ماہر نفسیات کا نفسیاتی موت

0 161

آج صبح واٹسایپ کے کے نیوز گروپوں پہ نظر کر رہا تھا کہ اچانک ایک ایسی خبر موبائل اسکرین پہ آیا جسے دیکھ کر میں چونک گیا۔ خبر اس طرح کی تھی کہ ملتان کے نشتر ہسپتال کی معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر اظہر حسین نے اپنی اکلوتی بیٹی ڈاکٹر علیزے ( یہ بھی ماہر نفسیات ہیں ) کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔اب اس دلخراش واقعہ کی بنیادی وجہ کیا ہے ؟ یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن ایک ایسے شخص کا خود کشی کرنا اور اس سے پہلے اپنے لخت جگر کو دولخت کرنا جو کہ دوسروں کو خودکشی سے بچانے کی کام کا ذمہ دار ہو۔ نہ صرف قابل افسوس ہے بلکہ قابل غور بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر خود کشی کی اصل وجہ ہمیشہ رزق کی تنگی کو گردانا جاتا ہے جبکہ یہ شخص سنینئر ترین ڈاکٹر تھا اور ڈاکٹرز کی آمدنی کتنی ہوتی ہے ؟ ہر کوئی جانتا ہے جب کہ اخراجات اتنی تھیں کہ ایک ہی بیٹی کا باپ تھا پھر بیٹی بھی تو ڈاکٹر تھی۔ لیکن
مال و دولت کی اتنی فراوانی کے باوجود اتنی سخت فیصلہ چہ معنی دارد ؟ درحقیقت بے سکونی ہی وہ بلا ہے جو عقلمندوں کو بے عقل، سمجھداروں کو بے سمجھ اور اپنوں کو بیگانہ بنا دیتی ہے۔ انسان کے وجود سے جب چین و سکون پرواز کرتی ہے تو اونچے اونچے محلات میں بھی قرار نہیں آتا۔ پھر انسان سکون کی تلاش میں سیاحت کرتا ہے، اعلیٰ ریستوران پہ کھانا کھاتا ہے، غرض کہ اپنی ساری جمع پونجی لٹا دیتا ہے۔
کہ کہیں سے یہ نعمت بے بہا ہاتھ آجائے۔ لیکن وہ آتا نہیں کیونکہ ہم لوگ اس چیز کو جہاں تلاش کرتے ہیں وہاں وہ ملتا نہیں ہے اور جہاں وہ ملتا ہے وہاں ہم اس کو ڈھونڈتے نہیں ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عطائ کردہ دنیاوی نعمتوں میں سے سب سے قیمتی شئے سکون ہے اور اس نعمت کے ملنے کا پتہ بھی اللہ تعالیٰ نے سمجھا دیا ہے کہ سکون صرف ذکر الٰہی میں ہے۔ یعنی کہ جتنا ذکر الٰہی کرتے رہو گے اتنی ہی زیادہ سکون ملے گا۔ پھر یہ علمائ ہی جانتے ہیں کہ ذکر کس کو کہتے ہیں اور اس کی کتنی صورتیں ہیں۔ مگر ذکر الٰہی سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے رب کا قرب ملتا ہے اور برے افعال و اعمال سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان جتنا گناہ کرتا ہے اتنا ہی اطمینان قلب کو کھو دیتا ہے اس کا ایک ہی علاج ہے کہ بندہ زیادہ سے زیادہ ذکر خدا میں مشغول رہے۔ لیکن ہم دوسروں کو جسمانی علاج کے لیے وہاں کا مشورہ دیتے ہیں جہاں اس بیماری کا علاج ہوتا ہے لیکن اس بیماری کے علاج کے بہت کم وہاں کا رخ کرتے ہیں جہاں پہ اس کی دوا موجود ہوتی ہے۔ آج کے اس آسان ترین دور میں ہر چیز گجر بیٹھے مل سکتی ہے اسی طرح علمائ اور صوفیائ بھی الحمد للہ ہر شہر و محلہ میں موجود ہوتے ہیں جو بے غیر کسی معاوضہ اور دنہاوی لالچ کے لوگوں کو ذکر الٰہی کے طور ،طریقے سمجھا کر ان کو رب سے جوڑ دیتے ہیں لیکن ہم ہیں کہ علمائ کی باتیں سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو خود کشی جیسے دردناک موت سے بچائے جو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی تباہ کردیتی ہے۔ آمین۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.