,,,, پریس ریلیز،،،

0 12

مجلس فکر و دانش علمی و فکری مکالمے و پاک افغان ایران اقبال ڈائیلاگ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فورم کے چیئرمین عبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ خطے میں بدلتے ہوئے حالات و رحجانات اور ترجیحات میں
نئی جہتیں و ضابطےطئے کرنے کے لئےنئے بیانیے کی تشکیل و تعبیر نو افغانستان کی ضرورت ہےیکم اگست 2021ءبروز اتوار کے آن لائن مکالمے و جرگے میں
افغانوں کے اندرونی استعداد و توان کی صلاحیت و ظرفیت کو بڑھانے کے لئے نئے پیراڈایم میں
ترقیاتی اپروچ اور منصفانہ سماجی شعور کی احیائ کے لئے
OUT OF THE BOX
یعنی روایتی انداز و اطوار اور حریفانہ کشمکش سے تمام پارٹیوں و اداروں اور فریقین و ممالک کو اوپر اٹھ کر سوچنا
چاہیے تاکہ مفید اور تعمیری ماحول میں انسانیت کی
رہبری و دانش مندی جیسےوسیع الاطراف سیاسی وسماجی اورمعاشی و معاشرتی
ترقی کے لئے ممکنہ طور پر
افغانوں کی مدد کیا جاسکے،،
عبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ
لمحہ موجود میں افغانستان تاریخ کے سب سے نازک ترین لمحات سے گزر رہا ہے انگریزوں سے لے کر روسیوں تک سب کو مار بھاگنے اور شکست دینے پر افغان اپنے آپ نازان رہتے ہیں امریکہ نیٹو و ایساف کے لگ بھگ 40 سے زائد ممالک کے افواج کے مقابلے میں اقوام متحدہ اور تمام عالمی اداروں کے تعاون و اشتراک کے باوجود افغان عوام، سابقہ مجاہدین و طالبان اور مزاحمت کاروں کے مقابلے میں دست بردار ہونا ظاہری و اصولی طور پر کھلم کھلا شکست ہی قرار دیا جاسکتا ہے اگرچہ روس و امریکہ دونوں کے عالمی استعماری جنگوں میں افغانوں کے تمام فریقین کی رضامندی شامل نہیں تھی اور تمام فریقین بشمول پوری قوم کو چالیس سالوں سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ افغانوں نے جرآت و بہادری سے 21 ویں صدی کے معروف و مغرور سپر پاور امریکہ نیٹو افواج کو شکست دے کر ہیٹ ٹرک مکمل کرلی ہے اور پے در پے تینوں بڑے سپر پاورز کے آگے نہیں جھکے لیکن افغانوں کے لئے اصل سوال و چیلنج بیرونی سے زیادہ اندرونی معاملات میں غیر لچکدار رویئے ہیں جو جدوجھد و جستجو اور آزادی و دانش مندی کا رجحان فروغ دینے کے بجائے پوری قوم کو بند گلی میں دھکیلنے کی مشق بار بار کراتے ہیں اور بند گلی بھی وہ جس کے نکڑ پر ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ آگ و بارود کی دینا آباد ہو،،
عبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ
آج 21 ویں صدی کے 21 ویں سال میں جب اقوام عالم اور پوری انسانیت کرونا وائرس کی ہولناکیوں اور معاشی و سماجی افراتفری سے بد حال و پریشان حال ہیں افغانوں کے گھر شانتی و دانش مندی اور خوشحالی و سکون کے بجائے آپس میں الجھے ہوئے مسائل پر لچکدار رویئے نہ ہونے کے باعث عوام الناس اور مرد و خواتین اور بچوں و بچیوں کے ساتھ ساتھ تہذیبی اور ثقافتی ورثہ و تاریخ و حال بھی بدترین منظر نامے کے انتظار میں کانپ رہےہیں جس نے بلاشبہ افغان عوام کا جینا حرام کر دیا گیا ہے اور مسجد و بازار اور سکول و دانش گاہ سب کچھ کو آگ کے نذر ہونے کی بدترین صورتحال درپیش ہیں سو ¿ال یہ ہے کہ آخر افغان قوم و ملت کیسے سکون کا سانس لیں اور ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ممکن ہو سکے،،، جس کے لئے نئے اپروچ اختیار کرتے ہوئے اس مکالمے و جرگے میں تین نکاتی ایجنڈا و میکنزم پیش کرتے ہیں،
