باڈر ٹریڈ رحمت یا زحمت

0 133

افغانستان اور پاکستان کے سفارتی تعلقات متاثر اور عوام دونوں طرف سے تکلیف میں مبتلا ہیں جبکہ *تہران میں پاکستان کے سفیر کا اہم اقدام ، انتہائی اہم و معنی خیز قرار دیا جاسکتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران و پاکستان کے دو مشترکہ سرحدی گزرگاہوں کو چوبیس گھنٹے کے لئے کھول دیا*ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے تہران میں پاکستان کے سفیر نے دو مشترکہ سرحدی گزرگاہوں (میرجاوہ – تفتان چاغی) اور (ریمدان – گبد / مکران گوادر) کو چوبیس گھنٹے کے لئے کھول دیا ہے۔تہران میں پاکستان کے سفیر “محمد مدثر ٹیپو،، نے ایکس سوشل نیٹ ورک پر اپنے آفیشل صارف اکاو¿نٹ پر لکھا کہ پاکستان نے (میرجاوہ – تفتان) اور (ریمدان – گبد ) سرحدیں چوبیس گھنٹے کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو پورے ہفتے دن و رات کھلی رہیں گی- مدثر ٹیپو نے اس فیصلے کو ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لئے ایک بڑا قدم قرار دیا اور مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان اشیائ کے تبادلے میں اضافے اور اقتصادی مواقع میں توسیع کا مشاہدہ کریں گے۔ میرجاوہ سرحدی گذرگاہ ، ایران اور پاکستان کے درمیان سب سے اہم سرحدی گزرگاہ ہے جو میرجاوہ شہر سے بارہ کلومیٹر اور پاکستان کے تفتان شہر سے متصل اور زاہدان سے نواسی کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ گذرگاہ ، ریلوے لائن کے ذریعے ایران کو پاکستان اور برصغیر سے ملاتی ہے- یہی سے پاکستان ترکی تک آر سی ڈی روڈ و ریل دونوں ذرائع سے رسائی رکھتا ہے -ریمدان بارڈر کراسنگ یا ریمدان – گبد بارڈر ، ایران اور پاکستان کے درمیان ایک سرحدی گزرگاہ ہے۔ یہ سرحدی ٹرمینل ، صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر دشت میں واقع ہے اور چابہار بندرگاہ سے ایک سو بیس کلومیٹر دور ہے۔ پاکستان کی سمت سے، اس کراسنگ کا فاصلہ گوادر بندرگاہ تک، تقریباً ستر کلومیٹر ہے- واضح رہے کہ تیئیس اپریل2024ئ کو ایران کے شہید صدر جناب محمد ابراہیم رئیسی کے دور پاکستان کے سرکاری دورے میں، دونوں ممالک نے مشترکہ سرحدوں کی امن و سلامتی کی اہمیت اور توانائی کے منصوبوں سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس دورے میں ایرانی گیس پائپ لائن اور مشترکہ اقتصادی ترقی کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لئے سرحدوں کی کمرشلائزیشن میں مدد کے لئے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے اور دوطرفہ تجارت کے حجم کو دس ارب ڈالر تک بڑھانے پر زور دیا گیا ، اور ایران کی چابہار اور پاکستان کی گوادر بندرگاہوں کے درمیان مستحکم اور تعمیری روابط کے سلسلے میں اتفاق کیا گا۔ایران اور پاکستان کے درمیان نو سو کلومیٹر سے زائد مشترکہ زمینی سرحد ہے- پاکستان ، اشیا کی برآمد اور درآمد کے لحاظ سے ہمیشہ سے ایران کے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک رہا ہے۔ ایران کے ساتھ اس خوش کن خبر کے مطابق بامقصد و نتیجہ خیز پالیسیاں تشکیل دینے کا میکنزم و باڈر ٹریڈ کے سہولیات فراہم کئے جارہے ہیں جبکہ اس کے متبادل افغانستان کے متعلقہ سرحدی علاقوں میں روزگار اور انسانی زندگیوں کی مجموعی بصیرت افروز خیالات اور ضروری ورکنگ کا راستہ اختیار نہیں کیا جارہا ہے افغانستان اور ایران کے درمیان مسائل و معاملات کے باوجود حالیہ برسوں میں بہت تیزی سے ترقی و توانائی لانے کے لئے مواقعوں کے استعمال پر پیش رفت ہوئی ہیں جبکہ پاکستان و افغانستان کے درمیان مثبت و توانا کردار ادا کرنے کے بجائے عام آدمی کے مفادات و حقوق کا گلہ گھونٹنے کا زہریلے سانپوں کی گردش جاری ہیں جنھیں فوری طور پر معاشرتی و سماجی شعور کی بیداری اور انسانی نفسیات و ذہانت کے فروغ کے لئے مثبت و توانا کردار ادا کرنے میں بدلنا چاہیے اس وقت چمن ( پاکستان کا سرحدی شہر) اور سپین بولدک ( افغانستان میں سرحد سے متصل شہر) کے درمیان آمد و رفت اور تمام تر تجارتی و سفارتی اور اخلاقی و معاشرتی رابطے 245 دنوں سے مکمل طور پر منقطع ہوئے ہیں حکومت پاکستان نے دونوں سرحدی علاقوں میں تجارت اور آمد و رفت کے لئے الگ الگ متضاد روئے پیدا کر رکھے ہیں رواں ہفتے میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب کوئیٹہ ڈیولپمنٹ محاذ کیو ڈی ایم کے زیر اہتمام جماعت اسلامی کے میزبانی میں پالیسی ڈائلاگ و جرگہ کا انعقاد کیا گیا اور صوبہ کے نمائندہ جرگہ نے