31 مئی ! کوئٹہ کی کہانی کوئٹہ کی زبانی

0 60

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میری بساط خدا نے پلٹ دی ۔
۔۔…۔?۔۔۔۔۔شیخ فرید
میں بھی شہرِ بے مثال تھا ، لوگ مجھے “لٹل پیرس” کے نام سے جانتے تھے ، میری پْر شکوہ عمارات ، کھلی کھلی صاف و شفاف سڑکیں قابلِ دید تھیں ، میرے آس پاس پھلوں کے باغات اِس کثرت سے تھے کہ میں ثمرستان کہلاتا تھا ، میرے باشندے سکھ و چین سے ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے ، کہ اچانک 31 مئی کو میں مٹی کا ڈھیر بن گیا ۔ زندہ لوگ اور خوبصورت عمارتیں ملبہ تلے دب گئیں ۔ 89 سال قبل یٰعنی 31 مئی جمعرات کے روز آنے والے زلزلے نے مجھے صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ، مجھے یاد ہے
جب میرے بیشتر لوگ بند کمروں کے بجائے کھلے آسمان تلے سونے کو ترجیح دیتے تھے مگر بدقسمتی سے وہ رات عام راتوں کے مقابلے میں قدرے سرد تھی اور یہی وجہ تھی کہ بیشتر آبادی گھروں کے اندر چار دیواریوں میں سو رہی تھی۔
کہ 30 اور 31 مئی 1935 کی درمیانی شب گھروں کے اندر سونے والے میرے ان لوگوں کو سنبھلنے کی مہلت نہ بھی مل سکی، ایک خوفناک گڑگڑاہٹ سُنائی دی اور اس سے قبل کہ نیند سے ہربڑا کر اٹھنے والوں کو مہلت ملتی ، اور اپنے نیچے موجود زمین کی تھرتھرا اٹھنے کی کچھ وجہ سمجھ میں آتی، سب ملیا میٹ ہو چکا تھا۔
زمین نے رات تین بج کر تین منٹ پر ہلنا شروع کیا اور 45 سیکنڈز کے انتہائی مختصر دورانیے میں میری تمام عمارتیں زمین بوس ہو چکی تھیں۔ 7.7 شدت کا زلزلہ مجھے نیست و نابود کر چکا تھا۔
ماہر ارضیات اور بلوچستان یونیورسٹی کے سابق ڈین فیکلٹی آف ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر دین محمد کاکڑ کی تحقیق کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 7.7 تھی اور زیر زمین گہرائی فقط 30 کلومیٹر تھی۔
اگرچہ اس زلزلے کے آنے کے صحیح وقت کے حوالے سے متضاد آرا ہیں مگر محکمہ موسمیات کوئٹہ کے دفتر میں موجود ایک گھڑیال اس سلسلے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
یہ گھڑیال گذشتہ 89 برس سے خاموش ہے کیونکہ یہ اس المناک واقعے کی اہم گواہ ہے۔ 31 مئی 1935 کو صبح تین بج کر چار منٹ پر یہ گھڑیال اس وقت خاموش ہو گی تھی جب زلزلے کے باعث اسے نقصان پہنچا۔ بعد ازاں اسے چلانے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ اسے محفوظ کر لیا گیا کیونکہ اس پر وہ وقت محفوظ ہے جب مجھ پر قیامت ٹوٹی تھی ۔ یاد رہے کہ ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کیپٹن ایل اے جی پنہے کی رپورٹ میں زلزلے کا وقت تین بج کر تین منٹ بتایا گیا ہے۔
ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کی رپورٹ کے مطابق اس زلزلے سے قبل کسی بڑے تنبیہی جھٹکے (Warning Shocks ) کے حوالے سے کوئی مخصوص اطلاع نہیں تھی مگر بعدازاں زندہ بچ جانے والے کئی لوگوں نے میڈیا اور دوسرے جگہوں پر جو بیانات دیے ان کے مطابق انھوں نے بڑے جھٹکے سے پہلے مختلف تاریخوں میں زلزلے کے چھوٹے چھوٹے جھٹکے محسوس کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق چونکہ مجھ پر سال بھر معمولی جھٹکے آتے رہتے ہیں اس لیے ان چھوٹے جھٹکوں کا خاص نوٹس نہیں لیا گیا۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ رات کو آنے والے