نمبر 01،،
جنگ کے شعلوں کے درمیان مشترکات و آبرو مندی کے رحجانات و ترجیحات تلاشِ کئے جائیں اور عملی حرکت و تغیر کے ذریعے قوم کو مشکلات و بربادی سے نکالا جائیں،،
02
!!!
وقت کی دوپہر میں
چیلنج سمجھ کر موجودہ قیادتوں پر اعتماد و بھروسہ کرتے ہوئے امن و آشتی کا ارمان و منزل حاصل کرنے کی کوشش کی جائے،
ھمسایوں سمیت تمام فریقین بشمول چین و ترکی اور پاکستان و ایران سے حالات کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش میں بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے،،
03!!!
سب سے اہم افغانوں کو اسٹیس کو برقرار رکھنے کا ہمیشہ نقصانات رہے ہیں اب وہ اپنے اپنے موقف سے اوپر اٹھ کر قوم و ملت کے لئے نئے پیراڈایم میں ترقیاتی اپروچ اور منصفانہ سماجی شعور کے لئے سوچیں تب ہی وہ ممکنہ طور پر حالات جہاں سے عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہوئے اپنی سوسائٹی کی تعمیر و ترقی کے لئے نئے بنیادوں کو تلاش کرنے کی ضرورت کا ادراک و احساس کرسکیں گے اور یہی دراصل انسانیت کی رہبری و دانش مندی کی آرزو مندی کے لئے افغانوں کو آباد و شاد رکھنے کا کلیہ و فارمولا ثابت ہوسکتا ہے
01 یکم اگست 2021ئ بروز اتوار سہ پہر 05:00 بجے تا 07:00بجے شام اس بین الاقوامی سطح پر منعقدہ آن لائن کانفرنس و جرگے اور مکالمے و ڈائلاگ میں مظلوم افغان عوام کے لئے نئے عمرانی معاہدے اور سماجی ترقی و خوشحالی کے لئے قابل عمل اور قابل قبول لائحہ عمل تشکیل دیا جاسکے گا
عبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ
ہم اس موقع پر پاکستان و افغانستان اور ایران و چین و ترکی کے دانشورانہ روایت و فکری اثاثے سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس طویل و کثیر الجہتی اور انسانوں کی عزت و آبرو مندی کو پامال کرنے والے بے رحمانہ سلوک جنگ سے افغان سوسائٹی کو سنجیدگی سے نکالنے کے لئے اپنے تجربات و مشاہدات اور خدمات و دانش مندی اخلاصِ نیت اور انسانوں کی تکریم و تعظیم کے لئے بروئے کار لاتے ہوئے اپنے نسلوں کی بقا ءاور جغرافیہ کو محفوظ کرنے کے لئے بروئے کار لایا جائے میڈیا کے روشن دماغ تجزیہ و تحقیق نگار اور شاعر و ادیب کے ساتھ ساتھ علمائ کرام و مفکرین سے دست بستہ درخواست گزار ہیں کہ وہ حالات کی نزاکت اور افغانی سوسائٹی کی بنیاد و اساس کو فعال و متحرک کرنے کے لئے اس تاریخی موقع پر اپنے خیالات و نظریات سے علی الرغم انسانی احترام، آزادی اور قیام امن و بحالی تکریم انسانیت کے لئے ثمر بار سرگرمیوں میں ہاتھ بٹائیں

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.