وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا سیاحت کو فروغ دینے کا عزم

0 314

بلوچستان کے سیاحتی مقامات دنیا بھر اپنی شہرت رکھتے ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان کے سیاحتی مقامات دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے کشش کا باعث ہیں صوبہ نہ صرف قدرتی حسن رکھتا ہے بلکہ یہاں قدیم تہذیبوں اور تاریخی عمارتوں کے آثار بھی ملتے ہیں عالمی یوم سیاحت کی مناسبت سے اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دنیا بھر میں سیاحت ایک صنعت کا درجہ اختیار کر
چکی ہے اور ہمیں بھی سیاحت کے فروغ اور صوبے کے سیاحتی مقامات کو بھرپور انداز سے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے صوبے کے سنگلاخ پہاڑوں اور ساحلوں میں بے پناہ خوبصورت سیاحتی مقامات موجود ہیں بلوچستان کا ہنگول نیشنل پارک جو نہ صرف صوبے کیلئے خوبصورتی کی علامت ہے بلکہ یہاں موجود جنگلی حیات بھی دنیا بھر میں نایاب تصور کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ کے لیے صوبہ کے پرکشش
ساحلی مقامات پر سیاحوں کی سہولیات کے لیے ریزوٹس اور جیٹیز بنا رہی ہے صوبہ کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کے لئے مری قلات شاہی تمپ اور مائی پیر جیسے سیاحتی مقامات کا تحفظ کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ سیاحوں کو صوبہ کی جانب راغب کرنے کے لیے محکمہ سیاحت کی جانب سے مختلف اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں تاکہ یہ اہم شعبہ بھی صوبہ کی معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سیاحوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی اور ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کی بلوچستان آمد سے صوبے کا مثبت عکس بھی اجاگر ہوگا۔دوسری جانب صوبائی درالحکومت کوئٹہ کا نواحی علاقہ ہنہ اوڑک طوفانی بارشوں اور سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ، وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف جلد از جلد ہنہ اوڑک کا دورہ کرکے مقامی ذمہ داروں ، اور رہائشیوں کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے احکامات صادر فرمائیں۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سندھ اور بلوچستان کے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کررہے ہیں مگر صوبائی درالحکومت کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاس سے چند منٹ کے فاصلے پر واقع ہنہ اوڑک مےں جو تباہی کی داستان رقم ہوئی اسے دیکھنے کیلئے تا حال تشریف نہیں لائے ، ہنہ اوڑک میں مکانات تباہ ، روڈ ، مساجد تباہ ہوگئے کاروبار زندگی مکمل طور پر معطل ہوگیا۔ کروڑوں روپے باغات بہہ گئے۔ نقصانات کا تخمینہ سوچوں سے زیادہ ہے۔۔ یہاں کا خ±وب ص±ورت فطری ماحول، جا بجا دل کش و دل فریب مناظرسیّاحوں کو دعوتِ نظارہ دیتے ہیں۔ خ±وب ص±ورت لینڈ اسکیپ سے سجی سرزمینِ بلوچستان کا ہر رنگ حسین، ہر ر±وپ سہانا ہے۔کہیں مٹیالے، کہیں س±رخی مائل تو کہیں سرسبز پ±رہیبت و پ±روقار پہاڑ اِستادہ ہیں، تو کہیں ح±سن بکھیرتی وادیوں میں قدرتی درّے، غار اور شفّاف پانی کے گنگناتے چشمے دیکھنے والوں کو مبہوت کردیتے ہیں۔ ۔تاہم، یہاں کے دل کش و پ±رکشش مقامات حکومتی عدم چسپی اور بے توجّہی کا شکار ہونے کے باعث اپنی اہمیت کھوتے جارہے ہیں۔ محکمہ سیّاحت اگر ان تاریخی و سیّاحتی مقامات پر خصوصی توجّہ دے، تو م±لکی و غیرملکی سیّاحوں کی امدورفت سے یہاں کے مقامی ابادی کو نہ صرف روزگارکے ذرائع میسّر اسکتے ہیں،یہاں وادءزیارت کوئٹہ سے 125 کلو میٹرد±ور، سطح سمندر سے 8850 فٹ کی بلندی پر واقع تاریخی اہمیت کی حامل یہ وادی جونیپر (صنوبر) کے جنگلات کے حوالے سے بھی خاص شناخت رکھتی ہے۔ یہاں دنیا کا دوسرا بڑا صنوبر کا قدیم جنگل واقع ہے، جو 12600 ایکڑ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا
شمار دنیا کے قدیم جنگلات میں ہوتا ہے۔ اس جنگل میں 5 ہزار سال پرانے درخت بھی موجود ہیں۔کوئٹہ کی ہنّہ جھیل برف باری کے بعدکا دل کش منظر پیش کرےی ہے۔نیز، اس خ±وب ص±ورت وادی کے چپّے چپّے پر متعدد تفریحی مقامات ہیں، جب کہ اس کی ایک خاص وجہ شہرت، قائد اعظم ریزیڈنسی بھی ہے، جہاں بانءپاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے زندگی کے اخری ایّام گزارے۔ قدرتی اب شاروں، سرسبز باغات اور پ±رفضا اب و ہوا کی وجہ سے یہ وادی کسی جنّت سے کم نہیں۔ یہاں جونیپر پارک، جناح پارک، پراسپیکٹ پوائنٹ، باباخرواری کے مزار، چکور تنگی اور مخمل تنگی سمیت دیگر مشہور تفریحی مقامات ہیں۔ موسمِ گرما میں بھی وادی کا موسم انتہائی خوش گوار رہتا ہے، جب کہ موسمِ سرما میں دسمبر کے اغاز ہی سے برف باری کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہاںسیّاحت کی غرض سے انے والوں کے لیے جدید سہولتوں سے اراستہ ہوٹلز اور متعدد ریسٹورنٹس قائم ہیں

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.