بلوچستان اور ایڈز کا عالمی دن

0 65

آج یکم دسمبر عالمی ایڈ ز ڈے کو بلوچستان بھر میں بھرپور انداز میں منایا جار ہا ہے ایڈز کا عالمی دن ہر سال نئے موضوعات کے ساتھ منا یا جاتا ہے ۔اس سال 2023کا موضوع ©”کمیونٹیز کو قیادت کرنے دیں“ ہے۔ بلوچستا ن سمیت دنیا بھر میں آج سمینارز اور واک منعقدکئے گئے ۔ اس دن کا منانے کا مقصدایڈز کے وائرس کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے اور ان لوگوں کے یاد میں یہ دن منا یا جاتا ہے جو ایڈز کی وجہ سے وفات پاچکے ہیں RED RIBBIONعالمی سطح پر ان لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی علامت ہے جو ایڈز میں مبتلا ہوچکے ہیں اب یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ایڈ ز کیا ہے تو بڑا سادہ سا جواب ہے کہ ایڈز ایک لاعلاج مر ض ہے اور جان لیوا ہے ایڈ ز کے وائر س کو Human immono Deficiency ایچ آئی وی یعنی انسانی جسم کی قوت مدافعت میں کمی کو کہا جاتا ہے ، ایچ آئی وی ایک ایسا وائر س ہے جس سے ایڈزکی بیماری لگ سکتی ہے یہ وائر س کچھ عرصے کے بعد جسم کی مدافعتی نظام کو تبا ہ کر دیتا ہے دفا عی نظام کے مفلوج ہونے کی صورت میں جو بھی بیماری انسان کی جسم میں داخل ہو جاتی ہے وہ سنگین اور مہلک صورت اختیار کر جاتی ہے اور موت ہی اس کا انجام ہوتا ہے ۔ آیئے اب یہ جانیںکہ کن چیزوں سے ایچ آئی وی وائرس ایک تندرست اور صحت مند شخص میں داخل ہو سکتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ ایچ آئی وی انسانی جسم میں تین طر یقوں سے داخل ہوسکتا ہے ۔ اول یہ کہ خون کے ذریعے یہ داخل ہوجاتا ہے جن میں غیر محفوظ انتقال خون، ایچ آئی وی سے متاثر ہ شخص کے استعمال شدہ سرنج سے ، آلات جراحی ، حجام کے استعمال میں آنے والے آلات ، کان ناک میں سوراخ کرنے کیلئے استعمال میں آنے والے آلا ت سے اور اسی طرح دانت نکلواتے وقت استعمال ہونے والے آلا ت سے داخل ہوتا ہے اور دوسرا طریقہ متا ثر ہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے میں یہ داخل ہوتا ہے جبکہ تیسرا ذریعہ کسی ایچ آئی وی متاثر ہ شخص سے غیر محفوظ جنسی تعلقات روا رکھنے سے ہوتا ہے تاہم صوبائی ایڈز کنٹرول پر وگرام محکمہ صحت بلوچستان نے اس وائر س کے انسانی جسم میں داخل ہونے کے اور بھی طریقے بتائے ہیں جس کے مطابق پاکستان اور بلوچستان میں انجکشن کے ذریعے نشہ لینے والے نشہ کے عادی افراد میں ایچ آئی وی کے وائر س زدہ افراد کی تعداد زیادہ ہے اور دوسرا بڑا ذریعہ مرد کے جنسی تعلقات جن میں ہجڑ ے بھی شامل ہیں جبکہ تیسرا بڑا ذریعہ خاتون کے ساتھ جنسی روابطہ قائم رکھنا ان سے بھی یہ وائر س جسم میں منتقل ہوسکتا ہے، اور بدقسمتی سے بلوچستان میں انجکشن کے ذریعے نشہ لینے والے افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور باالخصوص نوجوان نسل اس میں زیادہ مبتلا ہورہا ہے بلکہ اب توخواتین بھی انجکشن کے ذریعے نشہ لینے کی لت میں مبتلا ہیںدوسری جانب ۔ ایچ آئی وی کا وائر س جوکہ ایک خوف کی علامت بن چکا ہے اور اگر ہمیں پتہ چلے کہ فلاں شخص ایڈز کا شکا رہے تو نہ صرف ان کے قریب جانے سے گریز کرتے ہیں بلکہ ان سے ہر قسم کا تعلق اور سماجی تعلق بھی ہم ختم کر دیتے ہیں کیونکہ ہمیں یہ خوف محسوس ہوتا ہے کہ کسی متاثر ہ شخص سے اگر ہاتھ ملایا جائے یاان کے ساتھ اُٹھنا اور بیھٹنا شروع کیا تو ہم بھی ایڈ ز کا شکار ہوسکتے ہیں ، جبکہ اس طر ح کی بات بالکل دروست نہیں ہے ایچ آئی وی ایڈ ز کے متاثر ہ کسی بھی شخص کے ساتھ اُٹھنے یا بیھٹنے ، ان کے کھانسنے یا چھینکنے اور ہاتھ یا ان کو گلے لگانے یا ایک غسل خانے اور سوئمنگ پول میں نہانے ، چو منے اور ان کے ساتھ کھانا کھانے یا پھر ان کے برتن کو استعمال کرنے اور ایک ہی بیت االخلاءاستعمال کرنے سے یہ وائر س ہمارے اندر منتقل نہیں ہوتے ہیں بلکہ ہمیںیہ معلوم ہونا چاہیے کہ اپنے آپ کو ایچ آئی وی سے بچانے کیلئے یہ طر یقے اختیار کرسکتے ہیں کہ ہمیشہ انجکشن لگوانے وقت نیا سر نج استعمال کریں ، انتقال خون سے پہلے خون کا ایچ آئی وی سمیت دیگر امراض کا ٹیسٹ کروائیں اور ہم غیر محفوظ جنسی رویوں سے بھی پرہیز کریں اور اپنے آپ کو اپنے جیون ساتھی تک ہی محدود رکھیں ۔ ایچ آئی وی ایڈز بلوچستان کا بھی اسی طر ح کا مس¾لہ ہے جس طر ح ہم انہیں دوسروں کا مسلہ قرار دیتے ہیں بلکہ یہ کہنا بھی بے جاءنہ ہوگا کہ مغربی دنیا اور دیگر ممالک میں لوگ ترقی یافتہ ہونے اور جاننے کی بدولت اپنے آپ کو محفوظ کر رہے ہیں ان لوگوں کو بچپن بلکہ زمانہ طالبعلمی سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ ایچ آئی وی کیا ہے کس طرح پھیلتا ہے اور روک تھام کیسے ہوگا وہاں باقاعدہ تعلیمی نصاب میں اسے شامل کیا گیا ہے تاہم اصل مسئلہ تو ہمارا ہے کہ اول تو تعلیم کی شرح پاکستان لیول پر بہت ہی کم ہے اور بلوچستان میں تو شرح خواندگی پورے ملک کی نسبت انتہائی کم ترین ہے اس لئے ایچ آئی وی ایڈز کے حوالے سے عوام میں آگا ہی نہ ہونے کے برابر ہے بلوچستان ملک کا پسماندہ اور غریب ترین صوبہ ہے یہاں کے لوگ بڑی تعداد میں محنت و مزدوری کیلئے عرب ممالک اور ملک کے بڑے شہروں میں موجود ہیں ، ملک بھر میں ڈرائیور وں کی ایک بڑی تعد اد کا تعلق بھی بلوچستان سے ہے اس سلسلے میں بلوچستان ایڈز کنٹرول پرگرام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں لوگوں میں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاو ُ سے متعلق آگہی بہت کم ہے اور اس وقت ایڈ ز کنٹرول پر وگرام کے تحت بلوچستان میں 6اضلاع کو ایچ آئی وی ایڈز کے سلسلے میں ہائی رسک اضلاع قرار دیا گیا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ ان اضلاع میںایچ آئی وی کے وائر س سے متاثر ہ مریضو ں کی تعداد دوسرے اضلاع کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے ان اضلاع میں تربت ، گوادر ،کوئٹہ شیرانی ژوب اور نصیر آبا دشامل ہے
بلوچستان کے وہ علاقے جہاںپر کان کنی ، ڈرائیورز ، ماہی گیری سمیت دیگر شعبہ جات موجو د ہیں وہاں پر سر وے اور سکر نینگ کے تحت جو ر پورٹ سامنے آرہی ہیں اس کے مطابق یہ مہلک مر ض بڑھتا جا رہا ہے پی اے سی پی کے ایک رپورٹ کے مطابق گڈانی جیل میں ایک اویرنیس سیشن کے دوران جب 384قید یوں کی سکر نینگ ٹیسٹ کیا گیا تو ان میں سے 27قیدیوں کے ٹیسٹ پاز یٹو آئے ، یہ ایک المیہ ہے اور اس سے نمٹنا ضروری ہے مطلب ایچ آئی وی کا راستہ روکنا ہے اور لوگوں کو اس مہلک مر ض سے بچانے کیلئے انہیں ہرسطح پر آگاہی دینی ہوگی بلوچستان میںایک محتاط سروے کے مطابق خطرناک حد تک ایڈ ز کے مریضوں کی تعداد بڑھ چکی ہے اس سروے کے مطابق بلوچستان