نکلے تھے شہسوار بن کر

0 174

دو دن پہلے میرے ایک دوست غصہ سے میرے پاس آئے اور بولے عمر بھائی” تو یہ ہے آپ کے تعلیمی نظام کی اوقات….جہاں گدھوں کی سرپرستی میں کنویں کے مینڈک تیار ہورہے ہیں” میں اچانک سہم گیا اور ڈر کر بولا “جناب کیا بات ہے آپ اتنے غصہ میں کیوں ہیں؟ اور کیا آپ اپنے الفاظ پر نظرثانی کرسکتے ہیں؟ آپ نے پوری قوم کے اساتذہ کو گدھے اور جانور قرار دے دیا ہے” وہ میرے طرف دیکھ کر بولے” آپ تو جانتے ہیں ہم اس طرح کی باتیں کھلے عام کرنے کے بجائے بند کمروں میں کرتے ہیں، میں آپ کے علاوہ اس طرح کے موضوع کسی اور کے ساتھ چھیڑتا بھی نہیں مگر آج بچوں اور سکول انتظامیہ نے مجھے بد دل کردیا، میرا سکول میں پہلا دن تھا، مجھے دسویں جماعت میں پڑھانے کے لئے بھیجا گیا تو میں نے بچوں کو پہلے ہی دن فزکس پڑھانے کے بجائے سائنس کی مکمل تاریخ اور اہمیت سے آگاہ کرنا مناسب سمجھا، مثلا میں نے بچوں سے پوچھا ” اس کلاس میں سائنس سٹوڈنٹس بھی ہیں اور آرٹس بھی….آپ مجھے بتائیں آخر کیا وجہ ہے کہ زیادہ تر سائنس سبجیکٹس رکھتے ہیں؟ آرٹس والوں نے آرٹس کیوں رکھی ہے؟ سائنس آخر ہے کیا؟ اس کی بنیادیں کب پڑیں اور آج دنیا میں سائنس کی کیا اہمیت ہے؟ فزکس کی پڑھائی آپ کو زندگی میں کیا فائدہ دے گی؟ کیمسٹری کا علم آپ کی زندگی میں کونسا انقلاب برپا کرے گا؟” بچے حیرت سے میری طرف دیکھنے لگے جیسے میں نے ان کے سر پر ہتھوڑے برسائے ہوں! اگلے دن پرنسپل نے مجھے کمرے میں بلاکر کہا” آپ کو بچوں سے اس طرح کے اوٹ پٹانگ سوال کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ ان کا سلیبس مکمل کروائیں اور چپ چاپ ان کے کام پر توجہ دیں ویسے بھی یہ دسویں جماعت کے طلباءہیں، ان کو اس طرح کی چیزوں سے غرض نہیں، یہ چیزیں یونیورسٹی میں بھی سکھائی جاسکتی ہیں، ہمیں آپ کی دوبارہ شکایت نہ ملے” میں نے اس سے کہا” تو اس میں ان کو گدھا قرار دینے کی کیا ضرورت ہے؟ آخر سلیبس بھی تو پورا کرنا ہے؟” وہ دکھی لہجے میں بولا” دیکھو بھائی: یہ بچے قوم کے بچے ہیں اور ان کے ذہنوں میں سوالات پیدا کرنا ان کو متجسس بنانا میرا اخلاقی فرض ہے، یہ لوگ پوری قوم کو دس سال پرانی فزکس کے رٹے لگوارہے ہیں اور نتیجہ خاک سے بھی بدتر، استاد نما یہ لوگ گدھے سے بھی بدتر ہیں بلکہ سکولوں میں ایک ایسی مخلوق موجود ہے جو قوم کے بچوں کی اخلاقی اور ذہنی قدروں کا جنازہ نکال رہی ہے، دیکھو یہ لوگ سائنس پڑھاتے ہیں مگر سائنس کی الف ب کا پتا نہیں، نہ تاریخ سے واقفیت، نہ سائنسدانوں سے شناسائی، پڑھا پریکٹس کیا نہیں جاتا، نمبرز کے لئے رٹے لگائے جاتے ہیں، سیلبس پورے کرنے اور پیپیرز کی تیاریاں کرنے کی جلدی ہوتی ہے اور بچے کی زندگی سے کھیلنے پر کوئی ندامت نہیں….بچے تو وہ بھی ایسے بن چکے ہیں جو سلیبس سے ہٹ کر کچھ دیکھنا نہیں چاہتے انھیں اگر کھوپوں سے پرے کی دنیا سے آشنا کروایا جائے تو ان پر غشی کے دورے پڑنے لگ جاتے ہیں اور عمر دیکھو تم تو جانتے ہو دنیا میں تعلیم کس کو کہتے ہیں؟ Education is the process of facilitating learning, or the acquisition of knowledge, skills, values, morals, beliefs, and habits. Educational methods include teaching, training, storytelling, discussion and directed research. Education frequently takes place under the guidance of educators; however, learners can also educate themselves. تو یہ ہے تعلیم کی تعریف اور اس کا ماحصل جو اخلاقیات پر مبنی ہو، جس میں مہارتوں پر کام کیا جائے، جو شخصی ترقی پر مشتمل ہو، جس میں ٹیچنگ، ٹریننگ، ریسرچ اور بحث ومباحثہ کو اہمیت دی جائے، جو عادتوں اور خیالات کو بہتر بنائے، خیر جن دونمبر ٹیچروں کو یہ تک پتا نہ ہو تعلیم کہتے کس کو ہیں؟ جو صرف سلیبس کے یار ہوں، جو بچوں کی شکایت پر کام کرنے والے کو کام کرنے سے روک دیں وہ اخلاقی مجرم بھی ہیں اور بچوں کی شخصیت کو مسخ کرنے والے گناھ گار بھی، اور یہ لوگ مجھے اس گناھ کی جانب دھکیل رہے ہیں جس میں یہ خود بلکہ پورا معاشرہ دھنسا ہوا ہے، اب تم خود بتاو میں ان کو کس منہ سے ٹھیک کہوں؟ ان کی کس بناءپر عزت کروں؟ میں کسی کے بچے کی ذمہ داری اپنے سر کیوں لوں؟ میں اگر بچے کو ذہنی طور پر بیدار نہیں کرسکتا تو کم ازکم اسے دائروں کا مسافر تو نہ بناو¿ں لیکن کہاں جن کے اپنے ذہن بند اور آنکھوں پر پٹی چڑھی ہو وہاں کچھ اور کیا سجھائی دے گا، میں نے کہا بھائی: میرے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں.
نوٹ: یہ ہمارے ایک دوست کی سچی آب بیتی ہے، وہ بیچارے قوم کے بچوں کو سنوارنے کا فریضہ سرانجام دینے نکلے تھے مگر امید ہے وہ بہت جلد راہ راست پر آجائیں گے، خدا ان کو مغالطوں اور گمراہیوں سے محفوظ فرمائے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.