بدکاروں کا شہر

0 324

تحریر محمدنسیم رنزوریار

قارئین کرام!!! آج ہم ایک ایسے فراموش کردہ شہر کا ذکر کریں گے کہ جو کئی ہزار سال پہلے اس دنیا سے غائب ہوچکا ہے لیکن یہ شہر آج تک دنیا کے ان کھلے رازوں میں سے ایک انتہائی اہم راز بنا ہوا ہے اس شہر کو شہر سوختاں یعنی جلا ہوا شہر کہتے ہیں چونکہ ہزاروں سال پہلے اس شہر کو ویران کرنے سے قبل تین مرتبہ جلایا گیا تھا اور اسی وجہ سے اس شہر کوشہر سوختاں کا نام دیا گیا یہ شہر دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں بلکہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور ایران کے بارڈر پر موجود ہے شہر سوختاں کو اس کے مکینوں کی بے حیائی جنسی رغبت کے باعث مشرق کا پومپئی بھی کہا جاتا ہے دنیا بھر کے لوگ اپنی جنسی خواہشات کی تسکین کے لیے شہر سوختاں کارخ کرتے تھے جبکہ تاریخ انسانی میں پہلی مرتبہ غیر اخلاقی موویز یعنی پوورن موویز کا مرکزی خیال بھی اسی شہر سوختاں میں پروان چڑھا یہ اپنے دور کا دولت مند اور گنجان آباد شہر ہوا کرتا تھا یہاں کے لوگ میڈیکل ٹیکنالوجی میں اس قدر آگے تھے کہ وہ دماغ کی پیچیدہ سرجریز سے لے کر نابینا افراد کی آنکھیں تک پرنور بنا دیا کرتے تو پھر وہ کون تھا کہ جس نے اس شہر بے مثال کوجلا کر بھسم کر دیا اس شہر کے قبرستان اس قدر پراسرار کیوں ہیں کہ سائنس آج تک یہاں دفن سوالات کے جواب نہیں دے سکتی تو چلیں اس جلے ہوئے شہر یعنی شہر سوختاں کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔بلوچستان اور ایران کے صوبے سیستان کے سنگم پر موجود یہ شہر تین ہزار دو سو قبل مسیح میں دریائے ہلمند کے کنارے آباد ہوا جبکہ کچھ سائنسدان شہر سوختاں کی آباد کاری کو اس سے بھی قدیم خیال کرتے ہیں یہ دو سو ایکڑ کے رقبے پر محیط ایک وسیع وعریض شہر تھا جس کی آبادی بہت زیادہ تھی شہر سوختاں کا اصل نام کسی کونہیں معلوم البتہ بہت سے مئورخین اس شہر کو قدیم افسانوی داستانوں میں موجود شہر آراتاں سے جوڑتے ہیں جس کا ذکر دنیا کی قدیم ترین داستان گلگامی سمیت بہت سی تاریخی کتابوں میں موجود ہے شہر سوختاں کی کھدائی کے دوران کچھ ایسی سڑکیں اورراستے دریافت ہوئے جواسے سندھ کے قدیم شہر موئیجو داڑو اور وادی دجلہ و فرات کے قدیم ترین شہروں سے جوڑتے تھے تاریخ دانوں کے مطابق شہر سوختاں اس وقت دنیا کا سینٹر یعنی مرکز ہوا کرتا تھا قدیم ہندوستانی اقوام اور نیسوپوٹیمیا neeso potemia میں رہنے والے قدیم لوگوں کی تجارت اسی شہر پر منحصر تھی اس شہر پر تحقیق سے ایک حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے اور وہ یہ کہ یہاں بسنے والے مرد انتہائی سست اور کاہل تھے یہاں کا تمام نظام حکومت اور معیشت کا پہیہ اس شہر کی عورتوں کے مرہون منت چلتا تھا دنیا بھر سے مختلف قبائل اور اقوام کے لوگ تجارت اور روزگار کی غرض سے یہاں آیا کرتے تھے اوراس شہر کی عورتیں انہیں اپنے جسم اور دیگر خدمات فروخت کر کے خوب پیسہ بنایا کرتیں اسی وجہ سے یہ شہر اپنے دورمیں بے حیائی کاسب سے بڑا مرکز بن چکا تھا جس کی نشاندہی اس شہر کے کھنڈرات اور اس میں موجود مقبروں سے بہ خوبی ہوتی ہے یہی وہ جگہ تھی جہاں پہلی مرتبہ ٹھہری ہوئی تصاویر کی جگہ چلتی پھرتی فلمز کی شروعات ہوئی شہر سوختاں سے ایسے برتن دریافت ہوئے ہیں