رمیز راجانے اپنے دور میں عامر کوٹیم میں کیوں نہیں‌کھلایا؟

0 40

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین رمیز راجا نے فاسٹ بولر محمد عامر کو اپنے دور میں نہ کھلانے سے متعلق کہا کہ عامر کے لیے حارث اور شاہین آفریدی کو 12 واں کھلاڑی بنا دوں؟

نجی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو کے دوران میزبان نے رمیز راجا سے سوال کیا کہ عامر جیسے کھلاڑیوں کو آپ نے اپنے دور میں نہیں کھلایا جس کے جواب میں رمیز راجا کا کہنا تھا کہ عامر کی ٹیم میں شمولت سلیکشن پر ہے، میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، اگر عامر کو شامل کریں تو کیا شاہین کو 12 واں کھلاڑی بنا دیں یا پھر عامر کے لیے حارث رؤف یا وسیم جونیئر کو باہر بٹھا دیں، ہمارے یہ فاسٹ

بولرز 20 ، 20 اور 21 ، 21 سال کے ہیں جن کا فوکس کرکٹ کی طرف پر ہے نہ کہ سیاسی یا پھر ٹوئٹ کرنے کی طرف، یہ نوجوان لڑکے صرف کرکٹ کی طرف دھیان دیتے ہیں۔
اپنے دور میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی پرفامنس پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارے دور میں کمرشل ایکسیلنس کے طور پر ایک سال میں 5 ارب روپے کے قریب کرکٹ بورڈ میں جمع ہوا، وائٹ بال میں ہم نے ناقابل یقین پرفرمانس دکھائیں، ہم نے ایشیا کپ کا فائنل کھیلا جو بھارت نے نہیں کھیلا، بھارت کی بلین ڈالر انڈسٹری پیچھے ہٹ گئی، ان کے ہاں توڑ پھوڑ ہوئی، بھارت نے اپنے چیف سلیکٹر سمیت سلیکشن کمیٹی فارغ کردی، بھارت نے اپنا کپتان بدل دیا کیونکہ انھیں ہضم نہیں ہوا کہ پاکستان ان سے آگے کیسے نکل گیا۔

اپنی برطرفی پر بات کرتے ہوئے رمیز راجا کا کہنا تھا کہ جس دن مجھے برطرف کیا گیا میں اس دن آفس ہی نہ جا سکا، ان لوگوں نے ایسے حملہ کیا جیسے آیف آئی اے کا چھاپا پڑگیا ہو، میری اپنے آفس میں بھائی کی تصویر ہے، ورلڈکپ کی جرسی ہے یہ وہ چیزیں ہیں جن سے میرا جذباتی لگاؤ ہے، میں نے یہ چیزیں واپس مانگی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو واپس کرتے ہیں جو کہ ابھی تک نہیں کی گئیں۔

دوران شو میزبان نے سابق چیئرمین پی سی بی رمیز راجا سے سوال کیا کہ پی سی بی چیئرمین کی تنخواہ کیا ہے؟ جس پر رمیز راجا کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی کوئی تنخواہ نہیں لیتا جس پر میزبان نے سوال کیا کہ کچھ perks تھے؟ جس پر چیئرمین پی سی بی نے کا کہنا تھا کہ ہاں یہ کہہ سکتا ہوں کہ چیئرمین شپ میں گالیاں بہت ملتی ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.