ڈپٹی کمشنر کوہلو قربان مگسی کے بڑے اقدامات سامنے آگئے
کوہلو ۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوہلو قربان علی مگسی نے اپنے آفس میں حالیہ بارشوں کے نقصانات کے اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ کوہلو میں حالیہ بارشوں میں اللّٰہ کے فضل و کرم سے اتنے نقصانات نہیں ہوئے جتنے دیگر اضلاع میں رپورٹ ہوئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کوہلو نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات کے اعدادوشمار بتاتے ہوئے کہا کہ بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ کوہلو میں بارشوں کی وجہ سے 4 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں جن میں 3 افراد کا تعلق سب تحصیل تمبو جبکہ ایک کا تعلق تحصیل ماوند کے علاقے تاتھیوالی سے تھا حالیہ بارشوں میں زخمیوں کی تعداد 10 جن میں 6 بچے 4 بڑے افراد شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے علاؤہ حالیہ بارشوں میں کل 1430 خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ جزوی طور پر 723 گھروں و مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 59 گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
اس کے علاؤہ 109 واٹر بور 2636 سولر پینلز، 1442 ایکڑ کپاس ، 1472 ایکڑ سبزیات جبکہ 70 ایکڑ پر مشتمل ٹماٹر کے فصلات تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں مزید پریس بریفنگ میں کہا کہ پورے ضلعے میں مال مویشی کے جو نقصانات ہوئے ہیں ان میں سے 1488 بکریاں ، 1340 بھیڑ جبکہ 70 گائے شامل ہیں ۔
اس کے علاؤہ زمینی رابطوں کے حوالے سے انفارمیشن شئیر کرتے ہوئے کہا کہ کوہلو ٹو پژا ، تھدڑی کی سڑکیں خراب ہوئے جن کو رپیپر کرنے کی ضرورت ہے جبکہ کوہلو ٹو ڈی جی خان اور دوسرے چھوٹے بڑے لنک روڈز کو جزوی طور پر نقصانات پہنچے ہیں۔
انہوں نے امدادی کارروائیوں اور ریلیف پیکجز کے بارے میں میڈیا کو بریف کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مون سون بارشوں کی وجہ سے پی ڈی ایم نے ہمیں جو امدادی سامان بھیجے ہیں ان میں 150 شلٹر ٹینٹ، 150 کچن اسیسریز پیک جبکہ 2.5 میلن کے فنڈ ملا ہے۔
ان امدادی سامان میں سے 112 ٹینٹ و دیگر ضروری ایشاء ہم نے مختلف علاقوں میں متاثرہ خاندانوں کو پہنچائے ہیں جبکہ باقی ایمرجنسی کے لیے رکھے ہیں کیونکہ بارشوں کا سلسلہ ابھی تھما نہیں اللّٰہ نہ کرے کوئی ایسی ایمرجنسی صورتحال پیش آئے تو استمعال کریں گے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ اہم خطرے کی جگہیں تھیں جہاں ہم نے ہنگامی بنیادوں پر پروٹیکشن وال مزید مظبوط بنائے تاکہ وہاں پانی کی زیادہ بہاؤ کو وجہ سے کوئی جانی و مالی نقصان نہ ہو جن میں کلی نہال خان کے قریب پروٹیکشن وال، مدینہ کالونی پروٹیکشن وال ، اور تحصیل ماوند میں کنج ندی کے پروٹیکشن وال کو بھی مزید مظبوط کیا۔
اس کے علاؤہ کوہلو ٹو سبی ہائی وائے میں سوناری کے مقام پر ایک بلڈوزر مستقل طور پر کھڑا کیا تاکہ مون سون کے سیزن میں بارشوں کی وجہ سے سڑک کسی بھی وقت ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے بند نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کو ہم نے مذید فنڈز کے لیے درخواست کیا ہے تاکہ جن لوگوں کے جانور یا فصلات تباہ ہوئے ان کا ازالہ جلد سے جلد کیا جائے اور میری تمام تر ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ انہیں کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
اور آخر میں ڈپٹی کمشنر کوہلو قربان علی مگسی نے حکومت بلوچستان کی جانب سے بارشوں میں شہید افراد کے لواحقین کو دس دس لاکھ کا چیک بھی دے دیا گیا۔