اڑتی پتنگ کٹتی سانس

0 43

تحریر: عمارہ کنول

وہ لال والی کاٹ پیلی کو نہ چھیڑنا, پتنگ نہ کٹی لیکن ماں باپ کے اکلوتے بیٹے کی سانس کی ڈور ضرور کٹ گئی۔ گھر کا اکیلا چشم وچراغ لاکھوں منتوں مرادوں سے مانگا ہوا ماں باپ کا گوشہ جگر ان سے بہت دور چلا جاتا ہے جہاں سے وہ کبھی لوٹ کر واپس نہیں آئے گا۔
یہ کیسا کھیل ہے جس سے نہ صرف کھلاڑی بلکہ راہ چلتے معصوم لوگ نہ صرف زخمی ہو رہے ہیں بلکہ مر رہے ہیں حتی کہ آسمان سے اڑتے پرندے تک محفوظ نہیں۔
کچھ والدین تو اپنے بچوں کو پتنگ بازی سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن پاکستان میں اکثر گھرانوں میں اسے برا نہیں سمجھا جاتا۔
پتنگ بازی برصغیر کی تاریخ اور ثقافتی تہوار بسنت کا حصہ ہے جو عام طور پر موسم بہار کے اوائل میں منایا جاتا ہے بعض علاقوں میں فصل کٹنے پر بھی پتنگ بازی کی جاتی ہے۔
پنجاب حکومت نے تو پابندی لگائی ہوئی ہے برحال پابندی برائے نام ہے لوگ سرعام پتنگ بازی کر رہے ہیں مگر سیکورٹی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
گذشتہ دنوں میں فیصل آباد میں درجنوں لوگ زخمی ہوئے اور کئی تو جان تک گنوا بیٹھے ہیں۔ آخر وجہ کیا ہے؟ کیوں پتنگ بازی اتنی خطرناک ہے؟ وجہ یہ ہے کہ پتنگ بازی میں سب سے خطرناک عنصر اس مخصوص دھاگے کا ہے جسے ڈور یا مانجا کہتے ہیں۔ اس ڈور کو مضبوط بنانے کے لیے شیشے کے باریک ٹکڑے اور کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ایک تیز دھار آلے کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور انسانی جسم کے کسی بھی نرم حصے کو آسانی سے کاٹ سکتی ہے۔ ڈور یا مانجے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس میں دھاگے کی بجائے باریک دھاتی تار کا استعمال کیا جاتا ہے جو مزید خطرناک اور جان لیوا شکل اختیار کر لیتی ہے۔
پاکستان میں راولپنڈی, لاہور, فیصل آباد جیسے شہروں میں ایسے واقعات ہزاروں میں ہوتی ہیں خصوصاً موٹرسائیکل سوار نیچے آتی ڈور کا زیادہ آسانی سے شکار ہوتے ہیں چھتوں پر چڑھ کر پتنگ بازی کرنا ویسے بھی خطرناک عمل ہے کیونکہ چھتوں سے گر کر بچوں نے اپنا نقصان کیا ہے کٹتی پتنگوں کو لوٹنے کے لیے اکثر بچے ان کے پیچھے بھاگتے ہیں اور نتیجتاً ٹریفک حادثوں کا شکار ہوتے ہیں ۔
پتنگ بازی جیسے خونی کھیل سے ہر سال کئی ضروری جانیں ضائع ہوتی ہیں عوام کے اندر شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے بچوں کو اس کھیل سے دور رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
آخر یہ کیسا کھیل ہے جس کا معاوضہ بےگناہ معصوم انسان کی جان ہے یا بےگناہ بےزبان جانوروں کی موت ہے۔
ذرا نہیں پورا سوچیں !!!

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.