صفائی نصف ایمان ہے

0 258
جناب قارئین حضرات یہاں خضدار شہر میں گندگی کے حوالے سے آپ کو دو کہانی سناتا چلو کہ شہر میں گندگی تو ہے- لیکن اس گندگی کی خبر کس کس کو ہے،گزشتہ روز میں نے ایک ٹی وی رپورٹ بنا کر نیوز ٹی وی کے لئے بھیج دیا، تو دوبارہ فون کال موصول ہوا کہ رپورٹ بہت خوبصورت ہے، آپ نے اکثر ٹی وی چینلز پر کوئی خبر دیکھا ہوگا کہ اگر اس سے قبل اس خبر کے بارے میں آپ کو معلومات ہوتو وہ خبر آپ کو درست اور مکمل سمجھ آجاتی ہے-اور اگر کوئی نیوز اچانک سننے میں آجائیں تو قارئین کو سمجھنے میں تھوڑی سی مشکل پیدا ہوجاتی ہے، اسی طرح میری وہ رپورٹ پہلے سے مشہور اور سنی سنائی، حق سچ پر مبنی تھی، اس طرح کے رپورٹس کو ٹی وی والی زبان میں انٹرنیشنل(بین الاقوامی) نیوز کہتے ہیں جو علاقائی خبروں کے علاوہ ہیڈ لائنز میں بھی ہوتے ہیں، پہلی کہانی یہی رہا کہ یعنی ٹی وی والوں کو معلوم ہے کہ چیف آفیسر خضدار بھی شہر خضدار پر عرصوں سے مسلط ہیں یہ تو شہر کے کسی(سیاسی) سربراہ کا بھی فیصلہ ہی ہوسکتاہے کہ چیف آفیسر کون ہونا چاھئے اور کون نہیں فیصلہ جس کا بھی ہو،جہاں بھی ہو، جو بھی چیف آفیسر کو جہاں رکھے مگر دوسروں کو دخل دینا نہیں چاھئے لیکن کئی شہروں اور قصبوں میں فیصلوں کے دوران بھی بعض چیف آفیسروں اور دیگر گواہان کی بھی لڑائی،جھگڑا ہوجاتی ہے، اسی میں کئی لوگوں کی ناک اور کان بھی فریکچر ہوجاتے ہیں،اس لئے کہتے ہیں دیکھ کر پیر رکھو کی کوشش کرو دوسرے پر الزام تراشی سے الیکشن میں اپنی پارٹی سربراہ اور محافظ کو جتوا نہیں سکتے یہاں پر دوسری کہانی سنانے سے پہلے آپ کو یہ بھی بتاﺅں کہ لوگ صرف اچھائی سے جانے نہیں جاتے ہیں دنیا میں قائم ہزاروں لوگوں کی ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جو اپنے خامیوں اور برائیوں سے بھی جانے جاتے ہیں، شاہ اورنگزیب کے استاد ارسطو کی مثالیں اس مضمون پر غور کے لئے ایک امتحان سے کم نہیں دوسری کہانی یہ ہے کہ شہر خضدار کے ساتھ ایک لفظ ہمیشہ سوٹ کرتا ہے، وہ لفظ یہ ہے “زیبائے خضدار”اس لفظ کا راز اس کہانی سنانے کے بعد پیش کرتا ہوں یہ خوبصورت شہر گندگی کے حوالے سے انٹرنیشنل (بین الاقوامی) کہانی بھی پہلے کہانی سے کچھ مختلف نہیں ہے بس یہ کہانی بھی ایک بین الاقوامی ٹی وی اور میرے درمیان ہی ہے،ایک دفعہ لاہور سے ایک (پی ٹی سی ایل) نمبر سے فون کال موصول ہوا، روابط ہونے پر معلوم ہوا ” ایک بین الاقوامی ٹی وی چینلز سے فون ہے، انہوں نے مجھے گندگی پر مضمون دیکر کہا کہ اس پر ایک انٹر نیشنل رپورٹ بنارہے ہیں، اس حوالے سے ہمیں پوری مکمل رپورٹ چاھئے، یہاں میں حیران ہوا کہ خضدار میں گندگی سے بڑھ کر بڑے مسائل ہیں ان پر