کوئٹہ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں وزیرستان میں دھرنا دینے والے مظاہرین پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ

0 137

کوئٹہ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں وزیرستان میں دھرنا دینے والے مظاہرین پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ 70سالوں سے ایف سی آر کے کالے قانون کے تحت غیور پشتونوں کو اپنے حقوق سے محروم رکھنے والے انہیں مزید غلامی کی زنجیروں میں نہیں رکھ سکتے نہتے مظاہرین پر طاقت کا استعمال کسی صورت قبول گرفتار افراد کی رہائی و زخمیوں کو طبی سہولیات کی فراہم کی جائے، بیان میں کہا گیاکہ حکومت اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرے اور ایسا ماحول پیدا کرنے سے گریز کرے جو ملک اور جمہوریت کیلئے خطرے کا باعث ہو، ریاست میں اپنے جائز حقوق کیلئے اٹھنے والی آوازحکمرانوں کو کھٹک رہی ہے اور بد حواسی کے عالم میں ایسے فیصلے کئے جارہے ہیں جس سے ملک بے چینی اضطراب کی جانب بڑھ رہا ہے، ملک میں پنجاب اور پختونخوا کے مظاہرین کیلئے الگ الگ قانون ہے، پنجاب میں مظاہرین کو انعامات اور پختون مظاہرین کو گولیاں ماری جا رہی ہیں، رمضان کے مبارک ماہ میں اپنے مطالبات کیلئے مظاہرہ کرنے والوں پر فائرنگ اور تشدد ظلم کی انمٹ داستان ہے،پرامن مظاہرین پر گولیاں برسانا کہاں کا انصاف ہے،قبائلی عوام کی ضروریات پوری کرنے کی بجائے ان پر گولیاں چلا کر دنیا کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ نو جوانوں کو پر امن رہنا ہوگا ورنہ بعض قوتیں اپنے مقا صد میں کا میاب ہو جائیں گی،بیان میں اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ امن کی خاطر جانی و مالی نقصانات اٹھانے والوں پر احتجاج کے دوران فائرنگ کی جا رہی ہے، پورے واقعے میں میڈیا نے منفی کردار ادا کیا،قوم کو تصویر کا دوسرا رخ دکھانے سے کون روک رہا ہے؟ احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اقتدار کے نشے میں مست حکمران حقیقت کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کریں،حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور تدبر اور بصیرت سے کام لیتے ہوئے جمہوریت کیلئے برداشت کے کلچر کو اپنائے، سیاسی محاذ آرائی ملک و قوم کیلئے کبھی بھی نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا ،بیان میں کہا گیا کہ قبائلی اضلاع کے عوام کو مزید اندھیروں میں زیردست نہیں رکھا جاسکتا انہیں ملک کے دیگر علاقوں کی طرح تمام آئینی سیاسی جمہوری حقوق حاصل ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.