دیس ہیونہ باندو کنے
ضحی شبیر تڑارکھل
میس ہیونہ پر کاش کنے
پیس ہیونہ تپرتھ کاہنہ
دیس ہیونہ باندو کنے
بیس پیونہ سوکھ کاہنہ
”(عرفان شناسی اور خدا شناسی کے برابر کوئی روشنی نہیں، تلاش حق کے برابر کوئی تیرتھ نہیں، خدا سے بہتر کوئی دوست نہیں، خوفِ خدا کے برابر کوئی سکھ نہیں)”
یہ اشعار اس حساس اور جذباتی خاتون کے ہیں. جو حقیقی محبوب کی محبت کی تکمیل چاہتی تھی. جس کی شاعری میں عشق کا پکا رنگ چڑھا ہوا ہے. جس کی شاعری میں روانی ہے اور روانی میں مٹھاس تھی. جس کی شاعری انسانیت کا درس دیتی ہے اور عمل، محنت اور جہد مسلسل کا پیغام دیتی ہے. جس کی شاعری میں نفس کو مار کر خدا کی معرفت حاصل کرنے کا سبق ہے. جس کی شاعری میں عشق خدا کا درس ہے. جس کی شاعری میں ریاضت اور نفس کشی سے وجدان کی انتہا تک جانے کا سفر ہے. جس کی شاعری عرفان نفس سے بھرپور ہے. جس کی شاعری اندھیروں میں اجالا ہے. جس کی شاعری میں صبر کا سفر، دراصل حقیقی محبوب تک کا سفر ہے.
یہ عظیم خاتون ریاست جموں و کشمیر کی کشمیری زبان کی پہلی عظیم صوفی شاعرہ ہیں. ہندو انہیں ”لل ایشوری” اور ”لل دید” کے نام سے یاد کرتے ہیں تو وہاں پہ کشمیری زبان میں یہ ”للہ موج” کے نام سے جانی جاتی ہیں. مسلمان میں ”للہ عارفہ” کے نام سے مشہور ہیں. للہ عارفہ آج سے تقریباً ساڑھے چھ سو سال 1335 کو سرینگر سے تین میل دور ”پاندر ٹھن” گا ¶ں میں ایک برہمن کسان کے گھر پیدا ہوئی. برہمن زادی ہونے کی وجہ سے ہندو اپنے مذہب کا پیروکار مانتے ہیں تو وہاں مسلمان کے مطابق صوفیوں اور عالموں کی صبحت میں رہنے کے سبب سی حسین سمنانی کے ہاتھوں ان نے اسلام قبول کر لیا تھا. للہ عارفہ کی شاعری کی وسعت اور لطف سخن سے ان کا مذہبی کتابوں کا گہرا مطالعہ کرنے کا پتا چلتا ہے.
للہ عارفہ کی چھوٹی سی عمر میں پانپور کے ایک برہمن گھرانے میں شادی کر دی گئی وہ جب تقریباً سترہ برس کی تھی. شادی کا ہونا ہی تھا کہ ان پر ظلم ستم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے. ان کی مصیبتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا. ان کی ساس انتہائی بے رحم اور بدمزاج خاتون تھی جن کی بے رحمی اور بدمزاجی نے للہ عارفہ کو تنہا اور دکھی کر دیا. ان کے شوہر اپنی والدہ کے ظلم و ستم سے بیوی کو بچا نہ سکے.
للہ عارفہ تمام ظلم و ستم صبر سے برداشت کرتی رہی اور لبوں سے آہ تک نہ کی. ظلم کا اظہار نہیں کیا. برسوں یہ سلسلہ جاری رہا. روایت ہے کہ للہ عارفہ کی ساس ان کے برتن میں ایک پتھر رکھ دیتی تھی اور اس پتھر کے اوپر تھوڑے چاول ڈال دیتی اور گھر والوں کا یہ تاثر دیا جاتا کہ یہ بہت خوراک کھاتی ہے درحقیقت ان کے نصیب میں چند نوالے آتے. للہ برتن دھوتے ہوئے روز اس بٹے کو دھو کر واپس برتنوں میں رکھ دیتی. للہ عارفہ کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہوا.
