شکر گزاری تقدیر بدل سکتی ہے

0 105

سید حسنین حماد بخاری

ایک صحرا میں ایک چھوٹا سا پرندہ رہتا تھا۔صحرا میں کوئی درخت نہ ہونے کی وجہ سے پرندہ دن بھر گرم ریت پر گھومتا پھرتا۔خدا کی طرف جاتے ہوئے ایک فرشتے نے چھوٹے پرندے کو دیکھا اور اسے ترس آیا۔اس نے جا کر پرندے سے پوچھا:
“اے چھوٹے پرندے! تم اس تپتے صحرا میں کیا کر رہے ہو؟ کیا میں تمہارے لیے کچھ کر سکتا ہوں؟”چھوٹے پرندے نے کہا
میں اپنی زندگی سے بہت خوش ہوں، لیکن یہ گرمی ناقابل برداشت ہے۔ میرے دونوں پاؤں جل رہے ہیں۔ اگر یہاں ایک درخت ہوتا تو مجھے خوشی ہوتی۔”
فرشتے نے کہا،
“صحرا کے وسط میں درخت اگانا میرے دائرہ کار سے باہر ہے۔ میں خدا سے ملنے جا رہا ہوں، میں اس سے پوچھوں گا کہ کیا وہ تمہاری خواہش پوری کر سکتا ہے۔فرشتے نے خدا سے پوچھا، کیا وہ پرندے کی مدد کر سکتا ہے؟ خدا نے کہا،میں صحرا میں درخت اگا سکتا ہوں، لیکن پرندے کی تقدیر میں درخت نہیں ہے۔ تاہم تم پرندے کو میرا پیغام دے دینا جس سے اسے گرمی سے بچنے میں مدد ملے گی۔ پرندے سے کہنا ایک وقت میں ایک پاؤں ریت پہ رکھے اور ایک اٹھا لے اس طرح ایک پاؤں کو تھوڑی دیر آرام مل سکتا ہے۔ پرندے سے یہ بھی کہنا کہ اپنی زندگی کی تمام اچھی باتیں یاد کرے اور ان کے لئے خدا کا شکر ادا کرے۔”
فرشتہ واپس وہاں آیا جہاں پرندہ تھا اور اسے خدا کی طرف سے یہ پیغام دیا۔
پرندہ اس پیغام سے خوش ہوا اور اس نے فرشتے کا شکریہ ادا کیا۔
کچھ دنوں کے بعد فرشتہ اسی صحرا کو پار کر رہا تھا کہ اسے ننھے پرندے کا خیال آیا۔
اس نے پرندے کو صحرا کے عین وسط میں بڑے سرسبز درخت پر بیٹھے دیکھا۔
فرشتہ پرندے کو آرام سے دیکھ کر خوش ہوا لیکن ساتھ ہی بہت حیران ہوا کیونکہ پرندے کی قسمت میں کوئی درخت نہیں تھا۔
فرشتہ خدا سے ملنے گیا اور حیرانی سے اسے سارا ماجرا سنایا۔
خدا نے جواب دیا
“پرندے کے نصیب میں درخت نہیں تھا۔ تاہم، جب تم نے اسے میرا پیغام دیا اور اپنی زندگی کی تمام اچھی چیزوں کے لیے خدا کا شکر گزار ہونے کو کہا، تو پرندے نے ان الفاظ کو عملی جامہ پہنایا۔ اس نے اپنی زندگی کی ہر ممکن چیز کو یاد کیا اور پاک دل سے اللہ کا شکر ادا کیا۔ میں پرندے کے شکر گزاری کے جزبہ سے متاثر ہوا اور میں نے اس کی تقدیر بدل دی اور اس کے لئے صحرا میں درخت اگا دیا۔”
سبق: ایک چھوٹی سی شکر گزاری ہماری زندگی بدل سکتی ہے۔اپنی زندگیوں میں شکر کو ایڈ کریں پھر دیکھیے گا زندگی گلزار کیسے بنتی ہے اور اللہ پاک اپنی نعمتوں کے خزانوں کا رخ کس طرح آپکی طرف فرماتا ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.