بڑے جھٹکے کے بعد بہت سے آفٹر شاکس آئے مگر ان میں نقصان نہیں ہوا کیونکہ میری کوئی عمارت مکمل حالت میں موجود ہی نہ تھی جو ان آفٹر شاکس کے نتیجے میں متاثر ہوتی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک دو افراد نے حکام کو یہ بھی بتایا کہ زلزلے کے دن انھوں نے گھروں میں پرندوں اور دیگر جانوروں کو عام دنوں کی بے چینی کا اظہار کرتے دیکھا اور اسی لیے انھوں نے جانوروں کے کمروں کے دروازے کھول دیے تاکہ وہ باہر نکل سکیں۔
امریکی ارضیاتی ادارے کے مطابق زلزلے کا مرکز شمالی مجھ سے (کوئٹہ) 60 کلومیٹر اور افغانستان کے جنوب مشرقی شہر قندھار سے 185 کلومیٹر دور تھا، جس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی، اس زلزلے میں ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 170 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے . زلزلے صرف نا گہانی آفتوں کا باعث ہی نہیں بنتے بلکہ ہماری اُن کوتاہیوں کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں جو ہم اپنی عمارتوں کی تعمیر میں برتتے ہیں کیونکہ یہ وہ عمارتیں ہی ہیں جو زلزلے کی صورت میں نقصان کا پیش خیمہ بنتی ہیں ۔ کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ زلزلے لوگوں کو نہیں مارتے، عمارتیں مارتی ہیں۔
اس کی ہم کئی ایک واضح مثالیں 2005 زلزلے میں مارگلہ ٹاور اور دیگر بہت سی عمارتوں کے منہدم ہونے کی صورت میں دیکھ چکے ہیں اور ماضی میں ایسی ہی تلخ مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ 31 مئی 1935ء کو مجھ پر جو قیامت ٹوٹی اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں آنے والے زلزلے( جو زیادہ شدت کے ساتھ 68 میل لمبی اور 16میل چوڑی پٹی میں آیا تھا) کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے ملتی ہے ۔ پہلی رپورٹ جو دی گئی تھی اس کے مطابق بیس ہزار افراد دب کر ہلاک ہوگئے تھے – ان حالات میں مجھےسیل کردیا گیا اور باہر کے افراد کی آمد پر پابندی لگادی گئی – عام افراد کو مہیا کی گئی ریڈیو کی لہروں کا نظام درہم برہم ہو گیا – ساری عمارات اور مکان تباہ ہو کر زمیں بوس ہو گئے ۔ مستونگ روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب کوئٹہ نوشکی ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ دور تک بڑی بڑی دراڑین پڑ گئی تھیں – حکومت کو پانچ مقامات پر ریلوے لائں تبدیل کرنی پڑی – خان قلات کی رہائش گاہ بھی تباہی سے ہم کنار ہوئی – اس کے علاوہ کانسی ، تری اور پڑنگ اباد میں بھی کافی اموات ہوئیں – پڑوسی ملک افغانستان میں اسپن بولدک اور قندھار کی کمزور عمارات کو نقصان پہنچا
اس زمانے کی انگریز حکومت نے لوگوں کی بہبود کی خاطر کوئٹہ سے بھیجے جانے والے خطوط کی مفت ترسیل کے احکامات جاری کئے
انگریز حکومت نے لوگوں کی مالی حالات دیکھتے ہوئے زلزلہ سے بچاؤ کے لحاظ سے مختلف اقسام کے مکانات کی تصریحات بنائیں اور اسی کے مطابق مکانات بنانے کی اجازت دی – مکانوں کی تعمیر کے دوران ا امر کا خیال رکھا گیا کہ ہر مکان کی بیرونی دیوار دوسرے مکان کی دیوار سے چھ انچ کےفاصلے پر ہو تاکہ اگر ایک مکان کی دیوار زلزلے سے لرزنے لگے یا اس میں خم پیدا ہو جائے تو ملحقہ مکان بالکل محفوظ رہے
۔۔۔۔۔۔۔?۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.