میں اب تک ایڈز میں مبتلا افراد کی جو تعداد سامنے آئی ہے وہ 2023میں کم و بیش 7000 تک متوقع ہے بلوچستان ایڈ ز کنٹرول پروگرام کے تحت اس وقت ان میں سے صرف رجسٹر ڈ ایڈ ز کی مریضوں کی تعداد 2358ہوچکی ہے جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 2053تھی رواںسال کوئٹہ میں1937 اور تربت میں 339رجسٹرڈ ہ ہو چکے ہیں اور یہ تعداد گزشتہ تین سالو ں کے نسبت بڑھ چکی ہے اور اس کے بڑھنے کی اہم وجہ ایڈز کنٹرول پروگرام کا کوئٹہ اور تربت سمیت بلوچستان بھر میںبھرپور اگہی مہم ہے جس سے ایڈز کے چھپے ہوئے مریضوں کا سامنے آنا اور ٹیسٹ کیلئے ذہنی طور پر تیار ہونا شامل ہے اور یہ تعداد بھی بڑھے گی کیونکہ ہمارا پہلا ہدف ان چھپے ہوئے مریضوں کا خوف ختم کرنا ہیں ۔ دوسر ی جانب ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق 100خواجہ سراﺅں کے ٹیسٹ کرنے پر 20خواجہ سراءایچ آئی وی پازیٹیو نکلے اور یہ صورت حال کوئٹہ کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ کیونکہ نوجوان نسل اور دیگر لوگ ان خواجہ سراﺅں کے پاس آتے جاتے ہیں حالانکہ گذشتہ سال 10خواجہ سراﺅں میں ایڈز پایا گیا تھا لیکن اس سال اس کی تعدادمیں اضافہ ہوا ہے ۔بی اے سی پی نے کوئٹہ اور تربت میں ایڈز تھر اپی سنٹر بھی قائم کئے ہیں جب کے مذید چھ سینٹربھی مختلف اضلاع میں کھولے گئے ہیں اس کے علاوہ ایڈ ز کنٹرول پروگرام کی اس سال شاندار کار کردگی میں اضافہ یہ بھی ہوا کہ بلوچستان کے 28اضلاع میں اسکریننگ سینٹرز بھی قائم کئے ہے جب کہ علاج و معالجہ پربھی وسائل خرچ کئے جارہے ہیں اس وقت ایڈ ز کے رجسٹر ڈ مریضوں کا فری علاج و معالجہ جاری ہے گو کہ پر اونشل ایڈ ز کنٹرول پر وگرام بلوچستان نے اپنی کا وشیںبہتر انداز میں پروگرام منیجر ڈاکٹر خالد الرحمان قمبرانی کی قیادت میں جاری ہیں ۔ بلوچستان میں ایچ آئی وی ایڈز پر فعال انداز میں کا م کر نے والے اداروں اور این جی اوز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور بلوچستان میں ایچ آئی وی ایڈ ز کے روک تھام اور عوامی آگہی مہم کو موثر انداز میں چلانے کیلئے بلوچستان ایڈز کنٹرول نیٹ ورک کا قیام بھی عمل میں لایا ہے جوکہ ایک قابل تحسین اقدام ہے علاوہ ازیں پی اے سی پی نے ژوب و شیرانی قلعہ سیف اللہ نصیر آباد گڈانی اور لسبیلہ میں میپنگ سٹڈی کا پر وگرام بھی شروع کیا ہے بلوچستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے مر یضو کی تعداد اگر ایک لحاظ سے ہمیں کم نظر آرہا ہے مگر بلوچستان ہائی ارسک پر ہے اور اس مرض کے مریضو ں کی نہ صرف تعداد بڑھ سکتی ہے بلکہ یہ مر ض مذید پھیل بھی سکتا ہے اور اس پر فوری تو جہ کی ضرورت ہے ایک مس¾لہ اور بھی ہے کہ ایچ آئی وی ایڈ ز میں مبتلا لوگوں کا خوف و ڈر کو ختم کرنے پر بھی کا م کرنا ہوگا کیونکہ ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلالو گ اپنی مر ض کو چھپا تے ہیں اور وہ کسی سے بھی رابطہ نہیں کر تے
ہیں دوسری جانب ہمارے رویے بھی ان مر یضو ں کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوتے ہیں لہذا ایڈ ز کے مریض سے نفر ت نہیں کرنا چائے ایچ آئی وی کے روک تھا م میں جہاں پر سماجی تنظمیںڈاکٹرز سماجی کارکنان اور دیگر طبقات اہم رول ادا کر سکتے ہیں تو وہاں پر علماءکرام کے موثر ترین رول کو ہم کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں عماءکرام کسی بھی مصیبت خاص طور پر
