شہر قائد کےساتھ ناانصافیاں ، آخر کب تک ؟

0 23

تحریر :سیدبلال حقانی

جب بھی سیاستدانوں اور منتخب نمائندوں کے کراچی کے بارے میں کی گئی بیانات کی بھرمار سنتا ہوں تب شدت سے جی چاہتا ہے کہ ملک کے معاشی و اقتصادی مرکز کراچی کے حالت زار پے چند سطور قلمبند کروں۔ الحمداللہ وہ موقع بھی آں پہنچا۔
ملک کو 70 فیصد ریونیو دینے والے اس شہر کراچی کے ساتھ ناانصافیاں عرصہ دراز سے چلی آرہی ہے۔ کبھی تجاوزات کے نام پر لوگوں کی معاشی قتل عام کیاجاتا ہے، کبھی ناروا ٹیکسز کی آڑ میں بڑے بڑے بزنس مینز پے ٹیکسز لاگو کرانے کے بجائے متوسط طبقے پے بھاری ٹیکسز لاگو کرکے انہیں کاروبار بند کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔
مسائل کے انبار پر لکھتے لکھتے شاید ایک کتاب بھی کم پڑے۔

اب تو المیہ یہ ہے جہاں ملک کے طول و عرض میں تمام معاملات زندگی کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں بھی بحال ہوچکی ہے وفاقی حکومت ملک میں ہر قسم لاک ڈاون ختم کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔مگر سندھ حکومت وفاق سے اپنی سیاسی جنگ کی خاطر شہرقائد کی پرواہ نہ ان میں اڑھائی کروڑ بسنے والے عوام کا احساس ہے۔ انہوں نے اندرون سندھ کے ساتھ شہر قائد کو جس دہانے پر پہنچایا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے۔
پاکستانی تاریخ میں میں نواز شریف واحد حکمران گزارا ہے جنہوں نے شہر قائد کی رونقیں بحال کرتے ہوئے امن و امان کی فضا قائم کی۔
جماعت اسلامی کے سابق مئیر مرحوم نعمت اللہ خان کے دور میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے۔ موجود مئیر وسیم اختر اور سندھ حکومت کے درمیان سیاسی جنگ کے باعث کراچی کے عوام کربناک صورتحال سے دوچار ہے مئیر عدم فنڈنگ کا رونا روتے ہوئے ٹال مٹول سے کام لے تے ہوئے مسائل کا ذمہ دار سندھ حکومت ٹہراتی ہے۔ جبکہ سندھ حکومت کا دعوی ہے کہ مئیر کام کرنا نہیں چاہتا۔ جبکہ اہلیان کراچی کا کہنا ہے کہ مئیر کو فنڈنگ نہیں مل رہی تو ان کو رونا رونے کے بجائے اپنی منصب سے احتجاجا استعفی دینی چاہئے۔ چیف جسٹس کے کراچی کے حالیہ دورے کے موقع پر وسیم آختر کو پیش کرنے کا حکم دیا وسیم اختر چیف جسٹس کے سامنے بھی یہی رٹ لگاتے رہے کہ سندھ حکومت فنڈنگ نہیں دے رہا چیف جسٹس نے یہی جواب دیا “کام نہیں کرسکتے ہو تو آرام سے گھر چلے جانا”کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔معاشی ،اقتصادی مواصلاتی لحاظ سے اسکا شمار دنیا کے مصروف ترین شہروں میں ہوتا ہے۔عموما کراچی پاکستان پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ (پاکستان) کے زیر اثر رہا یے۔ جب میں نے دونوں جماعتوں کی کارگردگی کا جائزہ لیا تو کسی ایک نے بھی کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا ہے۔جگہ جگہ مسائل کے انبار دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کراچی کے مسائل کی بنیادی وجہ کراچی کے وسائل پر قبضہ ہے۔سینٹرل گورنمنٹ ہو یا سندھ گورنمنٹ دونوں کی عدم سنجیدگی اور کرپشن کی وجہ سے شہر قائد کی ترقی کو داو پے لگایا۔ البتہ سابق مئیر مرحوم نعمت اللہ نے ریکارڈ ترقیاتی کام کئے اسکے علاوہ میاں نوازشریف واحد وزیر اعظم گزرے ہیں جنہوں نے شہر قائد میں امن و امان بحال کرانے کیلئے اہم رول ادا کیا۔ جو کہ قابل ستائش ہے۔اب نواز شریف رہا نہ مرحوم نعمت اللہ۔

