ایچسن کالج

0 50



لیں جی آہستہ آہستہ کام شروع ہو گیا ہے۔گویا ایک نیا کٹا کُھل گیا ہے۔ جی ہاں وفاقی وزیر احد چیمہ کے بچوں کی فیس معافی کے معاملہ کی خبر آجکل خاصی گرم ہے اس کو موجودہ حکومت کا پہلا سکینڈل قرار دیا جا رہا ہے۔چنانچہ اسکی بنا پہ ایچی سن کالج کے پرنسپل مائیکل اے تھامس اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ ان کا تعلق آسٹریلیا سے ہے۔

ایچی سن کالج کے پرنسپل نے اسٹاف کوخط کے ذریعے اپنے استعفے سے آگاہ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ گورنرہاؤس کےمتعصبانہ اقدامات نے اسکول کی گورننس اور نظم و نسق کو خراب کیا،کچھ لوگوں کو ترجیح دینے کے لیے اسکول کی پالیسی کو نقصان پہنچایا گیا۔
خط میں مزید کہا گیا کہ اسکول میں سیاست اور اقربا پروری کی کوئی گنجائش نہیں، یکم اپریل کے بعد مینجمنٹ اور داخلوں میں کوئی کردار ادا نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ احد چیمہ کی بیوی نےفیس معافی کیلئےگورنر پنجاب کو درخواست دی تھی،گورنر پنجاب کے کہنے پر احد چیمہ کے دونوں بچوں کی 3 سال کی فیس معاف کی گئی۔

گورنر پنجاب کے حکم نامے کے مطابق انہوں نے ہمدردانہ غور کرتے ہوئے وفاقی وزیر احد چیمہ کے بچوں کی فیس معاف کی،کالج کے پرنسپل نے منظور شدہ چھٹی کے دورانیے کے بعد اسکول جوائن نہ کرنے پر احد چیمہ کے بچوں کا داخلہ بھی منسوخ کیا تھا،گورنر پنجاب نے پرنسپل کے وہ آرڈرز بھی مسترد کردیے تھے۔

گورنر پنجاب نے وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ کے دو بیٹوں کی تین سال کی فیس معاف کی تھی جو ایچی سن کالج/سکول میں زیر تعلیم تھے’ جس پر ایچی سن کالج کے پرنسپل نے استعفیٰ دیا۔

اسی طرح پاکستان کے معروف بزنسمین اور ایچی سن کالج منیجمنٹ کمیٹی کے ممبر سید بابر علی شاہ نے بھی احتجاجا” منیجمنٹ کمیٹی سے استعفی دیدیا ہے۔
ہمارے ہاں جیسی مرضی گورنس آ جائے، جتنے بڑے بلند و بانگ دعوے کئے جائیں ، جیسا مرضی نظام لے آئیں یہ اربابِ اختیار کی مداخلت کہیں نہ کہیں اپنا رنگ ضرور دکھاتی ہے۔یہ چیز اب بدقسمتی سے ہمارے کلچر کا حصہ بن کے رہ گئی ہے۔ اور پھر یہ کوئی آج کا مسلہ نہیں ہے۔ اسطرح کی مداخلت ہر دورِ حکومت میں ہوتی رہی ہے۔لہٰذا مجھے اس خبر پہ کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی ہے۔
لیکن یہاں جو زیادہ شرمندگی والی بات ہے وہ غیر مُلکی پرنسپل کے سامنے اسطرح کی نموشی والی حرکت ہے۔ کیونکہ ان مغربی ممالک میں اور مسائل ضرور ہیں، مگر یہاں ادارے بہت مضبوط ہیں اور کوئی بھی سیاسی دباؤ والا چکر ان مُلکوں میں قطعا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایسے مسائل نہیں ہیں۔ اور سارا سسٹم بڑا smooth چلتا ہے۔
لہٰذا اسطرح کی حرکت ایک غیر مُلکی کے سامنے کر کے ہم کیا ثابت کر رہے ہیں کہ ہم کیا ہیں؟ اگر تو ترقی کرنی ہے ، گزشتہ غلطیوں کو سدھارنا ہے تو پھر اسطرح کی سیاسی مداخلت کرنے سے گریز کرنا ہو گا، لیکن اگر گزارہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اور چارہ ہے یہی کچھ کرنا ہے تو پھر کم از کم پرنسپل کوئی اپنا بندہ لگائیں تاکہ آسانی سے سارا کچھ افہام و تفہیم سے سَر انجام پا جائے اور گھر کی بات گھر میں ہی رہ جائے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.