زندگی کا مقصد سمجھئے

0 12

الیاس محمد حسین
ڈاکٹرموہن سنگھ دیوانہ کمال کے پنجابی شاعر ہیںانہوں نے کیا خوب کہا ہے
جیون اے دکھ ونڈانا۔۔ تے اگ بیگانی سڑنا
مرنے دی خاطر جینا ۔۔ تے جینے دی خاطر مرنا
جیون اے ڈھینا ڈھونا جیون اے کھینا کھونا
جیون اے ٹردے رہنا۔۔ تے کوئی پڑا نہ کرنا

ایک دوسرے کے کام آنا ایک اچھے معاشرہ کی تشکیل کا بنیادی نقطہ ¿ آغازہے د نیا کے ہر مذہب۔۔ہر نبی اور درددل رکھنے والے نے انسانیت کی بلا امیتاز خدمت کی تلقین کی ہے دین اسلام تو ہے ہی سراسر انسانیت کی فلاح کا مذہب ہے بدقسمتی سے انتہا پسندوںنے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے پاکستان میں تو یہ صورت ِ حال مزید ابتر ہوگئی ہے حالانکہ ملکی ترقی و خوشحالی کےلئے آج ہمیں ایک قوم بننے کی ضرورت پہلے سے بھی کئی گنا زیادہ ہے
اخوت اس کو کہتے ہیں ،کانٹا چبھے جو کابل میں
عرب کا ہر پیرو جواں بے تاب ہو جائے

بدقسمتی سے ہم ایک قوم کے تقاضوں پر پورے نہےں اترتے مجھے تو محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سب ہجوم ہیں، تماشائی ہےں ایک دوسرے کو دکھ میں مبتلا دیکھ کر خوش ہوتے رہتے ہےں اس کیفیت سے باہر نکلنے کےلئے کچھ نہےں کرتے۔ ہم قوم اس وقت بن سکتے ہےں جب لالچ ، بغض،مفادپرستی کے خول سے باہر آجائیں ہم الحمداللہ مسلمان ہےں اور مسلمان کا سب سے بڑا وصف اخوت ہے،ہمدردی ہے، ایثار ہے، قربانی ہے اور محبت ہے اور یہی پیغام خلیل اللہ ہے ،ہرعید کا درس ہے اور نبی معظم ﷺ کی تعلیمات۔۔۔ جن کو ہم نے فراموش کردیا ہے
درددِل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کےلئے کم نہ تھے کروبیاں

ہر شخص بالخصوص ہر مسلمان میں یہی جذبہ کارفرما ہونا چاہےے کہ جس سے جتنی ہو سکے دکھی انسانیت کی خدمت ضرور کرے بلا شبہ اللہ رب العزت دلوں کے بھید جانتے ہےں ہمیں خلوص نیت سے بے لوث خدمت کرنا ہوگی ۔۔ہردل کی خواہش ہونی چاہےے کہ میں کسی کے کام آسکوں۔ بے بس ،اپنے سے کمزور اور معاشرہ کے کچلے اور سسکتے لوگوںکی دعائیں لینا ہے اس میں کوئی سیاست ، کوئی نمائش نہےں ہونی چاہےے یہ عمل صرف اور صرف اللہ اور اس کے پیارے حبیب ﷺ کی خوشنودی کےلئے ہے کیونکہ اللہ تبارک تعالیٰ نے انسان کو ایثار و محبت کےلئے منتخب کیا یہی جذبہ اس کی تخلیق کی بنیادہے ہم تو پھر مسلمان ہےں جن کو حکم ہے کہ اگر تمہارا ہمسایہ بھوکا ہے تو تم کامل مسلمان نہےں ۔ وہ سفید پوش ،غریب ،مستحقین ، نادار لوگ جو کم وسائل کی وجہ سے بے بس ہوگئے ہیں

وہی عظیم جس نے نئی شمع اک جلادی
کے مصداق معاشرہ کے مخیر اور دل میں درد رکھنے والے ان کی بلا امتیاز خدمت کریں میرے خیال میں یہی عبادت ہے۔حکومت بھی یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ پاکستان کا اصل مسائل میں بڑا مسئلہ غربت ہے کہا جاتا ہے کہ بیشتر جرائم غربت کی کھوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ملک کے طول و عرض میں ہونے والی چوری ،ڈکیتی، راہزنی اور قتل و غارت کی بڑی وجہ غربت ہے جس سے سماجی ناانصافیاں اور دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہے ایک عالمی ادارے کی خصوصی رپورٹ میں کہا گیا ہے اس وقت پاکستان میں 75%سے زائد شہری خط ِ غربت سے بھی نیچے زندگی بسرکررہے ہیں خود ہمارے وزیر ِخزانہ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے جب تک ٹیکس چوری ختم نہیں ہوتی ملک معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوگا۔امام غزالی ؒ فرماتے ہیں اللہ تبارک تعالیٰ کو عا جز لوگ بہت پسندہیں لیکن دولت مند عاجز انتہائی پسند ہیں جو لوگ مرنے کے بعد زندہ رہنا چاہتے ہیں انہیں چاہےے کہ صالح اعمال کریں کیونکہ درخت اپنے پھل اور انسان اپنے عمل سے پہچانا جاتاہے۔ہماری کوشش اور خواہش ہ بس یہی ہونی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ سفید پوش ،غریب ،مستحقین ،

ار لوگ جو کم وسائل رکھتے ہےں کی خدمت کریں تا کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ راضی ہو سکے یہی ایک مسلمان کا مقصود و حاصل ہے اللہ ہماری عاجزی کو قبول کرے (آمین) پاکستانی قوم کے بہتر مستقبل کےلئے حکمران تمام غیر ضروری اخراجات بند کردیں ،سرکاری وسائل کا بیدردی سے استعمال بند کیا جانا ضروری ہے ،ہر شطح پر سادگی کو فروغ دیا جائے ۔تمام سرکاری محکموں کے خرچ کو کنٹرول کرنے کےلئے نئی حکمت ِ عملی وضح کرنے کی شدید ضرورت ہے، وفاقی اورتمام صوبائی حکومتوں میں مختصر کابینہ بنائی جائے وزیروں مشیروں کی فوج ظفر موج ،

سرکاری محکموں میں نت نئی گاڑیاں خریدنا اور بیوروکریسی کا اختیارات سے تجاوز ہمارے ملکی وسائل کو چاٹ رہا ہے یہ وسائل عوام کی فلاح و بہبودپر خرچ کئے جائیں تومعاملات کافی بہتر کئے جا سکتے ہیں اس کےلئے درد ِدل رکھنے والی بااثر شخصیات کو آگے آکر فعال کردار ادا کرناہوگا زندگی اللہ تبارک تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے انمول نعمت ہے اس کی قدر کیجئے زندگی کے رموز و اسرار سمجھنے کےلئے ان اوگوںپر توجہ دیجئے شفقت کریں جومسائل سے دوچارہیں ان کا خیال کیجئے جو بے بس ،بے کس اور مجبورہیں کسی مستحق کی بے لوث خدمت روحانی خوشی عطاکرتی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
انپے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.