صوبائی و مرکزی حکومتی و انتظامی پالیسیاں ناکافی و نا اہلی کی بنیاد پر عوامی مفادات کے تحفظ کے بجائے عام آدمی کے ساتھ ظالمانہ سلوک قرار دیتے ہوئے مسترد کردئیے ہیں اور محدود و احساس برتری کے تباہ کن روئے کے بجائے ٹکنکل بنیادوں پر وسیع و فراخدلانہ سفارشات کے لئے ضروری قرار دیا کہ ڈائلاگ و بصیرت سے کام لیا جائے اور مسائل و مباحث بند گلی سے نکالنے کا راستہ اختیار کیا جائے تو صوبائی حکومت بری طرح متاثر ہوئی اور پھر حق دو تحریک کے قائد و ممبر صوبائی اسمبلی جناب مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے چمن دھرنے و صوبائی اسمبلی میں واضح طور پر معاشرتی ترقی و توانائی لانے کے بجائے اشرافیہ اور مافیاز و نااہل نمائندوں کے گھٹ جوڑ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر عام آدمی کے مفادات و حقوق کی تحفظ و دفاع کے لئے ضروری قانون سازی نہیں کی گئی تو عوامی ایکشن کمیٹی گوادر سے چمن تک چالیس لاکھ لوگوں کو اکھٹا کرکے صوبائی اسمبلی و کوئٹہ کا گھیراو¿ کیا جائے گا، جبکہ صوبائی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ بلوچستان جناب سرفراز بگٹی صاحب نے کمزور موقف اختیار کرتے ہوئے واضح طور پر معاشرتی و معاشی ترقی کے برعکس اشرافیہ اور عسکری قیادت کے یکطرفہ بیانیہ اور پروپیگنڈا کی حمایت کی گئی اور اسمبلی فلور پر حقائق واضح کرنے کے بجائے عام آدمی کے مفادات و احساس دردمندی کے بجائے پروپیگنڈا حاوی رہا اس لیے ضروری ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اپنی پوزیشن واضح فرمائیں اور عالمی قوانین و ضوابط کے مطابق باڈر ٹریڈ کے سہولیات فراہم کرنے کے لئے وہی موقف اختیار کیا جائے جو ایران و پاکستان کے درمیان مثبت و توانا اثرات و نتائج کے ساتھ جاری ہے ادھر چمن پرلت و دھرنے کے مطالبات کے حق میں عوامی حمایت اور معاشرے کے مشکلات و تکالیف کے خاتمے کے لئے وسیع عوامی تحریک منظم اور نتیجہ خیزجدوجھد کے لئے ,,عوامی ایکشن کمیٹی،، کا پہلا باضباطہ اجلاس عبدالمتین اخوند زادہ کی زیر صدارت جماعت اسلامی کے صوبائی دفتر الفلاح ہاو¿س میں منعقد ہوا-اجلاس میں چمن پرلت /دھرنے کے
پرامن حل پر مشاورت ہوئی شرکائ نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف چمن کا نہیں بلکہ پورے بلوچستان کا ہے ، پورے صوبے کے حالات کشیدہ ہیں ، حالیہ دنوں میں دکی ، سنجاوی ، ڑوب اور ہرنائی و چمالنگ میں بدامنی کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ، ماشکیل میں دھرنا جاری ہے ، جبکہ گوادر و قرب و جوار کا محاصرہ باڑ لگانے کے ذریعے کیا جار ہا ہے جبکہ سرحدی علاقوں میں غیر یقینی کی صورتحال پر عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے لہذا یہ
سب حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ایک بھر پور عوامی مزاحمت منظم کی جائے تمام شرکائ اس بات پر متفق تھے کہ امن کے قیام اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے ایک بڑی عوامی تحریک شروع کی جائے جسے عوام کی بھر پور تائید ہو اس مقصد کے لیے تمام طبقات جن میں علمائ ، وکلائ ، تاجر برادری و تاجر تنظیمات ، ٹرانسپورٹرز اور قبائلی مشران اور تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کئے جائیں گے سیاسی قائدین اور جماعتوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لہذا انہیں بھی اعتماد میں لیکر ان کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی _ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھا کر پیش رفت کے لئے حکومت سے بھی رابطہ کیا جائے گا – رابطوں کو مزید منظم کرتے ہوئے آئندہ بھر پور اجلاس منعقد کر کے اگلا لائے عمل طے کیا جائے گا اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ کوئٹہ و مضافات اور پورے سرحدی علاقوں میں روزگار اور
انسانی زندگیوں کی حفاظت و پاسبانی کے لئے ضروری ہے کہ ٹکنکل بنیادوں پر وسیع ورکنگ اور تھینک ٹینک قائم کیا جائے اور باڈر ٹریڈ کے وسیع مواقع سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے عالمی قوانین و ضوابط کی بنیادوں پر پاسداری کی جائے اجلاس میں پاکستان و ایران کے درمیان تین چار مقامات میر جاوہ تفتان اور گبد و ریمدان بارڈرز پر بھرپور مواقعوں دستیاب بنانے کے لئے چوبیس گھنٹے باڈر اوپن کرنے و سہولیات فراہم کرنے کا بہترین فیصلہ قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا گیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.