آخر بیشتر اشیا کی قیمت 99 پر کیوں ختم ہوتی ہے؟

0 325

آخر بیشتر اشیا کی قیمت 99 پر کیوں ختم ہوتی ہے؟

ہو سکتا ہے کہ آپ نے کبھی غور کیا ہو مگر موبائل فونز، عام اشیا یا دیگر کی قیمتوں میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے۔ان سب کی قیمتیں 99 یا .99 پر ختم ہوتی ہیں۔
ہم میں سے بیشتر تو 99 یا 1099 میں کچھ خریدتے ہوئے سوچتے نہیں، مگر اس بارے میں سوچا جائے تو کچھ عجیب لگتا ہے کہ آخر قیمت پوری 100 یا 1100 روپے کیوں نہیں رکھی جاتی؟

5000 ڈالر ماہانہ، ٹوئٹر نے سٹارٹ اپس کیلئے نئی ایپلی کیشن لانچ کردی

تو اس کے پیچھے کیا وجہ چھپی ہے، کیا اس کا مقصد آپ کو زیادہ خرچ کرنے پر مجبور کرنا ہے؟اس کا جواب ہاں ہے مگر بات یہی تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے چھپی وجہ بہت سادہ ہے۔ماہرین کے مطابق بنیادی طور پر اس طریقہ کار کو سائیکولوجیکل پرائسنگ کہا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ لوگ قیمتوں کو بائیں سے دائیں جانب پڑتے ہیں اور ہم آغاز کے مقابلے میں اختتامی نمبروں پر کم توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

سلمان خان کے گارڈز کا وکی کوشل کو دھکا ، ویڈیو وائرل

ان کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ کار اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے جب ہم بیک وقت متعدد اشیا کی قیمتوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی قیمت کے ابتدائی نمبر دیگر کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔تو پہلا نمبر بیشتر افراد کو قائل کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کسی شے کے 99 روپے دینا 100 روپے دینے کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے۔
یقین کرنا مشکل ہوگا مگر جب ہم کسی چیز کی قیمت 99 روپے دیکھتے ہیں تو ہم اسے 90 سے 99 روپے کی رینج سے منسلک کرتے ہیں، 100 کا خیال ذہن میں بہت کم آتا ہے۔تو ایک روپے کی کمی بہت زیادہ نفسیاتی فرق پیدا کرتی ہے۔

سستے تیل کے حوالے سے خوشخبری

کچھ ماہرین کا تو کہنا ہے کہ یہاں تک کہ جب ہم کسی چیز کی پرائس ٹیگ 99.99 پیسے دیکھتے ہیں تو یہ سوچتے ہیں کہ قیمت 99 روپے اور کچھ پیسے ہے اور 100 روپے کا نہیں سوچتے۔اس کے مقابلے میں اسی چیز کی قیمت 100 روپے لکھی ہو تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ مہنگی ہے حالانکہ قیمت میں اضافہ محض ایک پیسے کا ہی ہوتا ہے۔99 کا ہندسہ کسی شے کے ساتھ لگا ہوا ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ سیل میں فروخت کی جارہی ہے اور لوگوں کو لگتا ہے کہ اسے خرید کر انہیں فائدہ ہی ہوا ہے۔

یہ کس مشہور خاتون سیاستدان کا بچپن ہے؟

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.