حضرت ابوبکر صدیقؓ کے والد اور والدہ کے مختصر حالات زندگی (3)

0 170

صدر: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (مشرق وسطی)
(1)…حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے والد کے مختصر حالات:

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے والد محترم ابو قحافہ ؓ ؓعثمان بن عامر شرفائے مکہ میں سے تھے، اور نہایت معمر تھے۔ حضرت ابو قحافہ ؓعثمان بن عامر فتح مکہ تک نہایت استقلال کے ساتھ اپنے اٰبائی مذہب پر قائم رہے، فتح مکہ کے بعد جب رسالت مآبﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے، وہ اپنے فرزند سعید حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے، آنحضرتﷺ نے ان کے ضعف پیری کو دیکھ کر فرمایا، کہ انہیں کیوں تکلیف دی، میں خود ان کے پاس آجاتا، اس کے بعد رسالت مآبﷺ نے نہایت شفقت سے ان کے سینہ پر ہاتھ پھیرا، اور کلمات طیبات تلقین کرکے مشرف باسلام فرمایا۔ حضرت ابو قحافہ ؓ نےبڑی عمر پائی، آنحضرتﷺ کے بعد اپنے فرزند ارجمند حضرت ابو بکر ؓ کے بعد بھی کچھ دنوں تک زندہ رہے، آخر عمر میں بہت ضعیف ہو گئے تھے، آنکھوں کی بصارت جاتی رہی۔ 14ھ میں 97 برس کی عمر میں وفات پائی۔
(الاصابہ ج 4 ص 222)

(2)…حضرت ابوبکر ؓ کی والدہ کے مختصر حالات:

حضرت ام الخیر سلمیٰ ؓ بنت صخر کو ابتداہی میں حلقہ بگوشان اسلام میں داخل ہونے کا شرف حاصل ہوا، ان سے پہلے صرف انتالیس اصحاب مسلمان ہوچکے تھے، یہ قلیل جماعت باعلان اپنے اسلام کا اظہار نہیں کرسکتی تھی، اور نہ مشرکین وکفار کو ببانگ دہل دین مبین کی دعوت دے سکتی تھی؛لیکن حضرت ابوبکر ؓ کا مذہبی جوش اس بے بسی پر نہایت مضطرب تھا، آپؓ نے ایک روز نہایت اصرار کے ساتھ آنحضرتﷺ سے اجازت لے کر مجمع عام میں شریعت حقہ کے فضائل و محامد پر تقریر کی، اور کفار ومشرکین کو شرک و بت پرستی چھوڑ کر اسلام قبول کرلینے کی دعوت دی، کفار ومشرکین جن کے کان کبھی ان الفاظ سے مانوس نہ تھے، نہایت برہم ہوئے اور حضرت ابوبکرصدیق ؓ کو نہایت بے رحمی کے ساتھ اس قدر مارا، کہ بالآخر بنی تمیم کو باوجود مشرک ہونے کہ اپنے قبیلہ کے ایک فرد کو اس حال میں دیکھ کر ترس آگیا، اور انہوں نے عام مشرکین کے پنجۂ ظلم سے چھڑاکر ان کو مکان تک پہنچادیا، شب کے وقت بھی حضرت ابوبکرؓ باوجود درد اور تکلیف کے اپنے والد اور خاندانی اعزہ کو اسلام کی دعوت دیتے رہے، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ دریافت کرکے اپنی والدہ کے ساتھ حضرت ارقم ؓ کے مکان پر تشریف لائے، اور آنحضرتﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی، اور وہ مشرف باسلام ہوگئیں۔
(الاصابہ ج 8 ص 229)
حضرت ام الخیر ؓ نے بھی طویل عمر پائی، چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی خلافت تک زندہ رہیں، لیکن اپنے شوہر سے پہلے وفات پائی۔
(الاصابہ ج 8 ص 229 ا بحوالہ طبرانی)

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.