ابلیسی خاندان

0 619
ابلیس کا اسم ذات۔ عبرانی لفظ ہے مگر اہل عرب اسے بلس سے ماخوذ کہتے ہیں جس کے معنی ناامید ہونے کے ہیں۔ چونکہ ابلیس کو اللہ سے کوئی امید نہیں رہی اس لیے ابلیس کہلایا۔ اسے شیطان اور عدو اللہ ”خدا کا دشمن“ بھی کہتے ہیں۔ قرآن اس کا ظہور ابتدائے عالم سے بتاتا ہے۔ اس نے آدم اور حوا کو بہکایا اور شجر ممنوعہ کے کھانے کی اس لیے ترغیب دی کہ وہ کہیں ہمیشہ جنت میں ہی نہ رہیں۔ جب اللہ نے آدمؑ میں روح پھونکی تو حکم دیا کہ تمام فرشتے ا ±سے سجدہ کریں۔ سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور آدم خاک سے۔ اس پر راندہ درگاہ کر دیا گیا۔ اس نے اللہ سے قیامت کے دن تک کی مہلت طلب کی جو دے دی گئی اور لوگوں کو بہکانے کی طاقت بھی دے دی گئی۔رزمیہ شاہنامہ میں ابلیس کی عکاسی بائبل میں بھی یہ قصہ قریب قریب اسی طرح مذکور ہے۔ علامہ زمخشری اسے جن مانتے ہیں۔ کیونکہ قرآن میں ہے۔ ترجمہ ”وہ جن تھا“ مگر بہت سے علما اسے فرشتہ مانتے ہیں۔ اور بعض علما نے یہ بھی کہا کہ جن بھی فرشتوں میں شامل تھے جو جنت کے محافظ تھے۔ مگر جن نارسموم سے پیدا کیے گئے۔ اور فرشتے نور سے تخلیق ہوئے۔ ابتدا میں جن زمین پر رہتے تھے۔ وہ آپس میں لڑنے لگے تو اللہ نے ابلیس کو ان کے پاس بھیجا۔ بعض روایات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابلیس ارضی جنات سے تھا۔[1] انجام کار شیطان اور اس کے ساتھیوں کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ وہ اپنے دوستوں سے کہے گا کہ تم پر لعنت ہو۔ اب تم سدا جہنم میں رہو۔ شیطان ابتائے آدم کو بہکانے میں مشغول رہتا ہے۔ مگر نیک بندوں پر اس کا بس نہیں چل سکتا۔[2] قرآن میں سب سے پہلے اس کا ذکر سورة بقر کے تیسرے رکوع میں آتا ہے۔ جہاں ابتدائے آفریشن اور سجدہ آدم کا ذکر ہے۔ ابتدائے آفریشن کے بیان میں اسے ابلس اور دوسرے مقامات پر شیطان کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ لیکن قرآن پاک میں شیطان کی جمع بھی آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پورا گروہ ہے۔ قرآن مں طاغوت بمعنی شیطان بھی جگہ جگہ آیا ہے۔ ابلیس کو عابد کے نام سے پکارا جاتا تھا سید سجاد الحسینی آف قبولہ لکھتے ہیں کہ جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کیا تو اللہ تعالٰی نے عابد کو دربارِ اکبری سے نکال دیا اور کہہ دیا کہ تم ابلیس ہو پھر ابلیس کے نام سے مشہور ہوا اور جب ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام و حواءعلیہ السلام کو بہکایا تو اللہ تعالٰی نے ابلیس کو لعنتی ٹھہرایا تو ابلیس کو شیطان کہا تو تب ابلیس دوزخی ٹھہرایا اور شیطان کے حامی بھی دوزخی ہی ہیں۔
ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام “طارانوس” کہا جاتا ہے اور یہ ابلیس سے 1 لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پر تھا. طارانوس می نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان کو موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نا بیماری تھی البتہ یہ چونکہ آتشیں مخلوق تھی تو سر کشی بدرجہ اتم موجود تھی.اس مخلوق کو پہلی موت پیدائش کے 36000 سال بعد آئی اور اسکی وجہ سرکشی تھی.