ان نے کسی سے کبھی ذکر نہ کیا. ایک بار گھر میں دعوت تھی ا ¿نواع و ا ¿قسام کے کھانے تیار ہو رہے تھے. للہ پانی لانے ”یاربل” پر گئی تو ان کی سہیلیوں نے چھیڑتے ہوئے کہا آج تو تم مزے کرو گی واہ! مزے کے کھانے نوش فرما ¶ گی. یہ لفظ للہ عارفہ کے دل پر جا لگے اور جذبات قابو میں رہ نہ سکے للہ بول اٹھی
ہونڈ ماری تن یا کٹھ
للہ نلہ وٹھ ژلہ یہ زاہنہ
(خواہ مینڈھا ذبخ ہو یا بھیڑ
للہ کے لیے بٹہ نہیں ٹلے گا)
یہ بات للہ کے سسر کو کہیں معلوم ہوئی ان نے جب جائزہ لیا تو بات درست ثابت ہوئی. ساس کو وقتی ڈانٹ ڈپٹ ہوئی مگر للہ کی قسمت کا بٹہ واقعہ ہل نہ سکا.
للہ عارفہ پر سختیاں جاری رہی. ساس کے ساتھ ساتھ شوہر کا رویہ بھی ظالمانہ ہوتا چلا گیا. للہ عارفہ نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا. دکھ سہتے ہوئے جہاں للہ میں صبر کا مادہ رچ گیا وہاں نفس کشی میں کامیاب رہی. برداشت نے وجدان بیدار کیا تو للہ کے دل کے جذبات لفظوں کی صورت دھارنے لگے.
جذبات شاعری کی صورت میں رقص کرنے لگے. للہ عارفہ الگ سی دنیا میں کھو گئی تنہائی ان کی ساتھی بن گئی دنیا کی ہر چاہت خود میں ہی مر گئی. ظالموں کی دنیا سے رابطہ توڑ کر للہ عارفہ نے دیوانوں کی شکل اختیار کر لی اور ویرانے کی طرف بڑھ گئی. دنیا سے ہر قسم کا رابط توڑ دیا. صوفیوں، سادھووں اور رشیوں کی مجالس میں بیٹھ کر علم کے موتی چننے لگی. معرفت کی تعلیم حاصل کرنے لگی. گھر والوں نے گھر واپس لانے کے لیے منت سماجت کی.
سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر للہ عارفہ حقیقی منزل کی تلاش میں نکل پڑی تھی دنیا کی سخت اور تلخ حقیقت ان پر آشکار ہو چکی تھی. رنگین نظاروں کے پیچھے خوفناک اور بھیانک انداز اور روپ سے واقف ہو چکی تھی.
برہمنوں نے ان کو اپنے ایک برہمن گرو شری کنٹھ کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی. گورو کی تمام نصیحتیں بے کار گئی. مباحثہ ہوا مگر ہندو فلسفیانہ دلائل اور نصیحتیں للہ عارفہ کے سامنے اثر نہ کر سکی. گورو للہ عارفہ کے ہی سوالات کا جواب نہ دے سکا. گورو کی ناکامی کے بعد تو کوئی مباحثہ کرنے کی ہمت نہ کر سکا. للہ عارفہ دیوانی مشہور ہوتی چلی گئی
للہ عارفہ دیوانی جنگلوں، بیابانوں اور گا ¶ں میں بے پروا پھرنے لگی. لباس پھاڑ کر عریانی کے عالم میں گھومنے لگی. ان پر بے شمار تہمتیں لگتی گئی مگر کبھی کوئی جواب نہ آیا رفتہ رفتہ تہمت لگانے والے لب خاموش ہوتے گئے. للہ عارفہ حقیقی راہ نما کے سفر میں صوفیوںاور عالموں کی مجالس میں جانے لگی. فرسودہ روایات کے خلاف آواز بلند کی. تمام ظالمانہ اقدام کے خلاف بغاوت کرتی چلی گئی. شاعری کے ذریعے ہر ظلم کے لیے آواز اٹھائی.
” اے نادان پنڈت! تمہیں کس نے بولا کہ بے جان پتھر کے لیے جاندار قربان کر. جو گھاس کھا کر اور پانی پی کر گزارا کرتی اور اپنے اون سے سردی میں تجھے بچاتی”
للہ عارفہ کے دور میں کشمیر میں دین اسلام کی کرنیں جگمگانے لگی. حضرت سید حسین سمنائی کشمیر تشریف لائے تو للہ ان کا استقبال کرنے دور تک گئی ان کا استقبال کیا. للہ عارفہ کی ملاقات جب امیر کبیر سید علی ہمدانی سے ہوئی تو پہلی بار للہ پر الگ کیفیت طاری ہو گئی. للہ عارفہ جو عریانی کے عالم میں رہتی تھی تمام جسم کو سمیٹ کر بیٹھ گئی. سید علی ہمدانی نے اس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اے خدا کی دیوانی! کس حالت میں آ گئی ہے برہنہ ہونے کا بھی علم نہیں؟
للہ عارفہ نے جواب دیا
اب تک میرے پاس سے عورتیں گزرتی رہی ہیں. ان میں کوئی مرد اور آنکھ والا نہ تھا. پہلی بار مرد خدا اور صاحب بصیرت نظر آیا.
