سلگتا بلوچستان، کثیر القومی صوبہ کے اندر اصل مسئلہ ہے کیا؟؟؟ ( قسط نمبر 03)
معدنی وسائل ،زراعت و لائیو سٹاک اور صحرا و ساحل کے وسیع و قیمتی
وسیلے رکھنے کے باوجود بلوچستان ترقی و خوشحالی کا راستہ کیوں کر کھو گیا ہے ؟انسانی حقوق کی حفاظت و پاسبانی اور ھیومئن ڈیولپمنٹ انڈیکس میں بہتری و توانائی
لانے کا فیصلہ کیوں نہیں
کرتے ہیں مقتدرہ و قوت محرکہ کے مالکان ـدسمبر 2024ء میں کراچی کتاب میلے کے موقع پر ہفتے بھر کے دورے کے دوران انجینئر امین احمد صاحب محترم کی خدمت و مجلس سب سے زیادہ موثر و معتبر اور تفصیلی و ثمر بار رہی بقیہ مجالسِ و ملاقاتوں کے تفصیلات بھی قلمبند کرنے کی کوشش کرتے ہیں ـ
چار پانچ گھنٹوں پر محیط اس وسیع المقاصد مجلس/ گیدرنگ میں ایک انتہائی اہم و معنی خیز مرحلے میں جب دوستوں کی قہقہوں کی آوازیں بھرپور تھیں تو دارالعلوم کراچی کے ممتاز عالم دین مولانا محمد زکریا صاحب نے خاکسار سے بلوچستان کے مسئلے و ایشو کو 💓💓 سمجھنے کا سوال داغ دیا کہ اصل سوال کیا ہے بدامنی کیوں زوروں پر ہیں اور خود صوبہ کے اندر صورت حال احوال اصل میں ہے کیا ـ
یہ وہ سوالات و چیلنجرز ہیں جسے سمجھنے کے لئے خود مجھے میٹرک سے پہلے یعنی 1988ء //1990ء سے متحرک و بھرپور کردار ادا کرنے پر آمادہ کر رکھا ہے
صوبے کے اندر ڈیڑھ پونے دو کروڑ مرد و عورت اور بچے و بزرگ رہتے ہیں جو 25 کروڑ انسانوں کے سمندر میں صرف چند فیصد ہے جبکہ رقبہ 47/48 فیصد حصہ ہے وطن عزیز پاکستان میں معاہدہ عمرانی کا امکانی مستقبل اور مخدوش صورتحال میں راہنمائی اور انسانی نفسیات و احساس دردمندی کے فروغ و تبادلہ خیال کے لئے جہاں پورے پاکستان میں مکالمے اور ڈائلاگ و بصیرت افروز خیالات کے ذریعے سماجی و معاشی ترقی و خوشحالی لانے کے لئے ضروری اقدامات درکار ہیں وہی پشتون بلوچ قوم کے مسکن یکطرفہ نام رکھنے والے صوبہ میں یکطرفہ عسکری دائروں میں گردِش کرتے ہوئے بیانیہ اور پروپیگنڈا کی ناکامی بھی طشت ازبام ہوچکی ہیں سیدنا حضرت عمر فاروق رض کے دور میں فتح ہونے والے مکران اور لسبیلہ آج بھی بنیادی ضروریات زندگی پوری نہ ہونے کے باعث معاشرتی و معاشی ترقی کے لئے سازگار ماحول نہیں رکھتے ہیں جبکہ بیلہ کے تاریخی شہر کے پہلو میں مدفون محمد بن قاسم کے جرنیل محمد بن ہارون آج بھی مکرانیوں اور لاسیوں کے ساتھ ساتھ بلوچوں کے وفا اور عظمت و غیرت انسانی کی گواہی دینے کا روا رکھتے ہیں ریاست قلات سے بہت پہلے قندھار کے ساتھ وابستگی اختیار کرنے کے باعث نصیر خان نوری اور احمد شاہ ابدالی کے درمیان پشتون اور بلوچ قبائل میں مثبت و توانا کردار ادا کرنے کے باعث اعتماد و اعتبار کا فیصلہ موجود ہیں پشتون جہاں شال کوٹ کے مالک و مختار رہے ہیں وہی ہزارہ افغان قبائل کے ساتھ اپنے دور دراز علاقوں میں ہندوستان و پنجاب اور سندھ و کشمیر سے آمدہ ہزاروں لاکھوں افراد و طبقات کی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں وہی براھوئی و بلوچ قبائل نے اردو و فارسی بولنے والے افراد و طبقات کے ساتھ اقلیتوں کے حقوق و فرائض کا بھی بھرپور اور مثالی خیال رکھا ہے اس طرح قیام پاکستان سے پہلے کی طرح دیگر صوبوں و علاقوں میں ہندوستان و افغانستان سمیت تمام انسانی سوسائٹیوں سےقرض لےکر خوب و ناخوب کا سفر جاری رکھا گیا لیکن پاکستان کے بننے کے بعد اعتماد و اعتبار پیدا کرنے اور معاشی و تمدنی زندگی میں ترقی و توانائی لانے کے بجائے علمی و فکری مکالمے اور ڈائلاگ و بصیرت افروز تعلقات قائم نہ کرنے کی راہ اختیار کی گئی یوں 1948 ء میں ریاست قلات کے ساتھ معاہدے و قائد اعظم و دختر قائد محترمہ فاطمہ جناح کی آرزو مندی کے باوجود قلات کے شاہی خاندان و احباب پر راکٹ برسائے گئے یوں نوزائیدہ ملک نے اپنے ایک دوست و ضم شدہ سابقہ ریاست کے ساتھ بداعتمادی کی فضا پیدا فرمائی اور انسانی نفسیات و احساس دردمندی کے برعکس