کوئی رپورٹ بنانے کو نہیں کہتا یہ ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے اس پر رپورٹ مانگ رہے ہیں، وہ کہتے ہیں نہ،جتنے قریب ہوتے ہیں، اتنے ہی دور ہوتے ہیں، بغل میں لوگ نظر نہیں آتے دور والے کا پوچھتے ہیں،کون ہے اور کیوں ہیں خیر رپورٹ بنا کر دیا، لفظ زیبائے خضدار آپ چاھے جس زبان میں ادا کریں سننے والا انگریز ہو یا چائنا کا گورا چائنیز اس کو سمجھ آجاتا ہے کہ ایک خوبصورت انداز ادا ہونے والا لفظ “زیبا” خوبصورتی ہی تعریف ہے، باہر کے لوگ اگر یہاں پہ آئے تو یہ لفظ ضرور سیکھ کے جاتے ہیں یا اسے ہم اپنے کلچر انداز بھی کہہ سکتے ہیں، اور یہ ہمارے ٹرک ڈرائیور کو کی بھی خاصیت ہے کہ وہ اپنے شہر کی خوبصورتی کو بیان کرنے پر اپنے ٹرک کے پیچھے “زیبائے خضدار” لکھ کر پوری ملک میں خضدار کی زیبائی کو روشناس کردیتے ہیں ان چیف آفیسرز سے ٹرک ڈرائیورز بھی اچھے ہیں جو اپنے شہر خوبصورتی کو ہر وقت بیان کرتے ہیں،یہاں پر صرف یہ بتاتا چلوں کہ ہمیں علم تو ہے پر احساس نہیں کہ ہمارے اردگرد کیا ہے،کیوں ہے، کتنی خوبصورتی ہے، اس کے علاوہ کیا ہونا چاہئے۔ کچھ روز قبل وزیر اعلی بلوچستان، خضدار پہنچا تو چیف آفیسر نے شہر کو دلہن کی طرح سجا دیا، شاھد کچھ لوگوں کا سوچ یہی ہوگا کہ کسی بھی معلوم نہیں ہی نہیں ہوگا کہ خضدار حقیقتاً ایسا ہی خوبصورت ہے، ہماری رویات میں ہیں کہ ہم مہمان کو بڑی خوشیوں کے ساتھ خوش آمد کہتے ہیں اور اس کے بعد اپنی ثقافت کی خوبصورتی اور اپنی پہچان تک لے جاتے ہیں، بعد میں جو ہوا اللہ جانے وزیر اعلی بھی آیا سب کچھ دیکھا اور چلا بھی گیا،وہ شخص بڑا خوش قسمت ہی ہوگا جو اس دن خضدار شہر کی خوبصورتی کو اپنے نظروں میں قید کیا ہوگا، تصویریں دیکھ کر میں بھی افسوس کرنے لگا، اس مضمون پر دل کرتاہے اپنے اولادوں کے لئے ایک کتاب تحریر کروں، جو ہمیں اللہ نے چیف آفیسر عطا کیا ہے بس دعا کریں کہ شہر میں صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے اور ساتھ میں پل وغیرہ کی بھی صفائی ہورہی ہے، یہ میں کسی میجر یا جنرل کی بدولت کہوں یا چیف آفیسرز کی حب الوطنی، صفائی کرنے والے سویپر حضرات کو بھی کافی ڈر ہے وہ غیر حاضر رہے تو ان کی تنخواہ سے کٹوتی بھی کی جاسکتی ہے، اس ڈر وہ بھی حاضر دماغی سے صفائی ستھرائی میں دلچسپی لینے لگے ہیں، اسی طرح چیف آفیسر سمیت دیگر سیاسی حضرات خاص کر اسمبلی ممبر حضرات ترقیاتی کاموں پر بھی توجہ دیں، انکی توجہ کی بدولت سیوریج لائن کے گندا پانی سے بچ کربطور ایک مسلمان ہم سیدھے جامع مسجد کا رخ کرکے ان کے لیے نیک شگن کے خواہش مند ہونگے، پڑھنے کا شکریہ۔
You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.