ایک اور روایت ہے کہ اسطرح ایک بار سلطان قطب الدین کے جلوس میں شامل ہونے سید علی ہمدانی تشریف لائے للہ عارفہ کو ان کے آنے کا علم ہوا تو ستر پوشی کی فکر میں بد حواس ہو گئی اور جلتے تندور میں کود پڑی. نانبائی نے خوف کے عالم میں تندور میں ڈھکن رکھ لیا. تاکہ اس پر کوئی الزام نہ آ جائے. مگر جب علی ہمدانی شاہ صاحب نے تنور کا ڈھکن اٹھا کر بولا ”للہ باہر آجا ¶”.
دیکھنے والی آنکھیں محو حیرت تھی کہ للہ ایک خوبصورت اعلی لباس میں باہر نکل کر آ گئی.
للہ عارفہ شعر کہتی گئی لوگ اس کو یاد کرتے گئے. وہ محبت،اخوت اور عدل و انصاف کی پیروکار تھی تو ان کا کلام اس وجہ سے حکمت و معرفت کا خزانہ ہے. وہ دل کی بات کہتی رہی اور سامنے والوں کے دلوں پہ جا کر چسپاں ہوتی گئی. ان کی اشعار کو ”واکھ” کہا جاتا ہے. تمام Êشعار کو ”للہ واکھ” کے عنوان سے جمع کر دیا گیا.
للہ عارفہ ضلع اسلام آباد کے ایک قصبے میں وفات پا گئی اور حقیقی محبوب سے ملاقات کے تڑپ کا جذبہ پایہ تکمیل تک پہنچا. روایت ہے کہ ان کو ہندو ¶ں جلانا چاہ رہے تھے اور مسلمان دفنانا…… مگر جب چادر اٹھائی تو وہاں پھولوں کے سوا کچھ نہ تھا. کشمیر کی تاریخ میں اس بات کا ثبوت نہیں کہ ان کو دفنایا گیا یا جلایا گیا
للہ عارفہ کی شاعری کشمیری میراث کا ایسا خزانہ ہے جو صدیوں بعد بھی محفوظ ہے نسل در نسل سنایا اور سمجھایا جاتا ہے. ان کے اقوال کے مجموعے چھپ چکے ہیں. مشہور انگریز محقق سر جارج گریرسن نے ان کے کلام کو محفوظ کیا. سر رچرڈ ٹمپل نے انگریزی زبان میں ترجمہ کیا. ان کے کلام کے تراجم انگریزی، اردو، فارسی، عربی، پرتگالی، ہندی، جرمنی، فرانسیسی، ولندیزی، عبرانی اور کئی عالمی زبانوں میں کیے گئے. للہ عارفہ کے لیے نامور محققین اور م ¶رخوں نے بہت اعلی باتیں لکھی ہیں.
للہ عارفہ کے چند اشعار پیش خدمت ہیں
”ترجمہ:شکل و صورت کتنی اچھی ہے لیکن دل تمہارا پتھر. تمہارا دل اصل بات سمجھنے سے عاری ہے. پڑھتے لکھتے تمہارے ہونٹ اور انگلیاں گھس گئی ہیں لیکن دل کدورت دور نہ ہو سکی”
”ترجمہ: ریحان کی ٹہنی سے خوشبو کبھی نہیں جائے گی اور کتے کی کھال سے کافور حاصل نہیں ہو گا. ہاں اگر تو سچے دل سے رب کی تلاش کرے گا تو وہ بھی تیری طرف آئے گا ورنہ فضول باتوں سے کچھ حاصل نہ ہوگا ”
” ترجمہ:میں نے اسے ہر جگہ تلاش کیا دن رات چل چل کر، ہر ملک میں میں نے تلاش کیا. مگر کہیں کوئی اتا پتا نہیں ملا لیکن جب میں نے غور فکر کیا تو اسے ہر طرف پایا اور میں خود ہی کہیں نہیں”