ہماری زمینوں پر غیر قانونی الاٹمنٹ اور قبضہ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے، ماسٹر شاہ زمان کاکڑ

0 15

بوستان(اعظم بازئی)اہلیان واُولسی کمیٹی کلی خوشاب، اورکلی زرغون کے سیاسی و قبائلی رہنماوں ماسٹر شاہ زمان کاکڑ،حاجی غلام محمد کاکڑ،حاجی بازمحمد، عصمت اللہ، محمد اسماعیل،عالمگیر خان ودیگر نے محمد عمر قانونگو کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری زمینوں کو مسلسل تین مرتبہ غیر قانونی طور الاٹ کرنے کی کوشش کی گئی، یکم مئی 2018 کو مرحوم عزیزجان ولد مستک نے زوزنامہ باخبر کوئٹہ میں اشتہار بابت الاٹمنٹ شائع کرایا تھا اور زمینداروں وپتی داروں سے 15 یوم کے اندراندر اپنی اعتراضات جمع کرانے طلب کئے، جس پر اہلیان و اُولسی کمیٹی کلی خوشاب، کلی زرغون اور اہلیان کلی تورہ خلہ نے مورخہ 7 مئی 2018 کو تحصیلدار کاریزات خانوزئی کو تحریری طور اپنے اعتراضات پیش کئے جو کہ 1239 ایکڑ پر مشتمل تھے، جس سے 19 اگست 2018 کو کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے مراسلہ نمبر RB_5356_57 کے تحت حقائق، حالات اور واقعات کے برعکس، غلط اور ناجائز تصور کرکے الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے احکامات صادر فرمائے،
اس کے بعد مرحوم عزیز جان کے بیٹے نجیب اللہ نے3 مئی 2019 کو روزنامہ باخبر کوئٹہ میں نہردرگئی موضع زرغون کے نام سے الاٹمنٹ کیلئے دوبارہ اشتہار شائع کیا، جس کے بعد ہم اہلیان بالا نے دوبارہ الاٹمنٹ کی منسوخی کیلئے درخواستیں جمع کرائی جس کے 25 ستمبر2019 کو کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے دوبارہ منسوخی کے احکامات صادر فرمائے،اس کے بعد مسمی نجیب اللہ ولد عزیزجان نے تیسری مرتبہ نظرثانی کیلئے درخواست دی جس پر ڈی سی پشین نے کمیٹی تشکیل دی جس کی سربرائی اے ڈی سی آمین اللہ ناصر کو سونپی گئی جس پر کمیٹی آراکین نے بھی فیصلہ متعلقہ قبائل کے حق میں دیا،
انہوں نے کہا کہ اگر اس کے باوجود بھی متعلقہ محکموں نے نجیب اللہ اینڈ برادرز،کسی اور فرد یا فریق کو الاٹمنٹ یا این او سی دی تو اس میں ہم اہلیان و اُولسی کمیٹی کلی خوشاب،کلی زرغون اور کلی تورہ خلہ کے درمیان شدید لڑائی جھگڑے اور فسادات ہونے کا خدشہ موجود ہے، کیونکہ مزکورہ زمین میں کوئلہ یا دوسرے معدنیات کا نام و نشان تک موجود نہیں، بلکہ وہاں پر نمبری خسرات،چشمہ جات،پرانہ قبرستان، ڈیمز اور کاریز موجودہے جوکہ اج تک فعال ہے
مزکورہ زمین کو نجیب اللہ اینڈ برادرز زرعی استعمال اور غیر متعلقہ افراد کو آباد کرنے کی غرض سے استعمال کرنا چاہتا ہے، چونکہ مزکورہ زمین قوم کاکڑ کے زیلی شاخوں یاسین زئی، سارنگزئی،پانیزئی اور دمڑ کی مشترکہ ملکیت ہے جس پر کسی صورت نجیب اللہ اینڈ برادرز کسی فرد یا فریق کو الاٹمنٹ کی اجازت نہیں دینگے، الاٹمنٹ کی صورت میں مستقبل میں تصادم کا خطرہ ہر وقت لاحق ہوسکتا ہے، اور یہ زمین قومی شاہراہ این 50 سے تقریبا 7 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اور یہ لنک روڈ مختلف افراد کے زمینوں اور آبادی میں سے گزرتی ہے جس سے قریبی آبادی، باغات، فصلیں متاثر ہوسکتی ہے
انہوں نے کہا کہ ہم مشترکہ قبائل ایک بار پھر حکومت وقت اور اعلی احکام سے پرزور آپیل کرتے ہے کہ کسی بھی فرد کو مزکورہ زمین کی آلاٹمنٹ نہ کی جائیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.