پنجگور میں عطائی دو نمبر جعل لیڈی ڈاکٹروں کی بھرمار انسانی قیمتی جانوں کیساتھ شب و روز کھیل جاری

0 9

پنجگور(تحریر چاکرصدیق بلوچ) پنجگور میں عطائی دو نمبر جعل لیڈی ڈاکٹروں کی بھرمار انسانی قیمتی جانوں کیساتھ شب و روز کھیل جاری. اس کھیل کو روکنے والا کوئی نہیں. پنجگور میں نا تجربہ کار (دائی) عطائی جو خود کو ڈاکٹر کہتے ہیں ان کے ہاتھوں سے کئی حاملہ خواتین در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں. سننے میں آرہا ہے کہ آج پنجگور کے شہر تارآفیس چتکان میں نوزائیدہ بچے پیدا ہوئی اور اسے آکسیجن کی ضروت پڑی لیکن عطائی ناتجربہ کار(دائی) ڈاکٹر نے بچے کو آکسیجن دینے کے لیے سول ہسپتال ریفر کیا گیا. جہاں ہسپتال میں پہچنے سے پہلے بچے اپنے خالق حقیقی کو پیار ہوگیا. مختلف مثبت زرائع کے مطابق صرف یہ بچہ نہیں ہے بلکہ سالاں سال میں ایسے کئی واقعات رونما ہوتے جارہے ہیں. کئی حاملہ خواتین عطائی ڈاکٹروں کے ہاتھوں میں ناکارہ ہوگئی ہیں بلکہ انہی خواتین کو ہمیشہ کے لیے بچوں سے محروم کیا گیا. گزشتہ مہینے ایک حاملہ عورت کے اپنے رشتہ داروں نے خود اپنی مریضہ کو چیک اپ کرانے کے لیے لے گیا تھا تو عطائی نا تجربہ کار ڈاکٹر کے پاس گئی تھی تو وہاں عطائی نا تجربہ کار ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اسکی بچہ نہیں بڑ رہی ہے لہذا اسکو سینٹو سین انجکشن کی ضرورت ہے اسکے بچے کو ضائع کردیں گے تو عطائی نا تجربہ کار(دائی) ڈاکٹر نے سینٹوسین کا انجکشن لگائی اور بلڈ جاری ہوا بچے کو ضائع کردیا. پھر اسی حاملہ خواتین نے اپنی زندگی کو بچانے کی خاطر جاوید ہسپتال کی طرف رخ کیا وہاں سینئر لیڈی ڈاکٹر نے علاج کرتے ہوئے بلڈ روک دی گئی تھی اور بعد میں رشتہ داروں نے مزید علاج معالجہ کے لیے کراچی لے جایا گیا. افسوس اس امر کی ہیکہ والدین خوشی کیساتھ عطائی (دائی) نا تجربہ کار ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں کہ آج ہم والدین بننے جارہی ہیں. شومیے بخت عطائی ڈاکٹر نہ خوفِ خدا رکھتی ہیں نہ شرم دنیا اپنے چار پیسے کی خاطر کلینک کھول دی گئی ہے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں پیسے بٹورنے کی خاطر انسانی قیمتی جانوں کیساتھ کھیل رہی ہیں. کھبی بچے ضائع ہوجاتے ہیں کھبی ماں زندگی اور موت کی کشمکش ہوتے ہی زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں. انہی خواتین اپنے پیاروں سے جدا ہوتے ہیں گھر میں کہرام مچ جاتی ہے جسکی پہلے سے بچے بچیاں ہیں تو وہ بچے اور بچیاں ہمیشہ ماں کے سائے سے محروم ہوجاتی ہیں. اور کھبی ماں بھی بچوں سے محروم ہوجاتی ہیں. زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اس بات پر کوئی مسلمان انکاری نہیں ہے لیکن باز اوقات قصداً موت کو دعوت دی جاتی ہے جس طرح ہمارے پنجگور میں آجکل دور حاضر کے عطائی (دائی) ڈاکٹروں کے ہاتھوں میں کئی پیاری سی معصوم بچے موت کی منہ میں چلی جاتے ہیں اور کئی ماں بھی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں. ایک تو ہمارے اندر شعور نہیں ہے یا ہم دانستہ طور پر تجربہ کار اور نا تجربہ کار لیڈی ڈاکٹرز،، عطائی ڈاکٹر کی فرق کو نہیں جانتے ہیں یا جانتے ہیں بلکہ چار پیسے کی بچت کی خاطر بڑے سے بڑا رسک اٹھاتے ہیں. لہزا اب پنجگور کے عوام کو عطائی ڈاکٹر اور تجربہ کار اسناد یافتہ لیڈی ڈاکٹر کی پہچان ضروری ہے. پیسہ تو پیسہ ہوتا ہے لیکن انسانی زندگی دوبارہ نہیں ملتی ہے. محکمہ صحت پنجگور اور ضلعی انتظامیہ کو پنجگور میں عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا چائیے انکی اسناد کو چیک کریں انکو ٹیسٹ و انٹرویو لیا جائے. بغیر سہولت کے کس طرح کلینک چلا رہی ہیں.

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.