الكلب المشنوق

0 82

“ایک بادشاہ سیر وتفریح پر نکلا جاتے جاتے کہیں دور ہی نکل گیا دیکھا تو ایک گھر ہے جس کا مالک سخی طبیعت کا تھااس نے بادشاہ کی خوب مہمان نوازی کی بادشاہ کی نظر جب پھانسی پر لٹکے کتے پر پڑی تو گھر کے مالک سے اس کا سبب پوچھا مگر مالک نے سبب بتانے سے انکار کردیا حالانکہ بادشاہ نے اس کو اپنا تعارف بھی کرایا ،بادشاہ نے دوسرے دن قاصد بھیج کر پھر پھانسی پر لٹکے کتے کا سبب پوچھا مگر وہ شخص پھر انکاری ہوگیا بادشاہ کو بڑا غصہ آیا تو اس نے اپنے داروغہ کو بھیجا کہ اس شخص کو گرفتار کرکے لےآؤ داروغہ نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کو دربار میں پیش کردیا۔بادشاہ نے پھر پھانسی لگے کتے کا سبب پوچھا مگر وہ پھر انکاری ہوگیا تو بادشاہ نے اب اس کو لالچ دے کر سبب پوچھنے کی کوشش کی تو اس شخص نے اس شرط پر کہ کچھ عرصہ بادشاہی اس کو دی جائے تو پھر سبب بتاۓ گا ،مگر بادشاہ نے اس ڈر سے کہ کہیں مستقل قبضہ ہی نہ کرلے انکار کردیا مگر پھر بھی بادشاہ کو سکون نہیں آیا حتی کہ پھانسی پر لٹکے کتے نے بادشاہ کی نیند تک حرام کردی آخر کار بادشاہ نے تنگ آکر اس شخص کو بلایا اور بادشاہی اس کے حوالے کردی جب وہ شخص بادشاہی کے تخت پر بیٹھا تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ تمام وزراء کو جیل میں ڈال دیا اور تمام بڑے بیورو کریٹس اورسیاست دان اور ججز اور اسٹیبلشمنٹ کو جیل میں بند کردیا اور ساتھ والے تمام ملکوں سے لین دین بند کردیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا جب اسکی مدت پوری ہوئی اور پرانے بادشاہ کو دوبارہ بادشاہی سونپی تو ملک میں امن امان تھا اور خزانہ بھی بھرا ہوا تھا تو اس اس نے پھانسی پر لگے کتے کا سبب بادشاہ کو بتایا کہ میں ایک آجڑی ہوں اور میرا بھیڑ بکریوں کا ریوڑ تھا اور یہ کتا ان کی حفاظت کے لئے تھا ،مگر میرے ریوڑ سے روزانہ ایک بکری غائب ہوتی تھی تو جب میں نے اسکا سبب معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ کتا حفاظت کرنے کی بجائے بکریوں کو خود بھی کھاتا تھا اور دوسرے کتوں کو بھی کھلاتا تھا تو میں نے اس کو بطور سزا اور عبرت کے پھانسی پر لٹکا دیا اور میرے کتے کی طرح ہی تیرے وزراء اور باقی لوگ خود بھی خزانہ لوٹتے تھے اور دوسروں کو بھی لٹاتے تھے جن کو میں نے بطور سزا جیل میں بند کردیا اور جب سے ان کو جیل میں بند ملکی خزانہ بھرگیا اورملک خوشحال ہوگیا۔
اقتباس من القصہ العربیہ موضوع الکلب المشنوق”
میں یہ واقعہ مِن عن یہاں شئیر کر رہا ہوں اسکے کچھ الفاظ انتہائی سخت اور بولڈ ہیں ، لیکن میری مجبوری ہے کہ اسے مجھے ایسے ہی لکھنا پڑے گا، کیونکہ اس میں سے کسی ایک لفظ کو بھی مجھے تبدیل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ لہٰذا اسکو ایسے ہی دیکھنا پڑے گا۔کوئی اسکو دل پہ نہ لے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.