جرمنی کے دارلحکومت برلن میں پہلی مرتبہ بے گھر افراد کی مردم شماری
برلن(این این آئی )جرمن دارالحکومت کی شہری انتظامیہ نے پہلی مرتبہ بے خانماں افراد کی مردم شماری شروع کر دی ہے۔ شبِ یکجہتی کے نام سے اس پیش رفت کا مقصد عملا یہ ثابت کرنا ہے کہ برلن شہر اپنے بے گھر باسیوں کو بھی اپنا حصہ سمجھتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برلن کی صوبائی حکومت اس منصوبے کے ذریعے یہ جاننا چاہتی ہے کہ شہر میں بے گھر افراد کی مجموعی آبادی کتنی ہے، تاکہ ایسے باسیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مزیدموثر اقدامات کیے جا سکیں۔لیکن ساتھ ہی شبِ یکجہتی کے نام سے اس پیش رفت کے دو دیگر مقاصد بھی ہیں، ایک یہ کہ بے گھر افراد کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں رہائشی سہولیات مہیا کی جا سکیں اور دوسرے یہ کہ عملی طور پر یہ بھی ثابت کیا جا سکے کہ یہ شہر ان باسیوں کو بھی اپنا حصہ سمجھتا ہے، جن کا کوئی گھر نہیں ہے۔برلن دنیا بھر میں یہ کام کرنے والا صرف تیسرا شہر ہے۔ جرمن صدر مقام سے قبل امریکا میں نیو یارک اور فرانس میں پیرس کی شہری حکومتیں بھی یہ کوششیں کر چکی ہیں کہ انہیں علم ہونا چاہیے کہ وہاں ایسے افراد کی درست تعداد کتنی ہے، جن کے سروں پر کوئی چھت نہیں ہوتی۔
[…] شماریات نے ساتویں مردم شماری کیلئے 5 ارب مانگ […]