رویے نے پھلتے پھولتے آج آگ و بارود کی فضا قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے قصہ مختصر آج بھی بلوچ و پشتون قبائلیت کے جمود و تعطل سے نکل کر شہری و تمدنی زندگی اختیار کرنے کے لئے ضروری کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں مگر مجال ہے کہ ریاستی اداروں میں عقل و شعور اور آگاہی و احساس دردمندی نام و نسب کی نشانی پایا جانے لمحہ موجود میں معاشی و معاشرتی زندگی سنوارنے کے بجائے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی گئی ہیں اور وفاقی سیاست و پارلیمانی کردار و اقدامات اٹھانے کا راستہ ہموار کرنے کے بجائے بے اعتدالیوں کا شکار ہو کر رہ گیا ہے فی الوقت بلوچوں کی طرح پشتون قبائل بھی شامل جنگ بنانے کے لئے آمادہ کیا جارہا ہیں جبکہ ہزارہ قوم اور دیگر چھوٹے چھوٹے وحدتی اور انسانی اکائیوں کے اوپر حملہ آور ہوئے ہیں یوں حالات و رحجانات ایسے بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہوئے ہیں اور فوجی اشرافیہ بھی سرداروں و نیم گرم و ملاؤں کی پہلو میں نامرادی کا سفر مبارکہ طئے کرنے کا وسیلہ اختیار کر چکے ہیں یوں بیدار مغز نوجوان نسل پریشان حال ہے اور خواتین و بچیوں کی ارمانوں کا خون کیا جاتا ہے صبح و شام میں ایسے میں بلوچ و براھوئی خواتین و بچیاں بھی جوانوں کی قربانیوں کی یاد میں میدان عمل میں آئی ہیں اور ایک بند گلی کے تاریک دوراہے پر کھڑی معاشرت اور تمدن نوحہ کناں ہیں گوادر پورٹ اور ریکوڈک پروجیکٹ ، زراعت و مالداری کے وسیع مواقع جنگلات اور پہاڑوں کے درمیان مثبت و توانا آواز بلند کرنے کے بجائے عام آدمی کے مفادات و حقوق کا تحفظ ممکن نہیں ہوتا ہے اور یوں قہقہوں و احساس دردمندی کے بجائے خون و خوف زدہ ذہنیت کا دور دورہ ہیں اس سنگین نوعیت کی صورت حال میں مکالمے اور ڈائلاگ و بصیرت افروز خیالات و جذبات کی ترجمانی نا صرف ناممکن بنا دی گئی ہیں بلکہ حقیقت و واقعیت اور انسانی زندگیوں میں عظمت و حفاظت زندگی عطاء کرنے کے لئے آوازیں بھی خاموش کرانے کی دو بلکہ سہ طرفہ تماشا جاری رکھا ہوا ہے سلگتا بلوچستان کا پہلا سوال و فریاد بلوچ و پشتون اقوام کی تقدیر بدلنے والی راہ اختیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جبر و زبردستی کی شادمنے بجانے کے بجائے عام آدمی کے مفادات و حقوق کے تحفظ کے لئے قانون سازی کی خصوصی اقدامات اٹھانے کا راستہ اختیار کیا جائے اور اس ضمن میں قومی سطح پر اہل علم و دانش علمی و فکری مکالمے اور منظرنامہ کی تشکیل و تکمیل کے لئے فیصلہ کن فتح حاصل کرنے تک ممکن و ان تھک جدوجھد و اعتماد سازی کا فیصلہ کیا جائے یوں بیدار مغز اور بہادر و احساس دردمندی سے مالا مال قوم کے لئے ممکن ہے کہ اہل بلوچستان کے دل و دماغ دونوں کے ارمانوں کا سامان مہیا کیا جائے اور امن و ترقی کے لیے وسیلے تلاش کئے جائیں
مجلس میں سنجیدگی سے غور و تدبر اور تفکر و تعقل کے ساتھ سوالات و تاثرات کا اظہار کیا گیا اور اس خوبصورت اور دلکش منظر میں بلوچستان کے پانچ چھ تفصیلی دورے کرنے والے ممتاز محقق و دانشور پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان صاحب نے فرمایا کہ بلوچستان کے سلگتے مسائل و معاملات سمجھنے اور حل کرنے کی راہیں تلاش کرنے کی آرزو مندی کے لئے ضروری ہے کہ عبدالمتین اخونزادہ سال 2025 ء میں ریاست و وجاہت اور انسانی عظمت و رفعت پیدا کرنے کے لئے باقاعدہ تصنیف و تالیف کا اہتمام فرمائیں یوں صوبہ کے اقوام و عوام کا کیس پیش کرنے کے جرم میں سزا کے طور پر میرے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ کتاب لکھنے کی کامیاب و ناکام کوشش کی جائیں آپ دوستوں کی خصوصی توجہ و معاونت درکار ہیں دوستو 💓 ❤️ ورنہ دس گیارہ ماہ گزرنے اور دسمبر 2025 میں انجینئر امین احمد صاحب محترم کے بھرپور ضیافت کا اہتمام کرنا زیادہ دور نہیں ہے دوستو ـ##