بعد میں “چلپانیس” نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپاگیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے مگر ان کے بعد “ہاموس” کو یہ زمہ دیا گیا.ہاموس کے دور میں ہی چلیپا اور نبلیث کی پیدائش ہوئی یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان کی قوم نے چلیپا کو شاشین کا لقب دیا جس کے معنی ہیں شیر کے سر والاان دونوں جنات کیوجہ سے ساری قوم کہنے لگ گئی کہ ہمیں اس وقت تک کوئی نہیں ہرا سکتا جب تک شاشین اور نبلیث ہمارے درمیان موجود ہیں اور ان ہی دونوں کیوجہ سے یہ جنات آسمان تک رسائی کرنے لگے اور تیسرے آسمان پر جا کر شرارت کر آتے تھے ایسے میں حکم ربی سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور عبرتناک شکست دی مگر اس سب میں عزارئیل موجودہ ابلیس یا شیطان نے دیکھا تو سجدے میں گر گیا. شیطان شروع سے ہی ایک نڈر اور ذہین بچہ تھا اس میں باپ کی بہادری اور ماں کی مکاری کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی تھی. اس نے ملائکہ کے ساتھ جا کر توبہ کا اعلان کیا اور فرشتوں سے علم سیکھنے لگا پہلے آسمان پر عابد پھر دوسرے پر زاہد تیسرے پر بلال چوتھے پر والی پانچویں پر تقی اور چھٹے پر کبازان کے نام سے مشہور ہوا اور یہ وہ وقت تھا کہ یہ فرشتوں کو سکھاتا تھا.ساتوں آسمان پہ ابلیس بقع نور میں رہا، ہفت افلاک کے سب ملائکہ کا معلم قرار دے دیا گیا۔ یہاں پہنچ کے اس نے اپنی عاجزی،ریاضت کی انتہا کر دی۔ کم و بیش چودہ ہزار{14000} اس نے عرش کا طواف کیا۔یہاں اس نے فرشتوں ےا استاد/سردار ”عزازیل” کے نام سے شہرت پائی۔ کم و بیش تیس ہزار {30000} سال یہ مقربین کا استاد رہا ہے۔ ابلیس کے درس و وعظ کی معیاد کم و بیش بیس ہزار{20000} سال ہے۔ فرشتوں کے ساتھ قیام کی مدت کم و بیش اسی ہزار{80000} سال ہے۔ابلیس جنت میں : حکم ہوا کہ داروغئہِ جنت “رضوان” کی معاونت کرو اور اہلِ جنت کو اپنے علم و فضل سے بہرہ ور کرو، یوں ابلیس کو جنت میں داخلے کا پروانہ مل گیا، جنت میں بھی اس نے اپنے علم و فضل کے دریا بہائے، دراغئہِ جنت”رضوان” کو بھی اپنے علم سے سیراب کیا۔ بعض روایات کے مطابق ابلیس چالیس ہزار سال40000} تک یہ فرض{خزانچی} انجام دیتا رہا اور اس مقام پر ابلیس نے بادشاہت کے خواب دیکھنے شروع کیےکئی اہل علم مانتے ہیں کہ اس نے 5 مصاحبین اپنی قوم میں بھیجے کہ میری اطاعت میں آ جاو مگر اس قوم نے انکو قتل کر دیا اور یہ سب اس نے اللہ کو بتا کر اجازت لیکر کیا قوم کی سرکشی کو مسلنے کے بعد ابلیس کے پاس ہفت اقلیم ہفت افلاک جنت و دوذخ سب کا اختیار تھا اور اس نے چپے چپے پر سجدہ کیا مگر اس نے اب خود کو بادشاہ بنانے اور رب بن جانے کے خواب دیکھنا شروع کیے اور کئی ملائکہ سے بات بھی کی مگر ان کے انکار کیوجہ سے چپ ہوگیا اور نظام چلتا گیا. مگر اس سب سے اللہ بے خبر نا تھا اور آدم کی تخلیق ہوئی. آدم کی تخلیق پہ جز بہ جز ہوتے ابلیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا نائب ہے تو اس نے واویلا کیا اور عبادت اور اطاعت کا طنز کیا کہ مجھ جتنی عبادت کس نے کی اور سجدے سے انکار کر دیا.یہ جذبہ حسد تھا کہ میری جگہ آدم خاک کو کیوں ملی یہ جذبہ غرور تھا کہ میں اعلی ہوں اور اس ایک سجدے کے انکار کی بات نہیں تھی بات سرکشی کی تھی شرک کی تھی ابلیس نے اپنے دل میں خود کو رب مان لیا تھا اور ایسے وہ تا قیامت آدم کو بھٹکانے کیلیے آزاد ہوا کیونکہ اسنے یہ مانگا اور سچے دل سے مانگا. اور ایسے ابلیس رسوا ہوا. ایک سجدہ جے تو گراں سمجھتا ہے ،ہزار سجدوں سے دیتا ہے بندے کو نجات.
You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.