روایتی جنگ ایک قدم آگے چلی گئی ہے ،کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور

0 126

) کورکمانڈر12کورلیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے کہاہے کہ روایتی جنگ ایک قدم آگے چلی گئی ہے ،اب دشمن لوگوں کے ذہنوں پر کام کررہاہے کہ کیسے عوام اور ریاست کے درمیان اتحاد واتفاق کو ختم کیاجائے طاقت کیلئے جدوجہد پر طاقت ور اور کمزور کے درمیان لڑائی چلتی رہی ہے ،سیکورٹی فورسز کا کوئی جوان وردی پہن لیتاہے تواپنی جان کو قوم او وطن کی امانت سمجھ کر قربان کرنے کیلئے تیار رہتاہے ،پولیس نے بہترطریقے سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی ہے ،پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جس نے دہشتگردی کی عفریت کا بھرپور مقابلہ کیا اور اب دشمن اتحاد کوکمزور کرنے کیلئے کوششیں کررہاہے سیکورٹی ،اداروں اور عوام کے مل کر اس مشکلات دور سے آگے نکل کر پاکستان کومحفوظ رکھناہوگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے آئی جی پولیس آفس میں یوم تکریم شہداءکی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو،صوبائی وزیرداخلہ میر ضیاءاللہ لانگو،چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ صالح محمد ناصر، سینئر ایم بی آر روشن علی شیخ ،ڈی آئی جی کوئٹہ غلام اظفر مہسرودیگر بھی موجود تھے ۔یوم تکریم شہداءکی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے کہاکہ دنیا کی تاریخ دیکھی جائیں تو صدیوں کی تاریخ ہے اور کمزور وطاقت ور کی لڑائی ہمیشہ چلتی رہی ہے خواہ وہ قبیلے ،شہر ،ملک یا ریجنزکی سطح پر ہے یہ طاقت کیلئے جدوجہد ہے اس میںامن کم رہا ہے زیادہ ترطاقت کیلئے جدوجہد میں قومیں مصروف رہی ہے بہت سے ملکوں نے آزادی حاصل کی ہے یہ جدوجہد زندگی کاحصہ ہے جوصدیوں سے چلتی آرہی ہے ،پاکستان بہت قربانیوں اور کوشش کے بعد ایک آزاد مملکت حاصل کی گئی جب علیحدہ ملک بنے تو بہت سی مشکلات کاسامنا تھا ان چیلنجوں میں مشرقی بارڈرز پر ہمسایوں کے ساتھ اور کشمیر کامسئلہ سرفہرست تھا کسی بھی قوم کوجغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے مضبوط فوج کی ضرورت ہوتی ہے ،جن ملکوں یا قوموں کی مضبوط فوج نہیں ہوتی زمانے نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا،گزشتہ چار سے 5دہائیاں ایسی گزری کہ ترقی کاپہیہ بہت تیزی سے گزرا جب پاکستان کو خطرہ سرحدوں سے تھاپاک فوج مضبوط ہوتی رہی روایتی جنگ مقابلہ ہوا لیکن کے ساتھ ساتھ خطرات بھی بدلتے رہے اورپاورسٹرگل کی اہمیت بھی بدلتی رہی شروع کے زمانے میں پولیس کااپنا کردارتھا گزشتہ بیس سالوں میں جنگ جس مرحلے میں داخل ہوگئی اور جوشکل اختیار کی اس کا پہلا رسپانڈر پولیس بن گئی جنگ سرحدوں سے نکل کر اندرونی علاقوں میں آگئی ،فوج کی تربیت اور اسلحہ سرحدوں پر لڑنے کیلئے تھا ،پولیس لاءاینڈ آرڈر ،سوشل کرائم کیلئے تھی لیکن پولیس کی وہ تربیت نہیں تھی کہ وہ دہشتگردی کاسامنا کرسکے ،اور گزشتہ 20سال میں پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر کہوکہ ہماری پولیس بلخصوص خیبرپشتونخوا اور بلوچستان جہاں دہشتگردی نے زیادہ سر اٹھایاتھا جو شہری علاقوں کے جنگ میں پولیس نے فوج سے بہتر کام کیاہے ،پولیس نے پورے پاکستان میں اپنی مہارت ایسی بڑھائی کہ پی ایس ایل کامیچ ہوا نیشنل گیمز ہورہی ہے ،سیکورٹی کے حالات پولیس کے کنٹرول میں ہے ،بلوچستان پولیس تمام خطرات کامقابلہ کرسکتی ہے،انہوں نے کہاکہ سیکورٹی فورسز افواج پاکستان ،پولیس،انٹیلی جنس ایجنسیاں ،سی ٹی ڈی اور عام عوام جنہوں دہشتگردی میں جانیں گنوائی سیکورٹی فورسز جس دن یونیفارم پہن لیتے ہیں توپہلے وہ کہتے ہیں کہ یہ جان عوام کی امانت ہے اور گزشتہ دودہائیوں کے جنگ میں پولیس نے ثابت کردیاہے ،ریاستی فورسز نے عوام ملک کی خاطر اپنی قیمتی چیز جان قربان کرتے رہیںگے ۔روایتی جنگ سے جنگ ایک قدم آگے چلی گئی وہ لوگوں کے ذہنوں کے اوپر ہے کہ آپ کے دماغ کے اوپر کیسے کام کرے کہ آہستہ آہستہ سیکورٹی فورسز یا عوام نے جو کامیابی حاصل کی ان کو کیسے کم کیاجائے اتحاد کو کیسے چیلنج کیاجاتاہے ،اس وقت ضرورت ہے کہ ہم ایک ہوکر رہے ،پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جس نے دہشتگردی کی عفریت کا بھرپور مقابلہ کیا اور اب دشمن اتحاد کوکمزور کرنے کیلئے کوششیں کررہاہے سیکورٹی ،اداروں اور عوام کے مل کر اس مشکلات دور سے آگے نکل کر پاکستان کومحفوظ رکھناہوگا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.