حکومت کا ائمہ مساجد سے تعاون یا معاشی استحصال؟

0 8

از قلم۔ مولانا پیر فیضان چشتی

عصر کی نماز ادا کی تو سلام و مصافحہ کے بعد مسجد انتطامیہ کمیٹی کے صدر صاحب کہتے کہ ایک خوشی کی خبر سن کے آیا ہوں سوچا آپکو بتا دوں میں نے کہا کہ ضرور بتائیے کہتے وزیر اعلی پنجاب نے 65 ہزار مساجد کے امام صاحبان کو وظیفہ دینے کا فیصلہ کیا ہے میرے دماغ میں گزشتہ دنوں کی صورتحال گھومنے لگ گی ساتھ میں یہ خیال آیا کہ ضرور یہ اسلام پسند اور امن پسند شہریوں پر ظلم و ستم کے بعد عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کا بہانہ ہے۔
پھر جب تفصیلی خبر دیکھی تو ہیڈ لائنز یہ تھی کہ محلے سے چندہ اکٹھا کر کے امام صاحب کو ادائیگی کرنا نا مناسب ہے۔*وزیر اعلی پنجاب
یہ بات سن کر بہت اچھا لگا کہ حکومت نے بھی ائمہ مساجد کے بارے سوچا لگتا اچھا پیکج دیا جائے امام مسجد کو اب محلے سے چندہ کرنا بند کر دیا جائے گا مساجد کے بلز اور امام صاحب کی تنخواہ ساتھ میں مسجد کا تعمیراتی کام بھی گورنمنٹ کروائے گی لیکن جب تفصیل سامنے آئی کہ دس ہزار ماہانہ امام صاحب کو وظیفہ ادا کیا جائے گا تو سوال یہ ہے کہ کیا دس ہزار میں امام صاحب کی ضروریات زندگی مثلا گھر کا راشن، رشتہ داروں میں خوشی غمی پر آنا جانا، بچوں کی فیس اور اخراجات، گیس بجلی کا کے بلز، دیگر معاملات زندگی پوری ہو سکیں گی؟
میری نظر میں یہ دس ہزار وظیفہ ائمہ مساجد کے مقام اور انکی خدمات کے ساتھ مزاق کرنا ہے اور اسکا نقصان ایک یہ بھی سامنے آئے گا جس کی طرف محترم بشیر نعمانی صاحب نے توجہ دلائی کہ وہ مقتدی جو اپنے ائمۂ کرام کے ساتھ ذاتی طور پر تعاون کرتے ہیں، اب یہ کہہ کر ہاتھ کھینچ لیں گے کہ “حکومت تو وظیفہ دے رہی ہے”۔ خیبرپختونخوا میں یہی طرزِ عمل دیکھنے میں آیا، جس کے باعث مساجد کے ائمہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہوئے۔
آفسوس تو اس بات پر ہے کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے صفائی کرنے والے بغیر تعلیم یافتہ چالیس ہزار لیں اور امام مسجد دس ہزار واہ رے وزیر اعلی پنجاب تیرا انصاف واہ واہ!!!!!!
میری نظر میں جس طرح گورنمنٹ باقی اداروں کے ملازمین کی میرٹ پر تنخواہیں ادا کرتی اسی طرح ائمہ مساجد کو بھی ادا کرے ورنہ یہ دس ہزار کی بھیک اپنے پاس رکھے گورنمنٹ کے دس ہزار سے ائمہ مساجد کو کوئی فرق نہیں پڑھنا بلکہ نقصان ہی ہونا ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.