جن پر کارٹون فلموں کی طرح مختلف مناظر کو علیحدہ علیحدہ رنگوں میں پینٹ کیا گیا تھا کہ اگر ان برتنوں کو تیز تیز گول گھمایا جائے تو یہ مناظر چلتے پھرتے محسوس ہوتے ہیں اور اپنے اسی طریقہ کار کی بدولت ان لوگوں نے دنیا کی پہلی قابل اعتراز فلم بھی تیار کی اس شہر سے ملنے والی سب سے حیران کن چیزیں یہاں موجود پراسرار قبریں ہیں حالیہ دنوں تک اس شہر میں چالیس ہزار قبریں دریافت ہو چکی ہیں ان میں سے ہر ایک نئی کھلنے والی قبر ایک نئے معمے کو جنم دیتی ہے اس قدیم قبرستان سے ملنے والی ایک قبر نے محقیقین کواس وقت حیرت میں ڈال دیا کہ جب ان پر یہ انکشاف ہوا کہ اس قبر میں موجود مردے کی ہزاروں سال پہلے ایک پیچیدہ دماغی سرجری ہوچکی ہے جو ہماری اس ترقی یافتہ دنیا میں محض چند دہائیاں پہلے ہی ممکن تھی ایک بیس سالہ لڑکی کی قبر کھولنے پر پتہ چلاکہ اس لڑکی کی ایک آنکھ مصنوعی طور پر لگائی گئی تھی جوا سے دیکھنے میں مدد کرتی تھی ۔
یہ سب باتیں اس شہر میں بسنے والی قوم کے سائنسی عروج کی داستان بیان کرتی ہیں اس شہر سوختاں میں کچھ ایسی قبریں بھی پائی گئیں کہ جن کا احوال بیان کرتے ہوئے زبان شرم سے لڑکھڑانے لگتی ہے مردوں کو آپس میں مدغم کرکے دفنانے کی یہ رسومات جگہ کی کمی کے سبب رائج ہوئیں یا ان لوگوں کی بے حیائی اور فحاشی صرف ان لوگوں کی زندگیوں تک ہی محدود نہ تھیں بلکہ یہ قوم موت کے بعد بھی جنسی رغبت سے آزاد نہ ہوسکی تھی یہ سب باتیں دور جدید کے محقیقین کے لیے ایک ان سلجھا راز بنی ہوئی ہے سینکڑوں سال قائم رہنے اورعروج کی کئی منازل طے کرنے کے بعد اس انسانی بستی کا وجود اٹھارہ سو قبل مسیح میں اس دنیا سے ناپید ہو گیا یہاں کے لوگ اوران کا احوال زندگی جس قدر حیرت انگیز ہے اتنا ہی حیرت انگیز ان کا اختتام بھی ہے یہ پورا کا پورا شہر جلا دیا گیا تھا اور جس قوت نے بھی اسے جلایا تھا وہ اسے صرف ایک بار جلانے پر مطمئن نہ ہوسکی تھی بلکہ اسے مزید دو مرتبہ اور جلایا گیا ایسا کیوں ہوا یہ بات کوئی نہیں جانتا اسی لیے یہ شہر burnt city یعنی شہر سوختاں کہلاتا ہے جس کا مطلب جلا ہوا شہر ہے قدیم وقتوں کا یہ ترقی یافتہ شہر اپنے اندر ایک بہت بڑے خدائی عذاب کی کہانی سمیٹے ہوئے ہے کچھ مذہبی حلقوں کا ماننا ہے کہ چونکہ یہاں کے لوگ آگ کی عبادت کیا کرتے تھے لہذا انہیں آگ ہی کے ذریعے عذاب دیا گیا جبکہ بعض ماہرین اس شہر میں بڑھتی ہوئی عریانیت اور جنسی سرگرمیوں کو اس شہر کی تباہی کا ذمہ دارقرار دیتے ہیں اس شہر کی بربادی کی اصل وجوہات تو صرف پروردگار کی ذات ہی بہتر جانتی ہے آج مختلف ممالک کے بے شمار سیاح اس عذاب یافتہ شہر کو دیکھنے اور اس سے عبرت حاصل کرنے کے لیے یہاں آتے ہیں جبکہ بہت سے ممالک کے آرکیالوجسٹ یہاں تحقیقات میں مصروف ہیں لیکن یہ لوگ اس شہر کی باقیات پر جس قدر تحقیق کرتے ہیں اس شہر سے جڑی پہیلیاں مزید الجھتی جاتی ہیں شاید مستقبل میں کوئی ایسی دریافت ہوسکے جواس شہر کی بربادی اور اس میں موجود قبروں سے متعلق رازوں کا پردہ فاش کرسکے ۔تو تاریخ کی ایسی مناظر اور معلومات عامہ سے سبق ملتا ہے کہ جو اقوام جو کرتے ہیں وہ ضرور پائے گے بھی اسلئے انسانی زندگی میں مطالعہ لازمی ہے کہ زندگی وقت کے برائیوں سے بچ سکے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.