعنی اہم شخص گورے خبطی۔۔
اب دوسرا بولنے لگا میرا نام سجاول خان نہیں بلکہ میرا نام آوارم ہے میں اسرائیل کے شہر تل ابیب سے ہوں۔اور یہ مائیکل اسکی طرف حقارت سے دیکھتے ہوئے اسکی بےوقوفی سے ہم پکڑے گئے۔
یہ تینوں ہمارے ادارے کے لئے کام کرتے ہیں۔بلکہ یہ کیا اسکے سپر پاور ملک کا صدر بھی ہمارا غلام ہے۔بڑے فخر سے بتاتے ہوئے۔
اچھا تو ہمارے ملک میں پھچلے چالیس سالوں سے کیوں مقیم تھے؟
ہمارا مقصد یہاں کی نامی گرامی یونیورسٹیوں میں پروفیسر کی شکل میں گھسنا تھا۔اور پھر ہمارا ٹاسک یونیورسٹی اور کالج کی طلبا کی ذہن سازی کرنا تھی۔کہ تمام نوجوان لوگ اپنے ملک کے اداروں کے خلاف ہو جائے۔ہمارا مقصد انکے ذہنوں میں زہر بھرنا تھا۔مگر اس بی آئی اے کے احمق کی وجہ سے پکڑے گئے۔
ہمارا مقصد اس ملک میں تخریب کاری،فساد،اور سول جنگ کروانا تھی۔کہ عوام آگ لگائیں تھوڑ پوڑ کریں تاکہ ہم اس ملک کو تباہ کر سکیں۔کیونکہ اپکا ملک سارے اسلامی ممالک میں سردار بن چکا ہے۔
ہمیں یہاں کے مسلمانوں سے خطرہ ہے۔
اچھا عباس بہت ہی پرسکون اور اطمینان سے سب سن رہا تھا۔۔
ٹرانسمیٹر سے فریکوئنسی سیٹ کی۔۔۔
ہیلو ہیلو کیپٹن عباس از سپکینگ۔۔۔وزیر تعلیم کے آفس میں سر غزنوی سے بات کروائیں؟
غزنوی صاحب۔۔۔ مشن از کملیٹ۔۔۔یہ چاروں ہمارے پاس ہے اور اسرائیل کے بھیجے ہوئے کھوتے۔۔۔
اوہ سوری ۔۔۔ میرا،مطلب ہے کتے ہیں۔انکا مقصد ہمارے ملک میں فساد اور اداروں پر عوام سے حملے کروانا تھا۔مگر بروقت پکڑے گئے۔
ویلڈن عباس اور یور ٹیم۔۔۔
میری طرف سے آپکو،عباس،مہدی،اور وہ دو لڑکے جنکو ابدالی نے انسپکٹر کے عہدے پر نوکری دی ہے۔۔
ندیم اور شاھد،حسن اور حسین،علی سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اوکے چیف شکریہ۔۔ اور عباس فورا کیوں کیطرف جاتا ہے۔شبراتن ماسی ایک کپ گرم چائے تو دینا۔۔
ختم شد۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.