ایک پابند سلاسل ہے جبکہ دوسرا اس دنیا میں نہیں رہا۔
مئیر کراچی وسیم اختر سے تو انسان ترقی کی امید نہیں لگاسکتا موصوف کو خود سپریم کورٹ نےپیش ہونے کا حکم دیا اور جواب طلبی کرتے ہوئے صاحب سے پوچھا کہ کام کیوں نہیں ہورہا ؟ وسیم اختر کا بس ایک ہی جواب تھا۔۔۔
“فنڈ نہیں مل رہا ” سندھ حکومت کا دعوی ہے وسیم اختر خود کام نہیں کرنا چاہتا۔ اب ان حکمرانوں سے انسان ترقی کی امید کیسے لگائے جو کہ خود توکام کرنے کے قابل نہیں ہے اور دوسروں کو بھی موقع نہیں دیتے۔
وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ جو کہ کرونا وبا کے بعد عوام کے تنقید کے زد میں ہے پورے پاکستان میں تمام کاروباری مراکز کھل گئے مگر شہر قائد میں اب بھی کاروباری حضرات کو کرونا کی بنیاد پے ذلیل کیا جارہا ہے۔ بڑے بڑے بزنسمنز پے ٹیکس لاگو کرانے کے بجائے متوسط کاروباری حضرات پے ٹیکسز لاگو کرنا تو پرانی بات ہے۔
سیوریج نظام کا تو اللہ ہی حافظ ! بارش ہوتے ہی پورا شہر سوئمنگ پول کا منظر پیش کررہا ہوتا ہے۔
جگہ جگہ گندگی، آلودگی ،ٹریفک ،سٹریٹ کرائم ،بھتہ خوری وغیرہ تو معمول کا حصہ ہے۔
سنئیر صحافی امرجلیل صاحب نے تحریر کیا ہے ” شہر کے اکثر سڑکوں کے دونوں اطراف کے فٹ پاتھ پر بینچ نصب ہوتے تھے۔ بینچوں کے درمیان بادام ، نیم اور پیپل کی درخت ہوتے تھے۔ممبئی اور کولمبو کی طرح کراچی ٹراپیکل شہر ہوتا تھا۔ 9 مہنے بادل شہر سے آنکھ مچولی کھیلتے رہتے تھے۔ کبھی مطلع ابرآلود ، کبھی بونداباندی ، کبھی ہلکی کبھی موسلادھار بارش ہوتی رہتی تھی۔مگر معمولات زندگی بہتر چل رہی تھی۔ امر جلیل صاحب مزید لکھتے ہے کہ کراچی کے چپے چپے پر صاف ستھرے دیدہ زیب ایرانی ریسٹورنٹ ہوتے تھے ایرانی اپنے ریسٹورنٹ کیلئےخوبصورت عمارتوں کے لئے مخصوص کونوں کا انتخاب کرتے تھے۔ ایرانی ریسٹورنٹ کے دونوں اطراف سے روڈ ملتے تھے۔ چلے گئے وہ لوگ بھی ، شہر کی ایک خوبصورت پہچان ساتھ لے گئے۔ کراچی کی اصلی شہر اجڑ گیا ایسا اجڑا کہ الوپ ہوگیا “-
کراچی دنیا میں تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں سے ایک شہر ہے۔ اس ل?ے اسے بڑھتی ہوئی آبادی، ٹریفک، آلودگی، غربت، دہشت گردی اور جرائم جیسے مسائل کا سامناہے۔ یہ تمام مسائل صرف اسی صورت میں حل ہوسکتے ہیں کہ جب ایسے افراد کے ہاتھ میں کراچی کا نظام دیا جائے جو کراچی شہر کی قدر کرنا جانتا ہو۔ اور اسے پاکستان کا دل سمجھیں۔ اور جو اسکی عروج پاکستان کا عروج اسکی زوال پاکستان کا زوال سمجھیں۔ ٹریفک کے حل کے لیے سابق سٹی ناظم نے اپنے دور میں کہا تھا کہ اگر ا±ن کے ہاتھ میں نظام دے دیا جائے تو وہ چند مہینوں میں حل کردیں گے۔ لیکن کچھ سرکاری لوگ چاہتے ہیں کہ ٹریفک کے سلسلے میں کرپشن ختم نہ ہو اور نظام اسی طرح چلتا رہے سو وہ ابھی تک چل رہا ہے۔
پاکستان کو اچھا دیکھنے کے لیے اور پوری دنیا میں پاکستان کا نام پیدا کرنے کے لیے کراچی کو بدلنا ہوگا۔امن کو بحال کرنے، کاروباری حضرات کو ریلیف دینے اور صنعتوں کو بحال کرنے کے لیے اقدام اٹھانا ہوگا۔ کراچی کا ہر شہری جب تک کراچی کو اپنا نہیں سمجھے گا حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔جب اس شہر نے ہمیں بہت سی ضروریات سے نوازا ہے تو ہمیں بھی اس کو دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.