ایچ آئی وی ایڈز سے قوم کو بچا نے میں ہر اول دستے کا کام دے سکتے ہیں علما ءکرام متاثر ہ افراد ان کے خاندانوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں اور ان پر لگے بدنامی کے داغ دھونے اور ان سے نفر ت کے خاتمے کے لئے بھی بہت موثر ثابت ہوسکتے ہیں ، بلکہ عوام النا س کی اخلاقی اور سماجی اقدار پر اثر انداز ہوسکتے ہیں اور ایڈز سے بچاو ُ کیلئے لوگوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں صاف ستھر ی زندگی گزارنے کی تلقین کر سکتے ہیں روئے زمین پر اللہ کی محبت کے روحانی نمائندوں کی حثیت سے دینی رہنما ءایچ آئی وی ایڈز سے متاثر ہ لوگوں میں زیادہ عر صے تک جینے ، با معنی اور پروقار زندگی گزارنے کی لگن اور تمنا پیدا کر سکتے ہیں بجائے اس کے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ لعن طعن یا تقریق کا رویہ برتا جائے اور انہیں احساس ندامت سے زیر بارکیا جائے علماءکرام کی ہمدردی متاثر ہ افراد کیلئے اُمید ، علاج معلومات روک تھام اور دیکھ بھال کے راستے کھول سکتی ہے لہذا علماءکرام اس موذی مر ض سے انسانوں کو بچا نے اور جنسی بے راہ روی اختیار کرنے اور ایڈز کا موجب بننے والے دیگر ذریعے مثلا انجکشن کے ذریعہ نشہ ، انتقال خون کے دوران غیر تشخصیں شدہ خون اورغیر فطری جنسی تعلق سے لوگوں کو بچانے میں اہم ترین کردار ادا کرسکتے ہیں آج ایڈز کے روک تھام کے لئے عالمی دن کے موقع پر پاکستان بھر میں یہ دن منایا جارہاہے اوربلوچستان میں بھی صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کی خصوصی دلچسپی اور یونیسف ، عالمی فنڈ ، یو این ڈی پی کے سپورٹ کے ساتھ ، نئی زندگی اوربلوچستان ایڈز کنٹرول نیٹ ورک کے معاونت سے بھر پور انداز میں منایا جارہا ہے جبکہ اس سال25نومبر سے کوئٹہ سمیت بلوچستان میں ایڈز سے متعلق آگہی مہم کا آغاز ہوچکا ہے اس مہم میں صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے بینر تلے مرسی کور ، یونیسف ، رہنما ایف پی اے پی ، اساس پی کے ، دانش ، سوشیو پاک نے سرگرمیاں منعقد کی ہیںمیگاایونٹ کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی واک اور سیمینار وں کا اہتمام کیا گیا ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ بلوچستان میں اس مہلک بیماری کے خلاف موثر طور پر کام کاآغاز تو کیا گیا ہے مگر اب بھی اس کام کو دیر پاءاور کامیاب بنانے کیلئے عالمی اداروں اور خصوصی طور پر حکومت بلوچستان
کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔بلوچستان ایڈز کنٹر ول پروگرام کے صوبائی منیجر ڈاکٹرخالد الرحمان قمبرانی نے بتایا ہے کہ اس سال آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ ہم ورلڈ ایڈز ڈے کوئٹہ اور بلوچستان میں منانے جا رہے ہیں آگاہی کے لئے ہم نے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد عمل میں لایا ہے اس سلسلے میں پندرہ روزہ مہم صوبہ بلوچستان میں جاری ہے جس سے لوگوں کو ایڈز سے متعلق آگا ہی ملے گی ۔ صوبائی منیجر ڈاکٹر خالد الرحمن قمبرانی نے اس سلسلے میں بلوچستان ایڈز کنٹرول نیٹ ورک کے تمام پارٹنر ز کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.